malik title

پرائیوٹ ملازمین کے حقوق اور قانون کی پامالی یاسر شریف ملک

تحریر : یاسر شریف ملک
yasirsharif101@gmail.com

ان دنوں میرپور آزاد کشمیر میں انجمن تاجراں کے مختلف دھڑوں میں ہونے والی شدید گرما گرم بحث نے مجھے بھی یہ موقع فراہم کیا کہ میں اپنے ارد گرد پھیلے چند عام لوگوں کے مسائل کا ذکر بھی کروں۔ کاروباری طبقے کے لحاظ سے میرپور ایک بہت موزں شہر ہے جسکی ایک بہت بڑی وجہ بیرونی زرمبادلہ کی رقم ہے، جو کہ لاکھوں میرپوری اپنے گھروں کو ولائت سے اور دیگر ممالک سے بھجتے ہیں۔ یہاں کی قیمتوں کا حال بھی بڑا دلچسپ ہے پراپرٹی سے لے کر چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی باقی شہروں کی نسبت مہنگے داموں فروخت کی جاتی ہے ۔ میرپور میں پنجاب اور دیگر شہروں کے لوگ کثیر تعداد میں کاروبار کی غرض سے آباد ہیں۔ جوکہ یہاں کی Buying Power سے بخوبی واقف ہیں میرپور جیسے شہر میں تقریباً آپ کوہر وہ چیز با آسانی دستیاب ہوتی ہے جو بر طانیہ اور امریکہ کی کسی سپر مارکیٹ سے ملتی ہے یہاں اگر نہیں ملتا تو انصاف اور حق باآسانی ملنا بہت دشوار ہے۔ کیونکہ انصاف اور حق کیلئے آپ کو خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انجمن تاجراں کے مختلف دھڑے ان لوگوں پر مشتمل ہیں جو ایک لمبے عرصے سے میرپور کے اندرکاروبار سے منسلک ہیں ۔ چوہدری سعید ،چوہدری نعیم، جاوید چوہدری، سہل شجاع ، راجہ خالد، اور نئے آنے والے چوہدری محمود میرپور کے کاروباری طبقہ میں کافی فعال نظر آتے ہیں۔ اختیارات اور طاقت کی جنگ ان گروپس میں عروج پر ہے ۔ ہر گروپ کو کسی نہ کسی سیاسی جماعت کی حمایت بھی حاصل ہے۔ جب بھی کسی معاشرے میں موجود وسائل کی تقسیم برابر نہ ہو تو گروپس کا بننا ایک فطری سا عمل ہے ۔ جس کا فائدہ بھی ہوسکتا ہے اور نقصان بھی اگر ان گروپس کو حقیقی طور پرتاجر برادری اور دکانداروں کی فلاح کے لیئے استعمال کیا جائے تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ مگر ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے سے نہ تو تاجروں کے مسائل حل ہوں گے اور نہ ہی کبھی تاجر برادری کی صفوں کو منظم کیا جاسکے گا۔ جسطرح کچھ دن قبل صحافی برادری کے دو گروپ بن گئے تھے۔ تاجر برادری ہو یا پھر صحافی برادری بات یا تو افہام و تفیم کے ساتھ یا پھر الیکشن سے حل ہو گی۔
ہمارے ہاں قوانین تو بہت زبردست طرز کے بنا دیئے جاتے ہیں مگر ان پر عمل درآمد کے راستے اتنے پیچیدہ بنا دیئے جاتے ہیں کہ اگر کوئی ان پر عمل درآمد کرنا بھی چاہے تو نہیں کر سکتا۔ انگریزوں کے قوانین کی ایک بڑی تعداد ہمارے نظام میں آج بھی موجود ہے ۔ آپ کراچی کو ہی لے لیجئے ڈبل سواری پر پابندی ۔بجائے اس کے کہ آپ اپنی قانونی گرفت کو مظبوط کرتے پولیس کو ٹھیک کررتے تو اس طرح کا قانون بنانے کی ضرورت ہی نہ پیش آتی ۔ اب جب رینجرز کراچی میں آئی ہے تو سب ڈبل سواری پر گھومتے ہیں ۔ آزاد کشمیر کو ہی دیکھ لیجئے ہر سال یہاں پر بجٹ میں worker ordinance for unskilled workers 1969 کے تحت ملازمین کی تنخواہوں میں مخصوص اضافہ کیا جاتا ہے ۔ مالی سال 2015-2016 میں بھی سابقہ مالی سالوں کی طرح worker ordinance for unskilled worker 1969 کے تحت مخصوص اضافہ کر کے کم از کم تنخواہ 14000 رپے ماہانہ کی گئی تمام تجارتی صنتعی،تعلیمی، سرکاری، اور نیم سرکاری اور پرائیویٹ ادارے اس بات کے سختی سے پابند ہیں کہ وہ اپنے ملازمیں کو 14000 روپے ماہانہ سے کم تنخواہ نہیں دے سکتے ۔ یاد رہے کہ یہ مخصوص اضافہ ہر سال ملک میں بڑھنے والی مہنگائی اور کرنسی کی شرح کو مد نظر رکھ کر طے کیا جاتا ہے۔ بجٹ میں ہونے والے مخصوص اضافے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں تو عمل میں آجاتے ہیں کیونکہ اگر ایسا نہ کیا جائے تو سرکاری ملازمین کی غیرجریدہ اور جریدہ تنظیمیں حکومت کے خلاف چوک چوراہوں میں منظم ھڑتالیں اور دھرنے دے کر بیٹھ جاتی ہیں۔ اگر کوئی ہڑتال نہیں کر پاتا تو وہ جو بے چارے پرائیویٹ کاروباری حضرات کے ملازمین ہوتے ہیں۔ مثلا بڑے بڑے کار شو روم ، بڑے بڑے شاپنگ سنٹرز، گارمنٹس شاپ ، موبائل شاپ، میڈیکل سٹورز ، پرائیویٹ سکول ، ورکشاپس میں موجود بچے اور بے شمار لوگ۔ میرپور بھر میں اس طرح کے ملازمین کو3500 سے لیکر 8000 تک کی تنخواہوں پر کام کرنا پڑتا ہے اور آٹھ گھنٹے کی بجائے 12سے 14 گھنٹے ڈیوٹی بھی دینی پڑتی ہے۔ میں یہ سوالات تاجربرادری کے ان عہدیداروں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جو کہ بہت فخر سے تاجر برادری کے حقوق اور ان کی فلاح کی بات کرتے ہیں۔

