آزاد کا تعارف

آزاد “کی عمر ۶۳ سال ہو چکی ۔ زندگی کا آغاز اس جگہ سے ہوا جہاں جاگیر داری سے اپنا رشتہ کافی حد تک کمزور ہو چکا تھا۔ دوسرے لفظوں میں کہیے تو ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوا۔ آپ کی طرح زندگی کی مختلف بہاریں دیکھیں ۔ پڑھائی کی ، کھیلا کودا اور وہ وقت آن پہنچا جہاں تلاش روز گار میں اپنے ملک کو چھوڑ کر دوسرے ملک کا رخ کرنا پڑا ۔ کہنے کو بہت آسان مگر اپنی گلیوں ، ا پنی سر زمیں کو چھوڑنا بہت مشکل ثابت ہوا۔ جب جوان تھے تو ہزاروں خواب آنکھوں میں سجائے پھرتے تھے ۔ہر نیا دن انقلاب کا دن لگتا تھا۔ ہر روز حالات بدلنے کا وعدہ سنتے تھے ۔ مگر افسوس وہ نہیں بدلا ۔ معاشرہ دن بدن پستی کی طرف جاتا دکھائی دیتا ہے ۔ طاقتور مزید ظلم ڈھا رہا ہے اور مظلوم مزید پستا نظر آتا ہے ۔ ہر وقت یہ سوچ دماغ پر حاوی کہ جن چیزوں کے لیے ہم ہزاروں میل مسافت طے کر کے آئے کیا وجہ ہے کہ ہمارے اپنے ان سے مستفید نہیں ہو سکتے۔ بجلی ، گیس پانی کی قطاروں میں لگے ، ڈگریاں ہاتھ میں پکڑے کرپٹ وزیروں کے گھروں کے چکر لگاتے ہمارے نوجوان کب تک اپنی عزت نفس کی قربانی دیتے رہیں گے ؟کب تک ہم غلاموں جیسی زندگی گزاریں گے ؟ کب تک ہم ضمیر فروشوں کے ہاتھوں بکتے رہیں گے ؟
ا ن حالات کے پیش نظر اس بات کا اعادہ کیا کہ جو جوان نسل اب میرے ملک میں پروان چڑھ رہی ہے اسے “آزاد ” کی مدد سے شعور دینے کی کوشش کی جائے ۔ اسے اس قابل بنانے میں مدد دی جائے کہ وہ آنے والے وقت کا ہم سے بہتر مقابلہ کر سکے ۔ میں ہر گز یہ نہیں کہوں گا کہ وہ انقلاب لے آئیں گے ۔ مگر وہ اس قابل ضرور ہو جائے جہاں اس کے سوچنے سمجھے پر کسی قسم کی پابندی لاگو نہ ہو ۔ جہاں وہ حق مانگتے ہوئے یہ مت سمجھے کہ وہ بھیک مانگ رہا ہے ۔” آزاد ” صرف آزاد سوچ رکھنے والے اور اپنے حقوق کے لیے لڑنے والوں کی نمائندگی کرے گا ۔ آزاد ہمیشہ چاہے گا کہ

اظہار رائے کی آزادی ، میڈیا کی آزادی اور لوگوں کو معلومات کا حق ہو۔
ہمیشہ ایمانداری سے مکمل معلومات کو قارئین تک پہنچایا جائے ۔
واقعہ رپورٹ کرنے میں کبھی ایسی غلطی نہ کرے جس سے کسی کا نقصان ہو ۔
حقائق اور ذاتی رائے کے درمیان فرق کو واضع کرے ۔
معلومات حاصل کرنے کے لیے کوئی ایسا ذریعہ استعمال نہ کیا جائے جس سے لوگوں کا نقصان ہو۔
کسی کی ذاتی زندگی کو کسی طرح بھی نہ اچھالا جائے جب تک کہ اس کے اس عمل کا براہ راست عام لوگوں کو نقصان ہو رہا ہو۔
خبر کو سنسنی خیز بنانے کی ضرورت نہیں خبر کو اس کی اصل شکل میں پیش کیا جائے۔
جن ذرائع سے آپ کو معلومات ملے ان کی شناخت کو افشاء نہ کیا جائے ۔
ایسے تمام ہتھکنڈوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے جو خبر کے اصل حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کریں ۔
کوئی ایسا مواد شائع نہیں ہو گا جس سے کسی کے مذہب ، قوم، جنس یا محرومی کو نشانہ بنایا جائے ۔
کوئی ایسی تصویر شائع نہیں کی جائے گی جس سے کسی کی دل آزاری ہو ۔ مشلا حادثات اور جا بحق ہونے والے افراد کی تصاویر ۔

Share this:

Jobs: career@azadnews.co.uk
News: news@azadnews.co.uk
Enquiries: info@azadnews.co.uk
Tel: +44 7914314670 | 07588333181

Copyright 2015 © AZAD is a part of Indigo Marketing & Media Productions Ltd.
41 West Riding Business Center, BD1 4HR |08657270| England & Wales.