edit4

عرس مبارک امام الاولیاء خواجہ عالم قاضی محمد صادق رحمتہ اللہ علیہ المعروف حضرت صاحب گلہار شریف کوٹلی تحریر! عابد حسین چوہدری

اس بے حد و حساب وسیع کائنات کے ہر حسن و خوبی ، ہر مسرت و شادمانی اور قوت و توانائی کا سرچشمہ ذات و حدہ لاشریک ہے جو خوش بخت لوگ اپنے تمام تعلقات اور وابستگیوں اور اپنے سارے قلبی اور ذہنی رابطوں کو اس پاک ذات کے ساتھ اتنا مضبوط اور مستحکم کر لیں کہ انکے لبوں پر ہر دم اسی کا نام ہو ، انکے قلوب میں ہر گھڑی اسی کا ذکر ہو اور انکی روحیں ہر لحظہ اس کی یاد میں مصروف ہوں ،تو انکے دلوں کو اس مبارک عمل سے بے پناہ راحت ، بے حساب غیبی تائد اور بے شمار لیف و سرور عطا ہوتا ہے جسکے نتیجہ میں انکی ہستیاں سکون و اطمینان کے پیکر بن جاتی ہیں پھر اسکی رضا رب تعالیٰ کی رضا، انکے جسم و جان احکام خداوندی اور آقاء دوجہاں پیارے مصطفی کریم علیہ و التحیہ والعیلم کی لائی ہوئی شریعت کے سانچے میں اس طرح ڈھل جاتے ہیں کہ کردار و عمل اور گفتارو رفتارمنشائے خداوندی اور سنت نبوی کے مظہر بن جاتے ہیں ایسے سعادت مند افراد کو مخلوق خدا اولیاء کرام کے نام سے یاد کر تی ہے حضرت شیخ فرید الدین عطار نیشا پوری ؒ اپنی کتاب تذکرۃالاولیاء میں اولیائے کرام کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جسکا خلاصہ کچھ یوں ہے قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کے بعد سب باتوں سے بہتر اور اعلیٰ اولیائے کرام کی باتیں ہوتی ہیں کیونکہ وہ عمل اور حال کا نتیجہ ہوتی ہیں اولیاء کرام کی باتوں سے قرآن و حدیث کے منشاء کی تفسیر ہوتی ہے ۔
اولیاء کرام کی صف میں اعلیٰ مقام رکھنے والے خواجہ عالم ؒ المعروف جناب جی حضرت قاضی صادق صاحب ؒ کا آبائی گاؤں چیچیاں شریف موضع لدھڑ ضلع میرپورہے ۔خواجہ عالم ؒ قریشی الاصل اور صدیقی النسب ہیں آپ کا شجرہ نسب 39واسطوں سے امیرالمومنین حضرت ابو بکر صدیق رضی تک پہنچتا ہے ۔ آپ ؐخلیفہ اول حضرت صدیق اکبرؓکے بڑے فرزند حضرت عبد الرحمنؓ کی اولاد میں سے ہیں اسی خاندان کے چشم و چراغ حضرت قاضی فتح اللہ ؒ نے اپنے شیخ خواجہ محمد حسن روہتاسی کے فرمان اور حکم کے تحت میرپور کو اپنا مسکن بنایا آپ کی شادی مبارک سلطان فتح خان ؒ کی صاحبزادی سے ہوئی اسی رشتے سے صدیقی خاندان کی اولاد کا سلسلہ شروع ہوا حضرت قاضی فتح اللہ ؒ شطاری کی آٹھویں پشت خواجہ عالم حضرت قاضی ؐ صادقؒ ہیں خواجہ عالم ؒ کے والد محترم قبلہ عالم حضرت خواجہ محمدسلطان عالم سرزمین کشمیر کے کثیر الفیضان نقشبندی مجددی شیخ طریقت تھے آپ کے دامن تربیت سے وابستہ ہو کر ہزاروں لوگ دین و دنیا میں سرخرو ہوئے خواجہ عالم حضرت صادق نے 25دسمبر1921ء کو قبلہ عالم حضرت خواجہ سلطان عالم کے گھر آنکھ کھولی ۔ خواجہ عالم حضرت خواجہ محمدصادق ؒ 13سال کے تھے تو آپ کے شیخ طریقت والد محترم قبلہ عالم حضرت خواجہ محمد سلطان عالم ؒ دنیا سے پردہ فرما گئے آپ ؐ نے سلوک کی منازل اپنے مربی ، مرشد ، والد ماجد سلطان شریف و طریقت حضرت خواجہ قاضی محمد سلطان عالم نقشبندی مجددی ؒ کے زیر سایہ مکمل کی آپ کے والد ماجد کو عوام علاقہ مسیتی والے قاضی صاحب کہتے تھے ۔