۔ کیا آپ اپنے ملازمین کے ساتھ کہیں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر کوئی اس قسم کی زیاتی تو نہیں کر رہے
۔.کیا آ پ اور آپ کی تاجر برادری کے کاروباری حضرات اپنے ملازمین سے کہیں آٹھ گھنٹے سے زیادہ مشقت تو نہیں لے رہے
کیا آپ اور آپ کی تاجر برادری کے کاروباری حضرات اپنے ملازمین کو ان کا حق اجرت مالی سال میں ہوئے اضافے کے عین مطابق ادا کر رہے ہیں.

اگر آپ ایسا ہی کر رہے تو خداراہ فراخ دلی کا ثبوت دیجئے اور ملازمین کے حقوق کی پاسداری بھی کیجئے جسطرح کہ آپ تاجروں کے حقوق کی پاسداری کرتے ہیں۔
میرپور اور آزاد کشمیر بھر میں رواں سال نیشنل ایکشن پلان کے تحت بہت سی ایسی مثبت کاروائیاں عمل میں لائی گئیں جن کی مثال ماضی میں کبھی دیکھنے میں نہیں ملی۔ بے شمار غیر ریاستی اور غیر ملکی باشندوں کو ان کے ملک روانہ کیا گیا ۔ جنکی کوئی قانونی حثیت نہیں تھی ۔ بے شمار کاروباری مراکز سیل کرکے ان کے خلاف قانونی کاروائیاں بھی کی گئیں،بڑی تعداد میں غیر رجسٹرڈ ہاسٹل ، سکول اور پارلر سیل کیے گئے۔ بڑی تعداد میں غیر قانونی کام کرنےوالوں کو پابند سلاسل کر کے ان کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی گئی۔

اسی طرح اگر کوشش کی جائے تو پرائیویٹ اداروں اور دکانوں کے ملازمین کو بھی ان کا حق دلوایا جا سکتا ہے۔ کاش کے میرپور اور آزادکشمیر بھر کی انتظامیہ نیشنل ایکشن پلان کی طرح Minimam wages for Unskilled workders ordinance 1969 پر بھی نظر ثانی فرمائے اور جو کاروباری حضرات اس Ordinance کی دھجیاں اڑا رہے ہیں ان کے خلاف سخت ترین کاروائیاں عمل میں لائی جائے۔ تا کہ کشمیری بھی فخر سے کہ سکیں کہ برطانیہ کی طرح میرپور آزاد کشمیر میں بھی حق اور انصاف با آسانی مل جاتا ہے۔ کیا یہ سارے استحصالی ٹولے دفعہ 144 کے ضمرے میں نہیں آتے؟ محرم الحرام میں گانے بند کروانے کے ساتھ ساتھ بہتر ہے کہ شہدائے کربلا کی یاد میں نوجوان نسل کو انصاف اور حق کا تحفہ بھی دیا جائے تاکہ ان کی کم سے کم تنخواہ 14000 تو میسر ہو تا کہ وہ اپنے گزر اوقات آسانی سے کر سکیں ۔

Share this:

Related News

Comments are closed

Jobs: career@azadnews.co.uk
News: news@azadnews.co.uk
Enquiries: info@azadnews.co.uk
Tel: +44 7914314670 | 07588333181

Copyright 2015 © AZAD is a part of Indigo Marketing & Media Productions Ltd.
41 West Riding Business Center, BD1 4HR |08657270| England & Wales.