Yasir Malik Mpr

یوم مئی! ابھی جنگ جاری ہے

موسم سرد ہے !وہ صبح سویرے اٹھتی اور جائے نماز پر کھڑی ہو جاتی اور اپنے اللہ سے نہ جانے کیا دعا مانگتی؟ اس کا بیٹا سہما ہوا آدھ کھلی آنکھوں سے اسے دیکھتا اور اسے یہ خوف طاری ہو نا شروع ہو جاتا کہ اس کی ماں ابھی اسے اٹھنے کا بولے گی ! وہ کروٹ بدلتا اور دوسری طرف منہ کر کے اپنی آنکھوں کو زور سے بھینچ لیتاہے ،گرچہ وہ سو رہا ہے مگر نہ چاہتے ہوئے بھی اسے اپنی ماں کی آواز کا انتظار تھا ۔ وہ کچی نیند میں تھا اور آنے والے دن کا کرب ناک منظر اسے اٹھنے سے روک رہاتھا! خیروقت کب رکتا ہے ، صبح کی روشنی ہونے کو ہے اور اسے اپنی ماں کی آہٹ سنائی دیتی ہے اور وہ چارپائی پر آ بیٹھتی ہے ۔پیار سے کہتی ہے ” اٹھو بیٹا اٹھو بہت دیر ہو گئی ہے” وہ رضائی کو اور مضبوطی سے پکڑ لیتا ہے اور سوچتا ہے کہ کسی طرح یہ وقت رک جائے ! ماں اٹھ کر کچھ اور کام کرتی ہے اوردوبارہ ذرا کرخت لہجے میں کہتی ہے اٹھو بھی بعد میں مجھے نہ کہنا کہ دیر ہو گئی! وہ پھر کروٹ بدلتا ہے اور کہتا ہے بس پانچ منٹ ! مگر ماں بھی کیا کر ے وہ مجبور ہے ! وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے لخت جگر کے درد بھرے جسم سے رضائی کھینچ لیتی ہے ۔ اس کے معصوم چہرے پر ناگواری کے تاثرات ابھرتے ہیں اور وہ کہتا ہے ایک تو آپ بھی نہ سونے دینا ! اور اٹھ کر منہ پھلا کر بستر پر بند آنکھیں لیے بیٹھ جاتا ہے ۔
مشکل سے اٹھتا ہے اور پھٹی چپل پہن کر غسل خانے کا رخ کرتا ہے وہاں پہنچ کر وہ بالٹی میں پڑے سرد پانی کو دیکھتا ہے اور کچھ لمحہ یہ سوچتا ہے کہ نہاؤں یا نہیں! اس کی کہاں چلتی ، وہ برتن میں پانی ڈال کر اسے اپنے اوپر انڈیل دیتا ہے ! ایک لمحہ کے لیے اس کا دماغ اس سرد پانی سے جم سا جاتا ہے وہ جلد ی جلدی بدن کر صابن لگا کر اسے حرارت پہنچاتا ہے اور فورا غسل خانے سے تولیہ کے لیے آواز لگاتا ہے ۔ماں دوڑتے ہوئے اپنے بیٹے کے لیے تولیہ لیے پہنچ جاتی ہے ۔ باہر نکل کر وہ تولیے میں ہی چولہے کے پاس بیٹھ جاتا ہے ماں کہتی جاؤ کپڑے بدل کو وہ پھر کہتا ہے بس ایک منٹ گرم ہو جاؤں اور دوڑتا ہو ا کپڑے بدل لیتا ہے ۔ کپڑے بدلنے کے بعد وہ سیدھا چولہے کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے ماں کیا کھلاؤ گی ماں ہنستی ہے اور کہتی ہے روز کیا کھاتے ہو ! وہ بھی مسکراتا ہے اور ماں روز کی طرح رات کی بنی ہوئی روٹی اور چائے کا ایک پیالہ اس کے سامنے رکھ چھوڑتی ہے ۔سردی کی وجہ سے روٹی سوکھ چکی ہے اور وہ اسے ڈبو ڈبو کے کھا نا شروع کرتا ہے ابھی ناشتہ درمیان میں ہی ہے تو ماں پھر کہتی ہے جلد ی کرو یہ لو اپنا سامان ! ” بستہ” جی نہیں “ایک کدال اور ایک بلیچہ” ! وہ اپنا سامان لے کر گھر سے روانہ ہوتا ہے اور ماں اسے کندھے پر اس کا سامان رکھے جاتے ہوئے دیکھ رہی ہے ! وہی کندھا بھلے وقت جس پراس کی ما ں کتابو ں کا بستہ دیکھتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔!
وہ سخت سردی میں اپنے گھر سے پیدل چوک میں پہنچتا ہے اور (Round About)کے سامنے بنی اینٹوں کی دیوار پر جا بیٹھتا ! وہ کسی گہر ی سوچ میں گم ! قریب سے اس عمر کے نجانے جتنے بچے روزانہ اپنے ماں باپ کے ساتھ گاڑیوں میں اور پیدل سکول جاتے ہیں ! ان بچوں کی آنکھوں میں تواگلی ساری زندگی کے خواب موجود ہیں ، مگر اس کی آنکھوں کو صرف ایک ایسے گراہک کی تلاش ہے جو اسے 350روپے ، دوپہر کی روٹی اور شام کی چائے دے سکے ! کئی دفعہ چوک سے مڑتے ہوئے ! جب بھی اس کی آنکھ مجھ سے ملتی تو اسے لگتا کہ شاید میں ہی اس کا گراہک ہوں ! اچانک اس کی آنکھوں میں چمک آ جاتی ! اتنی دیر میں میں چوک سے موڑ کاٹ لیتا اور اس کی آنکھیں اگلے متوقع گراہک کی آمد تک ماند پڑ جاتی! میں اکثر اس سے اپنی آنکھیں چراتا ۔۔۔۔۔۔۔۔

