بطخوں کا کھانا

کبھی کبھی سوچتا ہوں ان وزیروں، لیڈروں ، مشیروں کی تقاریر سننے سے بہتر ہے کہ میں پارک میں موجود بطخوں اور پرندوں کو کھانا ڈال آؤں ۔ کم ازکم پرندے وہ کام تو کرتے ہیں جس کے لیے انہیں بنایا گیا تھا ۔ اتنے عرصے سے تقاریر سن سن کر سمجھ نہیں آتا کہ اس عوام کو کیوں نہیں سمجھ آتا کہ سڑکیں بنانا ، نلکے لگانا ، میڈیکل کالجز بنانا ، پل کی تعمیر کرنا وغیرہ وغیرہ وزیروں کے کام نہیں ہوتے ۔ ان کا کام صرف اور صرف قانون سازی کرنا ہوتا ہے اور ان چیزوں پر عمل درآمد کی ذمہ داری اداروں کے سربراہان پر عائد ہوتی ہے ۔ یہاں پوری کی پوری بطخ ہی الٹی ہے ۔ سڑک بنانا محکمہ شاہرات کا کام ہے ۔ گلی محلوں کی صفائی بلدیہ کا ۔ میڈیکل کالجز بنانا محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت کی ذمہ داری ۔ عوام کی خبر کوئی لگاتا ہی نہیں سیاسی جماعتوں کے نمائندے لگاتے ہیں پیپلز پارٹی ہو تو ن لیگ والے انہیں ناکام قرار دیتے ہیں اور اگر ن لیگ والے ہوں تو پیپلز پارٹی ناکام۔ ابھی تھوڑی دیر قبل خبر بھیجی کسی نے اور کہا کہ چوھدری مجید ترقی کے ہیرو ہیں ۔ ایک اور نے بھیجی فاروق حیدر فخر کشمیر ہیں ۔
ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ کوئی اپنی کارکردگی کی بنیاد پر کسی عہدے پر نہیں آتا ۔

۔وزیر بنتا ہے تو پارٹی صدارت کی قربت اور برادری کے ووٹ سے ۔
۔ مشیر بنتا ہے وزیر یا وزیر اعظم کی قربت کی وجہ سے ۔
۔ اداروں کے سربراہاں بنتے ہیں چیف سیکرٹری ، وزیر اعظم سے قربت پر ۔
۔ اور آخر میں یہ عوام بنتے ہیں بیوقوف ان وزیروں ، مشیروں کی قربت کی وجہ سے ۔

اچھا ان مشیروں کی کہانی بڑی زبردست ہوتی ہے انہیں خود نہیں پتہ ہوتا کہ انہیں کیا کرنا ہے ۔ ان کا نوٹیفیکشن کر کے انہیں سہولیات سے نواز دیا جاتا ہے ۔ کہنے کو مشیر مگر وزیر اعظم انہیں کسی مشورہ میں شامل نہیں کرتا ۔ کیوں کی اکثر وزیر اعظم کی مرضی سے مشیر نہیں بنتے کہیں اور سے بنتے ہیں ۔ مشیروں کا بنیادی مقصد صرف یہی رہ جاتا ہے کہ وہ بیورو کریسی میں زور لگا کر جو کام کروا سکیں وہ کروا لیں ۔ بسا اوقات بیورو کریسی انہیں برداشت کر لیتی ہے اور کبھی نہیں بھی کرتی ۔ وہ مشیر کامیاب مشیر ہوتا ہے جو بیورو کریسی سے بنا کر رکھتا ہے ۔ ان مشیروں کی وزیروں کے ساتھ جنگ بھی جاری رہتی ہے وزیر اپنے آپ کو مشیروں سے افضل تصور کر تے ہیں کیوں کی وزیر پارٹی سیٹ سے جیت کر وہ مراعات حاصل کرتا ہے جو مشیر قربت سے حاصل کر تا ہے ۔ ہاں اگران مشیروں کو ایک ایک محکمہ دے دیا جائے کہ یہ اپنے مشورے وہاں پر استعما ل کریں تو شاید یہ زیادہ بہتر ہو سکتا ہے ۔ ان مشیروں کی مشیری کی عمر بہت کم ہوتی ہے کیوں کہ یہ بیچارے بہت کوشش کے باوجود بھی نہ تو بیوروکریسی میں کہیں فٹ ہوتے ہیں اور نہ ہی وزیروں کی لسٹ میں ۔ جن کو پروٹوکول پیارا ہوتا ہے وہ چپکے رہتے ہیں اور جنہیں عزت وہ میری طرح پارک میں بطخوں کو کھانا ڈالنے آ جاتے ہیں ۔

Share this:

Related News

Comments are closed

Jobs: career@azadnews.co.uk
News: news@azadnews.co.uk
Enquiries: info@azadnews.co.uk
Tel: +44 7914314670 | 07588333181

Copyright 2015 © AZAD is a part of Indigo Marketing & Media Productions Ltd.
41 West Riding Business Center, BD1 4HR |08657270| England & Wales.