UKPNP

آزادکشمیر سالانہ بجٹ 68ارب روپے ۱ارب ترقیاتی جبکہ 57ارب روپے غیر ترقیاتی بجٹ جموں کشمیر پی این پی

میرپور(یاسرشریف ملک)جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما غالب بوستان ایڈووکیٹ نے کہا کہ یہ بات روز روشن کی طر ح عیاں ہے کہ آج تیزی سے بدلتے ہوئے حالات میں بیرسٹر قربان علی کے نظریات درست ثابت ہورہے ہیں ۔ آج جب موجود ہ حالات نے انسانی زندگی اجیرن بنائی ہوئی ہے وسیع ترعوام دووقت کی روٹی کے خوف کے شکار ہیں ۔ تعلیم صحت اور روز گار سے محروم عوام کی زندہ مثال آزادکشمیر سالانہ بجٹ جو کہ 68ارب روپے ہے ۔ جس میں سے ۱ارب ترقیاتی جبکہ 57ارب روپے غیر ترقیاتی بجٹ ہے یعنی 57ارب روپے آزاکشمیر حکمران طبقہ اور نوکرشاہی کی عیاشی پر خرچ ہوگا۔ 46لاکھ انسانوں پر صرف 11ارب روپے ہوں گئے ۔دوسری طرف اسی نام نہاد آزاد کشمیر کا 65فیصد نوجوان بے روز گاری کاشکارہے۔ 90فیصد زرعی زمین آزادکشمیر کے حکمران طبقہ نے اپنے پاکستانی حکمران طبقہ (سرمایہ دار )کو منڈی کی فراہمی کے لیے بنجر کردی گئی ہے ۔ 100فیصد زرعی انفراسٹر کچر تباہ کردیا گیاہے ۔ آزادکشمیر میں قائم ریاستی محکمے یہاں کے حکمران طبقوں کی جاگیر بنے ہوئے ہیں ۔محکمہ زراعت سے لیکر زراعت سے لیکر ، تعلیم ، صحت، منصوبہ بندی اور دیگر شعبے محض عوام کے وسائل لوٹنے کے شعبے ہیں ۔ آزادکشمیر میں 95فیصدعوام کو صحت کی سہولت میسر نہیں ۔ تعلیم کی حالت یہ ہے کہ ایک تو پسماندہ نصاب تعلیم جس کا عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ۔ اس کے باوجود اس میں میٹرک کی سطح تعلیمی اداروں میں اندولمنٹ کی شرح میں گذشتہ 10سال کے دوران 62فیصد کمی ہوچکی ہے ۔ اب نجی تعلیمی اداروں کے ذریعے غریب والدین کو لوٹا جارہاہے ۔ اگر ان تعلیمی اداروں سے کوء طالب علم فارغ التحصیل ہوبھی جائے ۔ تو اس کے لیے روزگار کے موقع نہیں ۔اس کو دیارغیر اپنی محنت فروخت کرنا پڑتی ہے ۔ جبکہ صحت کی سہولت نہ ہونے کی باعث آزادکشمیر کی 37فیصد حاملہ خواتین خوراک کی کمی کاشکارہیں ۔ جبکہ 1000میں سے 55بچے پیدائش کے دوران فوت ہوجاتے ہیں ۔ ان قاتل حکمرانوں نے صحت اور تعلمی کو ایک منافع بخش کاروبار بناکر رکھ دیاہے جبکہ کشمیر جو کہ قدرتی وسائل سے مالا مال ریاست ہے ۔ اس کے وسائل عوا م کے کنٹرو ل میں نہیں ہیں ۔ بلکہ پاکستان کے کنٹرول میں ہیں ۔ اگرکشمیر کے وسائل کا اندازہ لگایا جائے تو حکومتی اعداد وشمار کے مطابق آزادکشمیر سے 20ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے ۔ جبکہ آزاد کشمیر کی ضرورت صر ف 350میگاواٹ ہے ۔ جبکہ منگلا ڈیم سمیت دیگر چھوٹے بڑتے ڈیموں سے 2ہزار میگاواٹ کے قریب بجلی پیدا کی جارہی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود آزادکشمیراندھیروں میں ڈوبا ہواہے ۔ یہی نہیں حکومتی اعدادوشمار کے مطابق 2006تک جو معدنیات کے ذخائز آزادکشمیر میں دریافت ہوئے ہیں ۔ ان کے مطابق ،روبی پتھر جس کی عالمی منڈی میں قیمت فی گرام 15سوڈالرہے ۔ اب تک 4کروڑ 40لاکھ گرام ذخائز دریادفت ہوچکے ہیں ۔ جن کی مالیت 66ارب ڈالر بنتی ہے ۔ جبکہ 50کروڑ 40لاکھ ٹن ماربل ،گرینا ئیٹ 1کروڑ 50لاک�آٹن اور 30لاکھ ٹن ڈالو مائیٹ کے ذخائر دریافت کیے جاچکے ہیں ۔ جبکہ اعدادوشمار کے مطابق آزادکشمیر سے سالانہ غیر قانونی طور پر جو لکڑی سمگل کرکے پاکستانی منڈیوں میں پہنچائی جاتی ہے ۔ اور وہاں سے عالمی منڈی میں بھیجی جاتی ہے ۔ اس کی مالیت 54ارب روپے بنتی ہے ۔ یہ تما وسائل غاصب ممالک کے قبضے میں ہیں ۔ جبکہ یہاں کے عوام دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں ۔ اجلاس سے چیف آرگنا ئندہ اسلم وطنوف پر وفیسر سکندر اعظم ، سینئر نائب صدرزون احتشام الحق ایڈووکیٹ ، ضلعی صدر محمد امین ایڈووکیٹ ، تحصیل صدر میرپور شعیب احمد ایڈووکیٹ شبیر قادری ضلعی سیکرٹری جنرل ، آصف کشمیر ی، سیکرٹری جنرل PNYLمظہر حسین ، اور عبداللہ قربان علی نے بھی خطاب کیا ۔

Share this:

Related News

Comments are closed

Jobs: career@azadnews.co.uk
News: news@azadnews.co.uk
Enquiries: info@azadnews.co.uk
Tel: +44 7914314670 | 07588333181

Copyright 2015 © AZAD is a part of Indigo Marketing & Media Productions Ltd.
41 West Riding Business Center, BD1 4HR |08657270| England & Wales.