National-Action-Plan-Pakistan

سیاسی دہشت گرد نیشنل ایکشن پلان

کسی مرض کی تشخیص کے بغیر اس کا ٹھیک ہو جانا ” معجزہ “کہلاتا ہے یا نصیب اچھے ہونے کا جملہ استعمال کیا جاتا ہے مگر غریب عوام کے لیے یہ دونوں چیزیں عموما دستیاب نہیں ہوتی ! نہ تو ان کے ہاں معجزات ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کے نصیب اچھے ہوتے ہیں ۔ بات ہو رہی تھی مرض کی تشخیص کی۔ اگر آپ دل کی بیماری کو کمر والے ڈاکٹر کو دکھائیں گے تو وقتی طور پر تسلی تو ہو جاےء گی کہ ڈاکٹر نے دیکھ لیا مگر کسی بھی صورت آرام نہیں ملے گا ۔
آزاد کشمیر اور ملک پاکستان میں ہونے والے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد بہت سی اصلاحات اور نشاندہیوں کا متقاضی ہے ۔ اگر ریاستی ادارے اسے یک طرفہ طور پر نافذ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس کے مطلوبہ نتائج آنا کسی بھی صورت ممکن نیں کیونکہ مرض کا صیح علاج مکمل تشخیص سے ہی ممکن ہے۔ ریاستی ادراوں کو اس بات کی مبارکباد ہے کہ انہوں نے صرف دہشت گردی میں اسلحہ برداروں کو ہی نہیں بلکہ ان کے سہولت کاروں کو بھی انجام تک پہنچانے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ جس سے دہشت گردی میں کافی حد تک واقع کمی آئی ہے۔
ہمارے ہاں بہت سے سیاسی دہشت گرد بھی موجود ہیں جو ابھی بھی اسی طرح دندناتے پھر رہے ہیں جس طرح آج سے چالیس سال قبل تھے ۔ ان سیاسی دہشت گردوں کا بڑا پیارا روپ ہے ضیاء دور میں جہاد فی سبیل اللہ اور کیمونسٹ رشیا کے خلاف لڑنے کا عزم کرتے ہیں اور سویلین حکومت کے آنے پر جمہوریت کی بقاء کی جنگ لڑتے ہیں ۔ اقتدار کی وکٹ پر کبھی یہ فوج کی طرف سے اور کبھی نواز ، بے نظیر یا کسی اور کی طرف کھیلتے ہیں ۔ فوج کی اقتدار میں موجود گی بھی انہیں پسند ہوتی ہے اور جمہوریت کے حسن کو بھی یہ ملکی سیاست کے گہنا سمجھتے ہیں عوامی مسائل ان کا محور ہر گز نہیں ہوتے بلکہ اقتدار میں رہنا ان کے لیے ضروری ہوتا ہے ۔ ضیاء کے غلط فیصلوں میں اسے تنہا کہتے ہیں اور صیح فیصلوں میں اسے اپنا لیڈر مانتے ہیں ۔ فوج کے اقتدار میں ہوتے یہ سارے آئین کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے مرتکب ہوتے ہیں اور فوج کے جاتے ہی انہیں آرٹیکل 6یاد آ جاتا ہے ۔ مشرف کے دور میں اس کو مشورہ دینے والے اب مشرف کا کتنا خیال رکھتے ہیں سبھی جانتے ہیں ۔ جنرل ضیاء کے مقبرے پر کتنے لوگ جاتے ہیں ۔
پاکستان فوج کے موجود سربراہ کے اقدامات کو سراہا نہ جانا ضرور زیادتی ہوگی ۔ راحیل شریف نے کافی جلدی اس چیز کو بھانپ لیا کہ موجودہ سویلین قیادت سخت فیصلے کرنے سے ڈرتی ہے لہذا انہوں نے زیادہ تر فیصلے خود ہی کر ڈالے ۔ انہوں نے مکمل طور پر گڈ اور بیڈ طالبان کے نظریہ کو رد کرتے ہوےء ان تمام لوگوں کے خلاف آپریشن کیا جودہشت گردی میں براہ راست یا کس بھی طرح سے ملوث پائے گئے۔ ڈرتا ہوں جس طرح کے القابات اور روزانہ کے بیانات یہ سیاسی دہشت گرد سپہ سالار کی شان میں دیتے ہیں کہیں سپہ سالار بھی ان کے دھوکے میں نہ آجائے اور کل یہی سیاسی دہشت گرد جنرل کے ساتھ کھڑے ہو کر وزیر اعظم کا حلف اٹھا رہے ہیں ۔ میری جنرل راحیل سے ایک ہی گزارش ہے ایک تو ان دہشت گردوں کو پکڑیں جو ملک کا امن تباہ کرنے کی کوشش کریں اور ان سیاسی دہشت گردوں کو بھی ساتھ پکڑیں نہ کہ ان لوگوں پر ہاتھ ڈالیں جو اپنے حق اور اپنے ساتھ ہونے والے استحصالی رویوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔

Share this:

Related News

Comments are closed

Jobs: career@azadnews.co.uk
News: news@azadnews.co.uk
Enquiries: info@azadnews.co.uk
Tel: +44 7914314670 | 07588333181

Copyright 2015 © AZAD is a part of Indigo Marketing & Media Productions Ltd.
41 West Riding Business Center, BD1 4HR |08657270| England & Wales.