kAABA

اللہ کا گھر اور غلاف کعبہ

دنیا میں اُتارے جانے کے بعد آدم علیہ اسلام نے اللہ سے گز ارش کی کہ آسمان پر بیت المعمور کے گرد تمہارے فرشتوں کے طواف اور حمد و ثنا کو میں دیکھتا رہاتھا ۔ اس دنیا میں حمد و ثناء کے لئے تمہاری کوئی جگہ موجود نہیں تو حکم الہی سے جبرائیل آمین وہاں تشریف لائے کہ جہاں پر پانی کے اوپر جھاگ بنی اور پھیلتے ہوئے اُس نے زمین کی شکل اختیار کر لی تھی۔ حضرت جرائیل نے زمین پر اپنا پر مار کر بنیاد کھو دی جس کو فرشتوں نے چار پہاڑوں کوہ لبنان ، کوہ جودی ، کوہ حرا اور طور زتیا کے پتھروں سے بھرا اور عمارت کو مکمل کیا تب آدم علیہ اسلام نے وہاں اللہ تعالیٰ کی عبادت شروع کر دی ۔ ابتداء میں کعبے کی بلندی 9ہاتھ ، رکن اسود سے رکن شامی تک دیوار کی لمبائی 33ہاتھ، رکن شامی سے رکن غربی تک 22 ہاتھ ، رکن غربی سے رکن یمانی تک 31اور رکن یمانی سے پھر رکن حجر اسود تک 30ہاتھ کے ساتھ کعبہ کی تعمیر مستطیل شکل میں کی گئی ۔ کعبہ کا دروازہ زمین کے ساتھ ملا ہوا تھا جس کے دروازے پر کنڈی نہ تھی ۔ یمن کے بادشاہ طبع الحمیری نے خانہ خدا کو پہلی بار زنجیر اور قفل لگایا۔ حضرت ہاجرہ کے انتقال کے بعد حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ اسلام کے ساتھ مل کر اللہ کے حکم سے تعبیر کعبہ شروع کی تو نشانی کے طور پر بادل کا ایک ٹکرا اس وقت تک اسی شکل کے ساتھ کھڑا زمین پر سایہ ڈالتا رہا کہ جب تک حضرت آدم علیہ اسلام کے بنائے گئے اصل کعبہ کی بنیادیں سامنے نہ آگئیں۔ زبیح اللہ ، خلیل اللہ کو گارا اور پتھر اُٹھا کر دیتے رہے تو یوں اللہ کے گھر کی تعمیر مکمل ہوئی ۔ خانہ کعبہ کے اُس وقت دو دروازے رکھے گئے جبکہ اس میں ایک طرف سے داخل ہونے والا آدمی دوسری طرف سے نکل جاتا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے کعبہ کے اندر دائیں طرف ایک خزانے کی طرح ایک تغار سا بنایا تا کہ آنے والے زائرین سے ملنے والے نذرانے یا تحائف اس میں رکھے جا سکیں ۔ حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے بعد ان کے بیٹے حضرت شیت علیہ اسلام نے بعد میں کعبے کو تعمیر کیا تھا۔ تاریخ انسانی میں کعبہ 2 بار گرا، ایک بار طوفان نوح کی وجہ سے اور دوسری بار آسمانی بجلی گرنے سے تب دونوں بار اس کو مرمت کیا گیا ۔ جبکہ آنے والے وقتوں میں قبائل عمالقہ اور جراہم نے اس کو بنایا اور پھر قصٰی بن کلاب نے آنے والے وقت میں تعمیر کے دوران کعبہ کی چھت مقل کی لکڑی سے بنائی جس پر تختوں کی صورت میں خرمے کی لکڑی ڈالی گئی تھی۔ خاتم النبین کی عمر مبارک اُس وقت 25سال کی تھی کہ جب قریش کو کعبہ کی تعمیر اس لئے کرنی پڑی کہ ایک عورت جو کعبہ کے اندر خوشبو سلگاتی تھی جس کی وجہ سے آگ کے شعلوں سے کعبہ کی لکڑی کے جلنے پر اُسکی چھت گر گئی تھی جبکہ طوفان نوح کے ساتھ کعبے کی دیوار پھٹ چکی تھی ۔ سردار ان قریش نے باہم اتفاق کرتے ہوئے ولید بن مغیرہ کے زیر قیادت کعبہ کو مہندم کر کے دوبارہ تعمیر کیا اور طے یہ پایا کہ اس کی تعمیر پر مال حرام سے ایک پائی بھی خرچ نہ کی جائے گئی اور وہ اس لئے کے اُس وقت اکثر مالدار لوگ سُود خور تھے اس لئے کعبہ کی تعمیر کے لئے حلال مال بہت کم جمع ہوا اور اس کمی کی وجہ سے عمارت کو چھوٹا کر دیا گیا اور چند فرق بھی ڈال دیئے گئے ۔ اول یہ کہ تعمیر ابراہیم سے چند گز زمین چھوڑ کر ایک حصے کو حطیم قرار دیا گیا جس میں کعبہ کا پرنالہ گرتا ہے۔ دوسرا یہ کہ کعبے کا ایک دروازہ رکھا گیا اور وہ بھی زمین سے اتنا اونچا کہ جسے چاہیں کعبے کے اندر جانے دیں اور جسے چاہیں نہ جانے دیں کہ جس کا تسلسل آج تک جاری ہے ۔تیسرا یہ کہ خانہ کعبہ کے اندر لکڑی کے ستونوں کی دو صفیں بنائیں جبکہ ہر صف میں تین ستون تھے ، چوتھا یہ کہ پہلے کعبہ کی بلندی 9ہاتھ تھی جس کو 18ہاتھ کر دیا گیا۔ جبکہ پانچواں یہ کہ خانہ کعبہ کے اندر ر کن شامی کے قریب ایک سیڑھی بنائی کہ جس سے کعبہ پر چڑھا جا سکے ۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ایک بار حضور پاک ﷺ نے کعبہ کے متصل زمین کھود کر بنیاد ابراہیم مجھے دکھائی کہ جس میں اونٹ کی کوہان کی شکل کے پتھر لگے ہوئے تھے اور مجھے کہا کہ اے عائشہ رقم کی کمی کی وجہ سے بنیاد ابرہیمی کا کچھ حصہ چھوڑ دیا گیا تھا تب حضور نے فرمایا کہ ابھی لوگ نو مسلم ہیں ، اگر اُن کے بھڑک جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں بنیاد ابراہیمی پر اس کی اصل تعمیر مکمل کراتا ۔ آنے والے وقت میں ایک بار پھر حضرت عبد اللہ بن زبیر نے بنیاد ابراہیم پر اس کی تعمیر کی ، حطیم کو خانہ کعبہ میں داخل کیا زمین سے متصل مشرق اور مغرب کی طرف دروازے رکھے ، یمن کی خوشبو دار مٹی (ارس ) کو منگوا کر گارے کے بجائے چونے میں ملا کر استعمال کیا گیا ۔ دروازے پر اندر اور باہر دونوں اطراف مشک وعنبر لگایا گیا۔ اور خانہ کعبہ پر ریشمی غلاف چڑھایا گیا کہ جس کا رواج آج تک جاری ہے ۔ کعبہ معظمہ کو سب سے پہلے با ضابطہ غلاف پہنانے والے کا نام اسعد تھا جو یمن کا بادشاہ تھا اس نے (یثرب) کے شہر کو آباد کیا اور حضور سے ملاقات کا شرف حاصل کرنے کے لئے کچھ عرصہ یہاں سکونت بھی اختیار کی لیکن کچھ عرصے بعد وہ واپس یمن چلا گیا ۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ 4ہزار سالوں سے تعمیر خانہ خدا جس کی اس وقت بلندی 54فٹ 18انچ ہے جس کے چھت میں 80قند لیں لگی ہوئی ہیں ۔ کعبہ کی جانب سمت کی تبدیلی 2ہجری میں ہوئی ، 8ہجری کو مکہ فتح ہوا جبکہ اس کی خوشی میں یمن سے تیار کردہ سیاہ غلاف حضور نے چڑھانے کا حکم دیا اور اسی طرح 9اور 10ہجری میں حجتہ الوداع کے دن بھی کعبہ پر غلاف چڑھایا گیا۔ حضرت ابو بکر صدیق اپنے دور میں مصری کپڑے کا قباطی غلاف چڑھایاکرتے تھے۔ حضرت عمر فاروق کعبہ پر نیا غلاف چھڑانے کے بعد پرا نا غلاف زمین میں دفن کر دیتے تھے لیکن بعد میں اس کے ٹکڑے حجاج اکرام اور غربا میں تقسیم کر دیتے جبکہ آج کل بھی غلاف کعبہ کے ٹکڑے اسلامی ممالک کے سربراہوں کو تحفے کے طور پر بھیجے جاتے ہیں۔ بنو عباس اپنے 500سالہ ادوار حکومت میں ہر سال بغداد سے غلاف بنوا کر مکہ مکرمہ روانہ کرتے تھے ۔ دور عباسیہ میں حکمران خصوصی دلچسپی لیکر غلاف کعبہ کو خوبصورت بناتے تھے۔ خلیفہ ہارون الرشید نے سال میں دو مرتبہ اور مامون الرشید نے تین مرتبہ غلاف کعبہ تبدیل کرنے کا اہتمام کیا۔ مامون الرشید سفید رنگ کا غلاف چڑھاتے رہے جبکہ خلیفہ الناصر عباس نے پہلے سبز رنگ اور پھر سیاہ ریشم کا غلاف تیار کروایا جس پر زری کا کام ہوتا تھا۔ 140ہجری سے غلاف کعبہ پر لکھائی کا رواج شروع ہوا۔ 761 ہجری میں والی مصر سلطان حسن نے پہلی بار غلاف پر قرانی آیات کو زری سے گاڑھنے کا حکم دیا جس سے وہ جازب نظر آنے لگا ۔ محمود غزنوی نے ایک مرتبہ چڑھانے کے لئے زرد رنگ کا غلاف کعبہ مکہ بھیجا تھا ۔ شاہ سلمان دوئم کے عہد حکومت تک غلاف کعبہ مصر سے جاتا تھا ۔ مصریوں کی طرف سے غلاف کعبہ میں جاہلانہ باتیں شروع کرنے سے سعودی سربراہ اور مصری حکمرانوں کے درمیان اختلافات بڑھ جانے پر 1923سے سعودی حکومت نے غلاف کعبہ لینا بند کر دیاتھا ۔ 1927میں سعودی حکمران شاہ عبد العزیز سعود نے اپنے وزیر مال عبد اللہ سلمان المدن اور اپنے فرزند شہزادہ فیصل کو سعودی عرب میں اپنا ذاتی کارخانہ بنا کر او ر اُس میں غلاف کعبہ کی تیاری کا حکم دیا چنانچہ شاہ کے حکم سے فوری طور پر کارخانہ بنا کر 1346ہجری کے غلاف کعبہ کی تیاری شروع کر دی جبکہ ہندوستانی مسلمان ہنر مندوں کی کارگردگی سے سعودی عرب میں پہلا غلاف تیار کیا گیا جبکہ مکہ مکرمہ میں قائم اس فیکٹری کا نام دار الکسوہ ہے ۔ 1962میں غلاف کعبہ کی تیاری کی سعادت پاکستان کے حصے میں بھی ایک بار آئی ۔ خانہ کعبہ کو ہر سال دوران حج 9 زوالجہ کو نئے غلاف سے مزین کیا جاتا ہے جس کو ماہر کارریگر خالص 6702کلو گرام ریشم سے تیار کرتے ہیں۔ جس پر بعد آزاں کالا رنگ چڑھایا جاتا ہے اور جس پر 150کلو گرام سونے اور چاندی کے دھاگوں سے آیات قرآنی کو کندہ کیا جاتا ہے ۔ غلاف کعبہ کے کپڑے کو اس طرح ہاتھوں کو کھڈیوں اور جدید مشینوں سے تیار کیا جاتا ہے کہ اس کپڑے کے اندر لفظ اللہ اور لا الہ الا اللہ لکھا ہوا صاف پڑھا جاتا ہے ۔ غلاف کعبہ کپڑے کے 47ٹکڑوں پر مشتمل ہوتا ہے اور ہر ٹکڑے کی لمبائی 14میٹر اور چوڑائی 101سینٹی میٹر ہوتی ہے ۔ دوران حج غلاف کعبہ کو ادھا اوپر اُ ٹھا کر اُس پر سفید احرام باندھ دیا جاتا ہے اور وہ اس لئے کے لوگ غلاف سے لپٹ کر دعائیں مانگنے کے دوران غلاف کے ٹکڑے کاٹ کر تبرک کے طور پر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں اور ان دھاگوں کو اپنے عزیزوں کے مرنے پر اور غسل کے بعد ان کی آنکھوں میں رکھتے ہیں۔ ہر سال یکم زوالجہ کو کعبہ شریف کے چاروں اطراف سفید احرام باندھا جاتا ہے جس کو 9زوالجہ کو کھول کر غسل دیا جاتا ہے جس پر ہزاروں من خالص عرق گلاب اور خوشبو عات کو شامل کیا جاتا ہے ۔ قائرین محترم ساری زندگی میں نے اللہ کے گھر کے طواف اور عبادات کی چاہت کی ہے ۔ روضہ رسول ﷺ پر حاضری میری زندگی کا خواب رہا تھا ۔ آخر کار اللہ اور اس کے رسول کو میری حالت پر ترس آ گیا ، اللہ نے اپنے جلال والے گھر کی حاضری کی مجھے اس سال حج بیعت اللہ کی صورت میں سعادت بخشی ہے جبکہ زبان سے کہے جانے اور دیکھنے میں بہت فرق ہے ۔ میرے سرکار کے روضہ پاک پر نور کی بارشوں کا اور ہی سماں ہوتا ہے ۔ کن کن باتوں کا زکر کروں وہاں کی ہر بات اور گزرا ہوا ایک ایک لمحہ زکر کے قابل ہوتا ہے ۔ ایک بار دیکھ کر بار بار حاضری کی دعا کی ہے جس کو اللہ منظور و مقبول فرمائیں اور میری یہ دعا ہے کہ ہر مسلمان کو اللہ تعالیٰ اپنے گھر کی زیارت نصیب کر ے اور وہ اس لئے کے اللہ کے گھر کی زیارت اور حاضری کے آگے زمانے کی کوئی بھی چیز بھی مقدم نہیں ۔

Share this:

Related News

Comments are closed

Jobs: career@azadnews.co.uk
News: news@azadnews.co.uk
Enquiries: info@azadnews.co.uk
Tel: +44 7914314670 | 07588333181

Copyright 2015 © AZAD is a part of Indigo Marketing & Media Productions Ltd.
41 West Riding Business Center, BD1 4HR |08657270| England & Wales.