Kharis

رومئ کشمیر حضرت میاں محمد بخشؒ

رومئ کشمیر حضرت میاں محمد بخشؒ
مصنف سیف الملوک کا سالانہ عرس مبارک 7ذوالحج کو کھڑی شریف (میرپور) میں منعقد ہو رہا ہے۔

شہرہ آفاق پنجابی تصنیف ’’سیف الملوک‘‘ کے مصنف رومی کشمیر حضرت میاں محمد بخشؒ اپنا پتہ یوں بتاتے ہیں۔
جہلم گھاٹوں پر بت پاسے میرپورے تھیں دکھن
کھڑی ملک وچ لوڑن جیہڑے طلب بندے دی رکھن
آپ کا مزار مقدسہ اپنے مرشد برصغیر کے عظیم قلندر حضرت پیرا شاہ غازی دمڑیاں والی سرکارؒ کے ساتھ میرپور شہر سے آٹھ کلومیٹر دور جانب جنوب نہر اپرجہلم کے کنارے روحانی کرنوں سے پورے علاقہ کو بقمہ نور بنائے ہوئے ہے۔حضرت رومی کشمیرؒ کا108واں سالانہ عرس مبارک پوری عزت وتکریم سے 07ذوالحج کو منعقد ہو رہا ہے اس موقع پر عظیم صوفی شاعر کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ حضرت میاں محمد بخش ؒ کی پیدائش1246ھ بمطابق1830ء ہے۔آپ کی عمر ابھی صرف چھ برس تھی کہ حضرت صا حبزادہ عبدالحکیم ؒ مرید خاص حاجی بگاشیرؒ نے آپ کو دیکھا تو آپ کے والد گرامی کو بتایا کہ آپ کا یہ بیٹاولی کامل بن کر بے پناہ شہرت حاصل کرے گا۔ حضرت میاں محمد بخش ؒ کی بیعت کی یہ روایت ملی ہے کہ ایک روز انہوں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت پیرا شاہ غازی قلندرؒ آپ کا بازو پکڑ کر ہدایت فرماتے ہیں کہ آپ میرے روحانی فرزند سائیں غلام محمدؒ کلروڑی (تحصیل ڈڈیال) کے پاس جا کر ان کے ہاتھ پر بیعت ہو جائیں۔چنانچہ غازی قلندرؒ کے حکم کی تعمیل میں آپ علاقہ اندر ہل کے گاؤں کلروڑی سائیں صاحب کے در اقدس پر حاضر ہوئے اور انہیں خواب کا واقعہ سنایا۔ انہوں نے مدعا سن کر چند روز وہیں ٹھہرنے کی ہدایت فرمائی اور بیعت کے انتظار میں چند سال کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد آپ کی بے چینی دیکھ کر ایک روز سائیں غلام محمدؒ آپ کو حضرت بابا بدوحؒ کے دربار پر ساتھ لے گئے اور وہاں بیعت سے سرفراز فرمایا۔حضرت میاں محمد بخشؒ کو خراج عقیدت پیش کرنے والے مضمون نویس اور مقررین حضرت کے روحانی پیشوا سائیں غلام محمدؒ کو بھول جاتے ہیں جو اپنے مرشد حضرت بابا بدوح شاہؒ ابدال کے پہلو میں قدیم ڈڈیال شہر کے قریب پلیر شریف میں آرام فرما ہیں۔ سائیں غلام محمدؒ کے ہاتھ پر بیعت کے بعد حضرت میاں محمد بخشؒ کے دل میں عشق الٰہی، سوزوگداز اور درد کے خزینے شاعری کی شکل میں ابل پڑے۔میاں صاحب نے اپنی ایک تصنیف ’’سوہنی مہنیوال‘‘ میں سائیں صاحب کو اس طرح خراج عقیدت پیش کیا ہے ۔
طالب تے مطلوب اوس عاشق مست مجید جس نے نفس لتاڑیا وانگن شیخ فرید
تجیوس دنیا لو بھ موہ کام کروہد پلید خاص غلام محمد جس دا میں مرید
