L7

جیرمی کوربن برطانیہ میں لیبر پارٹی کے نئے رہنما کے سیاسی نظریات کا تعارف تحریر : شمس رحمان برطانیہ ؍کشمیر

ابھی ابھی میں نے دوبارہ لیبر پار کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے درخواست دی ہے ۔ میرے علاوہ پندرہ ہزار اور لوگوں نے بھی اس وقت تک ا یہ درخواست دے دی ہے۔ تین ماہ قبل جب جیرمی کوربن کا نام لیبر پارٹی کی قیادت کے امیدوار وں میں آیا تو لاکھوں لوگوں کی طرح میں نے بھی یہ سوچا تھا کہ چلو کوئی ایک ترقی پسندانہ سیاست بھی پیش کرے گا لیکن ساتھ میں یہ بھی سوچ رہا تھا کہ کوربن کو بُری طرح شکست ہو گی۔ اس وقت مجھے معلوم نہیں تھا کہ پارٹی قیادت کے انتخاب کے لیے ایک ممبر ایک ووٹ کا اصول اپنایا جاتا ہے۔ یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اب ارکان پارلیمنٹ کا بھی ایک ہی ووٹ تھا اور یونین کے ارکان کا بھی۔ بہرحال جب چند ہی ہفتوں میں ذرائع ابلاغ میں اور ٹونی بلئیر جیسے لیبر کے بظاہر مقبول عام لیڈروں کی طرف سے جیرمی کا اندر ہی اندر مذاق اڑائے جانے کے باوجود یہ سامنے آیا کہ لیبر کے ارکان میں مصنوعی ’’ نئی ‘‘ لیبر کے دولت پسند اور عوام مخالف پالسییوں کے پرچارکوں سے حقیقی لیبر کو آزاد کروانے کا رحجان طاقت پکڑ رہا ہے تو ظاہر ہے کہ خوشی ہوئی اور امید کا احساس بھی۔ میں نے بھی خود کو لیبر کا حمایتی رجسٹر کروا لیا جو کہ میں ظاہر ہے تھا۔
چند ہی ہفتوں میں برطانیہ کے طول و عرض میں ایک نئی سیاسی لہر پیدا ہوتی نظر آنے لگی۔ کہاں قیادت کے انتخابات چند سرگرم اور خود کسی نہ کسی طور پر براہ راست مستفید ہونے والے ارکان کی سرگرمیوں تک محدود اور کہاں جیرمی کوربن کے انتخابی جلسوں میں گنجائش سے زیادہ افراد کی پرجوش شرکت۔ پہلے سمجھا گیا کہ یہ پرانے سُرخے ، بزرگ سیاسی عقیدت مند ، ذرا سا موقع ملنے پر واپس لوٹ رہے ہیں۔ سیاسی چسکورے۔
لیبر کے کچھ لوگوں کی طرف سے یہ کہنے پر کہ ان کا دماغ تو نہیں مانتا لیکن دل کرتا ہے کہ جیرمی کو ووٹ دیں لیبر کے سابق لیڈر اور وزیر اعظم ٹونی بلئیر نے انہیں اپریشن کے ذریعے دل بدلوانے کا مشورہ دیا تھا۔ ٹونی بلئیر جس کی قیادت میں لیبر بیس سالہ اپوزیشن کے بعد ۱۹۹۷ میں اقتدار میں آئی اور دو بار مسلسل حکومت بنائی سمجھتے تھے اور پارٹی میں ان کے سیاسی ورثے کی پیداوار اور وارث بھی یہی مانتے تھے کہ اقتدار تک پہنچنے کے لیے برطانیہ میں دائیں بازو کے ذرائع ابلاغ ، سرمایہ دار طبقے اور جنگ بازوں کو قابل قبول سیاست کے سواء اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ اس کے لیے انہوں نے ہر وہ کام کیا اور بڑھ چڑھ کر کیا جو لیبر کی اقدار اور سوشلسٹ اصولوں کے خلاف تھا۔ بلئیر کے سیاسی طریقہ واردات کی نمایاں ترین صفات اس کی اپنی اور اس کے پرچارکوں کی طرف سے جھوٹ کو ڈھٹائی سے بیان کرنا اور بات کو گھما کر نیا رنگ دے دینا (spin )تھیں۔ اس کا ’’ بہترین‘‘ مظاہرہ ٹونی بلئیر نے امریکہ کی سرپرستی میں عراق پر حملے کو کمال ڈھٹائی سے جھوٹے ثبوتوں اور دعووں کی بنیاد پر لازمی قرار دینے کی مہم کے دوران دیکھنے کو ملا۔ لیکن ایسا لگتا تھا کہ لیبر پارٹی کے ارکان بلئیر کے دو بار جیت جانے کے سحر میں اس طرح گرفتار تھے کہ اس بیانک جنگ کے بعد بھی پارٹی کے اندر بلئیر والی سیاست کے پرچارک ہی آگے آتے رہے۔