خواجہ عالم حضرت خواجہ قاضی محمد صادق صاحب کے خاندان میں تعلیم و تربیت کا ایک مثبت عملی انداز چلا آرہا تھا۔آپ کا گھرانہ دینی و روحانی تعلیم و تربیت کا گہوارہ تھا آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت اسی ماحول ہوئی جس کی بدولت دین سے وابستگی ، علم سے لگاؤ اور روحانیت کا رجحان آپ کی شخصیت میں واسخ ہو گئے آپ کی تربیت سراپا تقویٰ و پرہیزگاری میں ہوئی اپنے والد ماجد حضرت قبلہ عالم خواجہ محمد سلطان عالم ؒ سے تعلیم کا آغازفرمایا پھر سکول داخل ہو گئے ابھی چھٹی جماعت میں زیر تعلیم تھے کہ والد گرامی حضرت قبلہ عالم ؒ کا سایہ ہمایہ 9مئی1934کو سر سے اُٹھ گیا اس حادثہ کی وجہ سے سکول کی تعلیم بھی منقطع ہو گئی اسکے بعد آپ نے دینی علوم کے حصول کی طرف توجہ فرمائی ۔فارسی کی تعلیم مولانا حکیم محمد میاں ؒ اور دیگر دینی تعلیم استاذ الاستاتذہ حضر ت مولانا محمدعبدللہ لدڑوی سے حاصل کی جو ہندوستان اور حرمین شریفین کے مشاہیر علماء و مشائخ سے فیض یافتہ تھے طریقت میں آپ قدس سرہ العزیز اپنے والد ماجد سے بیعت تھے انکے وصال کے بعد سلوک نقشبندیہ مجدوہ قبلہ عالم ؒ کے دو ماذون وحجاز خلفائے کرام حضرت بابا فوجداد خان ؒ اور حضرت مولانا ستار محمد ؒ سے کامل طور پر فرمایا اور اپنے والد ماجد اور مرشد گرامی حضرت قبلہ عالم ؒ کی مسند ارشاد و تلقین کے وارث بنے حضرت خواجہ عالم ؒ نے اپنی حیات مستعار کو تعمیر انسانیت کے مقدس مشن کے لیے وقف کر رکھا تھا یعنی انبیاء کارم کی بعثت کا جو مقصد تھا اسکی تکمیل میں دن رات کوشاں رہے حضرت خواجہ عالم ؒ دنیائے تصوف و طریقت کے آئمہ کرام میں سے ایک عظیم فرد تھے آپ کی سیرت و کردار میں اسوہ نبوی اور اکابر صوفیہ کرام کی مقدس سیرتوں کی جھلک نظر آتی حضرت سیدی مرشدی خواجہ عالم ؒ کے اخلا ق عالیہ اتنے پاکیزہ اور عظیم تھے کہ جس زاویہ نگاہ سے دیکھا جائے انکا حسن نمایاں ہو کر قلب و نظر کو نئی تازگی بخشتا ہے نہ کہیں جھول نظر آتی ہے نہ ڈھیل بلکہ انکا ہر پہلو نت نئے حسن کا آئینہ دکھائی دیتا ہے ۔

تواضع و انکساری ، صبرو شکر ، خدمت خلق، اخلاص و زہد،ذکر و فکر ،توکل و قناعت ، مہمان نوازی ،احسان شناسی ، غریب اور نادار پروری ، علم ، علماء اور طلباء کا احترام ، مشائخ کرام ، انکی اولادوں اور سادات کرام کا احترام، نعمتوں اور وقت کی قدر ،الغرض ہر حسن و خوبی میں آپ اپنی مثال آپ تھے ۔آپ خود فرماتے تھے کہ رب تعالیٰ نے مجھے دو شوق عطا فرما رکھے تھے گھڑ سواری اور تعمیر مساجد کا شوق۔ آپ نے دونوں شوق پورے کیے نظام سلطانیہ کے تحت تعمیر مساجد کا باقاعدہ آغاز1960میں فرمایا اس وقت آپ کی عمر مبارک 39سال تھی 31دسمبر2008کو جب آپ کا وصال ہوا تو آپ کو تقریباََتین سو مساجد کی تعمیر کا شرف حاصل ہو چکا تھا اس طرح ایک سال میں مساجد کی اوسط تعمیر تقریباََسوا چھ بنتی ہے آپ کے پاس لشکر سلیمانی تھا اور نہ ہی اس جیسے وسائل اس معاملہ کو کرامت کے سوا اور کسی لفظ سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا یہ تمام مساجد ایک سے بڑھ کر ایک عالیشان ہیں ۔