آج یکم مئی ہے مزدوروں کا عالمی دن ! جی ہاں وہ دن جس دن دنیا بھر کی اقوام اپنے ملک میں موجود مزدور طبقہ کی فلاح و بہبود کے لیے پچھلے سال کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیتی ہیں اور اگلے سال ان کی بہتری کے لیے نئے اقدامات اور اعلانات کیے جاتے ہیں !ہم میرپور کے امیر ترین چوک میں کھڑے ہو کر چند جھنڈے اٹھا کر انہی مزدورں اور ہاں شکاگو کے مزدورں کے نام آدھ گھنٹہ گزاریں گے ۔ معذرت کے ساتھ ایک منٹ کی خاموشی بھی شامل ہے اس میں ! مگر اس خاموشی میں چوک کے مزدوروں میں سے ایک بھی مزدور شامل نہیں ہو گا ! کیوں کہ اگر وہ جلوس میں آ گیا تو شام کو اس کے گھر کا چولہا نہیں جل پائے گا ! میں دنیا کی بات کیوں کروں میں اس مزدور کی بات کر رہا ہوں جو روزانہ مجھے للچائی نظروں سے چوک میں بیٹھا نظر آتا ہے ! میں اس مزدور کو کیوں نہ دیکھوں جو کہ میرے گھر سے چند قدم کے فاصلے پر فٹ پاتھ پر بھوکا سوتا ہے ؟ اس مزدور کو کیوں نہ دیکھوں جو نجانے کتنے لوگوں کے گھروں میں اپنی اجرت لینے کے لیے چکر کاٹتا ہے! اس کو کیوں نہ دیکھوں جو روزانہ اپنی ماں کو اس کے مرنے سے پہلے حالات بہتر ہونے کا دلاسہ دیتا رہتا ہے ۔
یکم مئی ہے آج مزدورں کے حقوق پر ہر جلسے جلوس ، رٹی رٹائی تقاریر اور سالانہ Retakes  نہ کوئی نئی پالیسی ، نہ کوئی لائحہ عمل نہ تو کشمیر اور نہ ہی ملک پاکستان ۔ کشمیر حکومت تو پاکستان کو امام سمجھ کر ہر نماز اسی کے پیچھے پڑھتی ہے چاہے وہ ایک رکعت میں چار سجدیہی کر ڈالے ! سوال تو یہ ہے کہ کیا آج تک کسی مزدور کی داد رسی ہوئی ؟ کیا آج بھی ہمارے ملک میں لوگ اپنی بھوک کی وجہ سے اپنے آپ کو آ گ نہیں لگا رہے ؟ ہاں ہر سال مزدورں کی اجرت بڑھا دیتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ چیزوں کی قیمتیں بھی تاکہ تناسب برقرار رہے ۔ نہ تو تنخواہ بڑھانے کی ضرورت ہے اور نہ ہی قیمتیں ٖضرورت ہے تو ایک ایسا معاشرہ اور نظام بنانے کی جو مزدورں کی فلاح و بہبود کے لیے واضع اور قابل عمل پالیسیاں بنا سکے اور ان کا پہرہ دے سکے ۔ جن سے ان کا مستقبل محفوظ ہو سکے ! حکومت پالیساں بنائے نہ بنائے اس ننھے مزدور کی جدوجہد تو بہر حال جاری رہے گی! اور وہ روزانہ یہی سوچ کر حوصلے کے ساتھ اپنے گھر سے نکلے گا۔

مجھے کچھ سانس لینے دو

مجھے کچھ اور جینا ہے

ابھی ارمان باقی ہیں

ابھی آشائیں زندہ ہیں

ابھی تک میں نہیں ہارا

ابھی تک جنگ جاری ہے

Share this:

Related News

Comments are closed

Jobs: career@azadnews.co.uk
News: news@azadnews.co.uk
Enquiries: info@azadnews.co.uk
Tel: +44 7914314670 | 07588333181

Copyright 2015 © AZAD is a part of Indigo Marketing & Media Productions Ltd.
41 West Riding Business Center, BD1 4HR |08657270| England & Wales.