گورڈن براون ، بلئیر کے مقابلے میں قدرے بائیں طرف تھے لیکن عراق کی جنگ اور خاص طور سے معیشت پر لیبر کی پالیسی ٹوری کے تابع ہو جانے کے باعث برطانیہ کے ’’ عام آدمی ‘‘ کی یہ جماعت نہ صرف الیکشن بلکہ سرگرم اور نظریاتی طور پر وفادار ارکان بھی ہار گئی۔ اگرچہ ٹوری کو مکمل اکثریت نہ مل سکی تاہم لبرلز کے ساتھ مل کر انہوں نے مخلوط حکومت بنا کر لیبر کو کافی حد تک غیر متعلق کر دیا کیونکہ لیبر کی مجموعی پالیسی یہ بن گئی تھی کہ ٹوری والے جو کچھ کر رہے ہیں وہ ٹھیک ہے لیکن ہم ان سے بہتر کر سکتے ہیں۔ خاص طور سے لیبر کی طرف سے یہ مان لینا کہ معاشی بحران بینکرز کا پیدا کردہ نہیں تھا بلکہ لیبر کی طرف سے معیشت کو ٹھیک سے نہ چلانے کا نتیجہ تھا۔
ایڈ ملی بینڈ جو گورڈن براون کے بعد پارٹی قیادت کے انتخابات میں اپنے بھائی ڈیوڈ ملی بینڈ سے جیتے تھے کیونکہ وہ بھی بائیں طرف سمجھے جاتے تھے اور ان کو یونینز کی قدرے زیادہ حمایت حاصل تھی لیکن پارٹی کے اندر ان کو وہ حیثیت نہ مل سکی یا وہ حاصل نہ کر سکے جو عام عوام میں ان کو مقبول بناتی یا عوامی اعتبار و اعتماد دلاتی۔ گذشتہ انتخابات میں ایڈ کی شکست کے بعد قیادت کے انتخابات میں جیری کوربن کی قطعاً غیر متوقع اور برطانیہ کی تاریخ میں کسی بھی سیاسی جماعت کی قیادت کے انتخابات میں سب سے بھاری جیت کے بعد جہاں بائیں بازو کی ٹوری پارٹی اور ذرائع ابلاغ نے چھریاں کانٹے تیار کر لیے ہیں وہاں لیبر پارٹی کے اندر اور باہر عام عوام کے مسائل و حقوق کی ترقی پسندانہ سیاست کو بھی جیسے ایک نئی زبان مل گئی ہے۔ متبادل کہانی جو کم از کم تین عشروں تک جنگ بازوں اور لالچی و سماج سے انکاری سرمایہ داروں کے غلبے تلے دبی ہوئی تھی اور محسوس ہوتا تھا کہ شاید دم توڑ رہی تھی جیرمی کوربن ٹیم کی جرات مندانہ مہم کی شکل میں ایک بار پھر قوت پکڑتی دکھائی دیتی ہے ۔
تاہم اس مشکل مگر نسبتاً آسان مرحلے کے بعد اب سوال یہ ہے کہ کوربن اپنے سیاسی نظریات اور معاملات کو پالیسیوں کی شکل میں کیسے ڈھالیں گے اور نہ صرف پارٹی بلکہ پورے ملک کے عوام کو کیسے قائل کریں گے کہ ان کے پاس جنگ، سرمایہ گردی، استحصال ، نفرت اور ذات پرستی کے علاوہ بھی ایک متبادل موجود ہے ۔ اور نہ صرف موجود ہے بلکہ قابل حصول اور قابل عمل ہے۔ اس پہلو پر تو ظاہر ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ بات کھلے گی اور جوں جوں بات کھلے گی اس پر لکھا بھی جاتا رہے گا ۔ تاہم آج بات کو مذکورہ تناظر میں لیبر پارٹی کے نئے لیڈر جیرمی کوربن کے سیاسی نظریات تک ہی محدود رکھوں گا۔
جیرمی کوربن کے نظریات