ان تمام مساجد میں نماز پنجگانہ با جماعت کا انتظام موجود ہے اور بحمد تعالیٰ تمام آباد ہیں علاوہ بریں بہت سی مساجد میں حفظ قرآن مجید کا انتظام ہے اور کئی ایک میں درس نظامی کی تدریس کا بندوبست بھی ہے اس نظام کے قیام اور تسلسل میں آپ کا یہ جذبہ کار فرما رہاکہ مخلوق خدا کا تعلق معبود حقیقی کے ساتھ استوار کیا جائے اس سلسلہ میں رب تعالیٰ نے آپ کو خاطر خواہ کامیابی عطا فرمائی ایسے دیہات جن میں تعلیم کا تناسب صفر تھا رب تعالیٰ کے فضل اور نظام سلطانیہ کی اشاعتی خدمت کے باعث چند معمر افراد سے قطع نظر کریں تو اب ا سی فیصد ہے اور جہا9سال تھی 31دسمبر2008کو جب آپ کا وصال ہوا تو آپ کو تقریباََتین سو مساجد کی تعمیر کا شرف حاصل ہو چکا تھا اس طرح ایک سال میں مساجد کی اوسط تعمیر تقریباََسوا چھ بنتی ہے آپ کے پاس لشکر سلیمانی تھا اور نہ ہی اس جیسے وسائل اس معاملہ کو کرامت کے سوا اور کسی لفظ سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا یہ تمام مساجد ایک سے بڑھ کر ایک عالیشان ہیں ۔

ان تمام مساجد میں نماز پنجگانہ با جماعت کا انتظام موجود ہے اور بحمد تعالیٰ تمام آباد ہیں علاوہ بریں بہت سی مساجد میں حفظ قرآن مجید کا انتظام ہے اور کئی ایک میں درس نظامی کی تدریس کا بندوبست بھی ہے اس نظام کے قیام اور تسلسل میں آپ کا یہ جذبہ کار فرما رہاکہ مخلوق خدا کا تعلق معبود حقیقی کے ساتھ استوار کیا جائے اس سلسلہ میں رب تعالیٰ نے آپ کو خاطر خواہ کامیابی عطا فرمائی ایسے دیہات جن میں تعلیم کا تناسب صفر تھا رب تعالیٰ کے فضل اور نظام سلطانیہ کی اشاعتی خدمت کے باعث چند معمر افراد سے قطع نظر کریں تو اب ا سی فیصد ہے اور جہاں کوئی جنازہ پڑھانے والا نہیں ملتا تھا اب وہاں ہر گھر میں دو ، دو ، تین ، تین حفاظ کرام ہیں بہت سے سفید پوش گھرانوں کا بھرم آپ کے دست سخا سے قائم تھا ۔ بن مانگے اور بے منت انکی ضروریات کی کفالت آپ نے اپنے سرے رکھی تھیں ۔

حضرت خواجہ عالم ؒ کا ارشاد گرامی ہے کہ عبادات میں ذکر کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اسکے لیے کوئی وقت مقرر نہیں بلکہ اسکو ہر وقت کرنے کا حکم ہے فرض نماز اگر تمام عبادتوں سے افضل ہے مگر بعض وقتوں میں اس کا ادا کرنا جائز نہیں اور دل کے ساتھ ہر حالت میں اور ہر وقت جاری رکھا جا سکتا ہے حضرت خواجہ عالم ؒ نے قابل صد رشک و افتخار اور طہارت و تقویٰ کی بے مثال زندگی گزار کر شمسی کیلنڈر کے مطابق87سال اور چھ دن کے بعد 31دسمبر2008کو آخری سانس لیا اور انعامات و کرامات ربانیہ کے حصول کے لیے اپنے خالق حقیقی کے حضور حاضر ہو گئے آپ کا عرس مبارک ہر سال 31دسمبر کو خانقاہ فتحیہ جامعتہ الفردوس درس شریف گلہار کوٹلی میں مذہبی طریقے سے عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے آپکے عرس مبارک کے حوالے سے کوئی پوسٹر وغیرہ نہیں چھپوایا جاتا یہ دن سنگیان طریقت کے دلوں میں نقش ہے اور وہ طلب کے مطابق لاکھوں کی تعداد میں عرس مبارک میں شرکت کرتے ہیں عرس شریف میں شرکت کرنے والے سنگی ذکر و اذکار میں مصروف ہوتے ہیں کسی بھی غیر شرعی بات سے پرہیز کیا جاتا ہے دعا فرزند اصغر خواجہ عالم ؒ جناب پیر حافظ محمد زاھد سلطانی مدظلہ سرۃعالیہ فرماتے ہیں وعاسے قبل شجرہ پڑھ کر سنایا جاتا ہے ۔لاکھوں لوگ عرس دعائیہ میں شامل ہو کر اپنے دلوں کو منور کرتے ہیں ۔

Share this:

Related News

Comments are closed

Jobs: career@azadnews.co.uk
News: news@azadnews.co.uk
Enquiries: info@azadnews.co.uk
Tel: +44 7914314670 | 07588333181

Copyright 2015 © AZAD is a part of Indigo Marketing & Media Productions Ltd.
41 West Riding Business Center, BD1 4HR |08657270| England & Wales.