اس موقع پر حضرت سائیں صاحب نے آپ کو عشق طریقت کی مزید منزلیں طے کرنے اور فیوض و برکات کی دولت سمیٹنے کیلئے سری نگر (مقبوضہ کشمیر) شیخ احمد ولیؒ کے حضور حاضری دینے کی ہدایت فرمائی وہ ایک بلند پایہ صوفی بزرگ تھے جو بہت کم لوگوں سے ملاقات کرتے اور وہ دو دو تین تین مہینے کا عرصہ گھر کو ہی نہیں لوٹتے تھے۔ چنانچہ جب حضرت میاں محمد بخش ؒ ان کے گھر سری نگر پہنچے اور وہ ایسے گھر واپس آئے کہ جیسے انہیں میاں صاحب کی آمد کی اطلاع پہلے ہی سے ہو۔ دوران ملاقات میاں محمد بخش ؒ نے ان سے حضرت پیرا شاہ غازی قلندرؒ کا تذکرہ کیا تو انہوں نے انتہائی ادب و احترام سے سرخم کر کے فرمایا کہ زیرک ہستی سری نگر کے روحانی دورہ کے دوران میاں صاحب نے حضرت نورالدین ولیؒ اور دیگر بزرگان و صوفیائے کرام کے مزارات پر حاضری دی اور جب وہاں سے واپسی کا پروگرام بنایا تو پھر حضرت شیخ احمد ولیؒ کے حضور پہنچے اور اس اہم ملاقات کے دوران حضرت شیخ آپ کو الگ کمرے میں لے گئے اور روحانیت کی وہ باطنی دولت آپ کے سینے میں منتقل کی جس کیلئے مرشد پاک نے ان کے پاس بھیجا تھا۔
سری نگر سے فیض روحانیت کے حصول کے بعد میاں محمد بخشؒ کے دل میں دنیا میں معرفت کا انقلاب پیدا ہو گیا۔ اور وہ جنگلوں ،بیابانوں میں یاد الٰہی میں مستغرق ہو گئے اور کھڑی شریف آکر بیرون دربار پیرا شاہ غازی قلندر ؒ مقیم ہو گئے۔ اور انہوں نے 33سال کی عمر میں 9248صفحات پر مشتمل شہرہ آفاق تصنیف ’’سیف الملوک ‘‘لکھی۔ عالم شباب میں یہ عظیم تصنیف کسی معجزہ سے کم نہیں ہے۔رومی کشمیر حضرت میاں محمد بخشؒ نے اپنے مرشد  حضرت بابابابا پیرا شاہ غازی قلندرؒ کے مزار اقدس پر دعا کی کہ مجھے حضرت رومیؒ جیسے سخنوں سے نوازا جائے۔
شاہ شمس تبریزی جوٹھا اک گھٹ سرخ شرابوں ملاں رومی نوں جیوں دتا ہویا کرم جنابوں
شاہ دولوں دمڑی والا جوٹھا اپنا کھانا دیوے میں پکھے دے تائیں رج رج موجاں ماناں
جے او مرشد مریں آوے جوٹھا گھٹ پلاوے ملاں رومی والے مینوں سچے سخن سکھا لے
پڑھنے سننے والے تائیں تئیں لذت آوے منگ نہ سنگ محمد بخشا مت او ہ کرم کماوے
حضرت میاں صاحب کی دیگر تصانیف میں پنج گنج،قصہ سسی پنوں ،گلزار فقر، تحفہ رسولیہ ،گلزار فقر ،کرامات غوث الاعظم ؒ ،تحفہ میراں ،ہدایت المسلمین ،نیرنگ عشق ،تذکرہ مقیمی ،سخی خواص خاں،قصہ شیخ صنعاں ،مرزا صاحباں ،شاہ منصور ؒ ،سوہنی مہنوال ،شیریں فرہاد وغیرہ قابل ذکر ہیں لیکن سیف الملوک کو غیر معمولی شہرت ملی ہے ۔بظاہر سیف الملوک کا موضوع حسن و عشق ہے لیکن اس کے پردوں میں عمل پیہم اور جہد مسلسل کی تاکید کی گئی۔ اس عظیم تصنیف میں عشق مجاز کے ذریعہ عشق حقیقی تک پہنچنے کی راہ دکھلائی گئی۔ پڑھنے والوں کو مجازی اور حقیقی عشق کے ذریعے تصوف و عرفان بیان کیا اور وہ عشق میں مستغرق ہو کر اپنے محبوب کی بات دوسروں کی بات کے پردے میں بیان فرماتے ہیں۔ ان کی اسی خوبی نے کلام کو بے پناہ شہرت عطا کی کیونکہ وہ کسی اورکے قصے میں اپنے درد وسوز کو بیان کرنے کے علمی فن کو بخوبی سمجھتے تھے۔

Share this:

Related News

Comments are closed

Jobs: career@azadnews.co.uk
News: news@azadnews.co.uk
Enquiries: info@azadnews.co.uk
Tel: +44 7914314670 | 07588333181

Copyright 2015 © AZAD is a part of Indigo Marketing & Media Productions Ltd.
41 West Riding Business Center, BD1 4HR |08657270| England & Wales.