معیشت کے بارے میں جیرمی سرمایہ دار معیشت دانوں اور سیاستدانوں کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں کہ سرمایہ دار دولت پیدا کرتے ہیں اور باقی لوگ اس کو خرچ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جسمانی و ذہنی محنت کرنے والے کڑوروں عوام دولت پیدا کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں جبکہ بینکرز اور بڑے کاروباری و سرمایہ پرست اس دولت کا غلط استعمال کرتے اور معاشی بحران پیدا کرتے ہیں جیسا کہ بینکرز نے کیا لیکن اس کا الزام عام آدمی اور خاص طور سے معذور ، بے روزگار اور کمزور و بیمار اور بوڑھے افراد پر دھڑتے ہیں جو کہ انتہائی منفی اور عوام دشمن سیاسی حکمت علمی اور حکومتی طریقہ کار ہے۔ برطانیہ کے موجودہ معاشی خسارے کے بارے میں کوربن کا کہنا ہے کہ وہ خسارہ کم کرنے کے لیے غریبوں و معذوروں اور مزدور طبقے پر بوجھ نہیں ڈالیں گے بلکہ ڈیڑھ لاکھ پونڈ سالانہ سے زائد آمدنی والوں پر ٹیکس تھوڑا سا بڑھائیں گے اور بڑے کاروباریوں و سرمایہ داروں کی طرف سے ٹیکس بچانے اور کم دینے کے چلن کو روکنے کے لیے نئے اقدامات کے ذریعے رقم اکٹھی کریں گے ۔ ایسے گھر اور انفرا سٹرکچر تعمیر کریں گے جو جدید معاشروں میں معاشی ترقی کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معیشت کو بحران سے نکالنے اور بہتر بنانے کا بہترین طریقہ معیشت کو فروغ اور وسعت دینا ہے نہ کہ متوسط اور نچلے طبقے کو مزید نچوڑنا۔
کوربن طویل عرصے سے جنگ کے خلاف امن کے لیے تحریک میں قائدانہ کردار ادا کرتے آرہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگوں نے ہمیشہ تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں دیا اور دنیا کو جن بازی سے نکال کر اختلافات کو پر امن طور پر حل کرنے کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے وہ نیوکلئیر بموں کے بھی مخالف ہیں اور برطانیہ کے نیوکلئیر پروگرام جس پر ایک سو بلئین پاونڈ کا خرچ آتا ہے کو روک کر یہ رقم ترقیاتی کاموں پر خرچ کرنا چاہتے ہئں۔ وہ عراق و لیبیا پر حملوں کے خلاف ہیں ۔
وہ امیگریشن کو ایک مسئلے کی بجائے ایک تاریخی عمل سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ امیگرنٹس جن معاشروں میں جا کر بسے وہاں انہوں نے مقامی معیشت و معاشرے میں ایک کردار ادا کیا جس کو اکثر امیگرینٹس کے خلاف نفرت پھیلانے والی سیاسی جماعتیں نظر انداز کرتی ہیں ۔ لیبر پارٹی کی قیادت کا الیکشن جیتنے کے بعد وہ سیدھے پارلیمنٹ سکوائر میں مہاجرین کو خوش آمدید کہنے کے جلوس میں گئے اور کہا کہ اپنے ملکوں سے اجڑ کر مھفوظ جگہوں کی تلاش میں مارے مارے پھرنے والے مہاجرین کا موجودہ بحران بنیادی طور پر جنگوں کو پیدا کردہ ہے ۔ وہ جنگیں جو امریکہ اور برطانیہ نے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے شرو ع کیں۔ ان کا ماننا ہے کہ بلئیر کو عراق جنگ کے حوالے سے عالمی عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے جہاں یہ دیکھا جائے کہ انہوں نے جنگی جرائم کا ارتکاب تو نہیں کیا۔
تعلیم کے میدان میں جیرمی کوربن کا کہنا ہے کہ ہر ایک بچے کو تعلیم حاصل کرنے کے مکمل مواقع مفت ملنے چاہیں ۔ یہ ہر ایک بچے کا بنیادی حق ہے اور وہ اس سلسلے میں حکومتی گرانٹ کی بحالی اور طلباء کو قرض کے بوجھ تلے تعلیم حاصل کرنے کی پالیسیوں کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آرٹ و موسیقی کی تعلیم ہر بچے کو پیش کی جانی چاہیے۔ وہ نیشنل ہیلتھ ٹرسٹ کی طرز پر نیشنل ایجوکیشن ٹرسٹ کے ذریعے تمام شہریوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے کے حق میں ہیں۔
صحت کے شعبے میں وہ نجی کمپنیوں کی مداخلت کو مکمل طور پر ختم کر کے این ایچ ایس کو قومی ادارے کے طور پر صحت کی سہولیات مفت فراہم کرنے کے حق میں ہیں۔
سماجی انصاف اور حقوق انسانی کی پاسداری ان کی سیاست کے بنیادی اور مرکزی محور ہیں۔ وہ بتیس سال قبل پارلیمنٹ کا رکن منتخب ہونے کے بعد سے مختلف عالمی تحریکوں کا سرگرم حصہ رہے ہیں بشمول افریقہ میں سفید فام اقلیت کی طرف سے اچھوت کے خلاف تحریک اور فلسطینی پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے کی تحریک اور آئر لینڈ کی وحدت اور اازادی کی تحریک۔ کشمیر حوالے سے لیبر پارٹی اور اس کے نئے رہنما کی سیاست میں انصاف اور حقوق انسانی کے ساتھ وابستگی کی روشنی میں برطانوی کشمیریوں کو کیا حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے اس پر الگ سے لکھوں گا تاہم یہاں اتنا بتانا کافی ہو گا کہ اس سال برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر پر دو قرار دادیں پیش کی گئیں ۔ ایک قرار داد بھارتی مقبوضہ کشمیر میں حقوق انسانی کی پامالیاں روکنے کے لیے تھی جو کہ جنوری میں پیش کہ گئی اور ایک پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں حقوق انسانی کی پامالیان روکنے کے لیے ابھی پچھلے ہفتے یعنی دس ستمبر کو پیش کی گئی۔ جیرمی کوربن لیبر پارٹی کے واحد رکن ہیں جنہوں نے ان دونوں قرار دادوں پر دستخط کیے ہیں ۔ اس سے اور جو کچھ زبانی بات چیت کے ذریعے مجھے پتہ چلا ہے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جیرمی کوربن تقسیم کی لکیر کے دونوں جانب کشمیریوں کے حقوق کی حمایت کرتے ہیں اور پاکستانی نواز اور بھارتی نواز نہیں بلکہ کشمیر نواز ہیں۔ کشمیر پر بھارت و پاکستان کی سیاست کے پس منظر میں تقسیم کی لکیر کے دونوں اطراف کشمیریوں پر ہونے والے مظالم اور جبر اور بے انصافیوں سے آگاہ ہیں اور میری معلومات کے مطابق اس حقیقت سے بھی آگاہ ہیں کہ بھارت اور پاکستان کس طرح کچھ کشمیریوں کو مختلف جبری طور پر سیاسی و معاشی گرومنگ کے ذریعے اپنے اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
اس موضوع پر جلد ہی تفصیل سے لکھنے کی کوشش کروں گا ۔ تب تک سب کے لیے نیک تمنائیں ۔

Share this:

Related News

Comments are closed

Jobs: career@azadnews.co.uk
News: news@azadnews.co.uk
Enquiries: info@azadnews.co.uk
Tel: +44 7914314670 | 07588333181

Copyright 2015 © AZAD is a part of Indigo Marketing & Media Productions Ltd.
41 West Riding Business Center, BD1 4HR |08657270| England & Wales.