Tehreek e insaf

تحریک انصاف آزاد کشمیر……رویے بدلیں ، چہرے نہیں

تحریک انصاف آزاد کشمیر
رویے بدلیں ، چہرے نہیں

کچھ عرصہ قبل آزاد کشمیر میں بننے والی تحریک انصاف بھی اب اسی موڑ پر کھڑی ہے جس پر کچھ عرصہ قبل پاکستان میں عمران خان پارٹی الیکشن کے بعد کھڑے تھے ۔ سٹیٹس کو کے خلاف علم جہاد بلند کر کے تحریک انصاف نے لوگوں کو ایک نئی جدو جہد میں لگا دیا تھا۔ پارٹی کا الیکشن سسٹم ہر نئے دماغ کے لیے روشنی کی ایک کرن تھا جہاں کوئی بھی سیاسی عہدہ کسی کی میراث نہیں تھی۔ جہاں کوئی بھی پارٹی کے چیر مین کی سیٹ کو بھی چیلنج کر سکتا تھا ۔ جہاں نئی نسل، جو پرانے سیاستدانوں سے تنگ آ چکی تھی کو روشنی کی ایک نئی کرن اور ایک تازہ دم لیڈر نظر آرہا تھا۔ مگر ہوا وہی جو یہاں کے سسٹم میں ہوتا ہے ۔ ایک بڑے جلسے اور چند نوابزادوں نے عمران خان کو یقین دلا دیا کہ اب سب کچھ آسان ہو چکا اور اسی گمان میں وہ خود اسی سٹیٹس کو کا حصہ بن گئے ،جس کے خلاف بغاوت کا علم انہوں نے اٹھایا تھا۔ اس تمام عرصے کے دوران ہزاروں نہیں لاکھوں نوجوان اپنے لیڈر کے لیے جان نچھاور کرتے اور لیڈر کی آنکھوں کی چمک کو دیکھ کر جیتے تھے ۔ پتہ نہیں پے در پے لیڈر سے ہونے والی غلطیوں کو لوگ کب تک معاف کریں گے ۔ عمران خان سے بڑی غلطی اس وقت ہوئی جب انھوں نے اپنے ارد گرد موجود لوگوں کی نظروں سے اپنے جان نثاروں کو پرکھنا شروع کر دیا ۔ جہاں عمران خان نے سوچ لیا کہ اس کے ساتھ رہنے والے اسی طرح کی سوچ کے مالک ہیں جیسا وہ سوچتا ہے ۔ پاکستان میں ہونے والے پارٹی الیکشن میں وہ تمام لوگ جو پارٹی کے بانی ممبرز تھے کو پچھلی سیٹوں پر دھکیل دیا گیا اور جاگیر داروں ، صاحبزادوں کے چہیتے امیدواروں کو عہدے دلاےء گئے جس کا خمیازہ 2013میں بھگتا گیا ۔ اپنی ناکامی کا احاطہ اور تنظیم سازی کرنے کی بجائے نہ جانے کس کی آواز پر لانگ مارچ لے کر چل پڑے میرے سمیت ہزاروں لوگ روزانہ تقریر سنتے اور سوچنے کی کوشش کرتے کہ یہ کرنا کیا چاہتے ہیں ۔ جاگیرداروں نے ہی جوڈیشنل کمیشن کو ڈیل کیا اور دھرنے میں موجود تمام الزامات سے گو اس طرح دستبرداری اختیار کی جیسے الیکشن دھاندلی تو ایشو ہی نہیں تھا ۔ اگر فیصلے عمران خان نہیں کرتا تو 249″کون کرتا ہے ” ۔ کارکن اس بات کا جواب چاہتے ہیں کہ اگر ہمارے معیار بھی جاگیرداروں نے ہی دیکھنا ہی تو وہی کام تو ن لیگ اور پیپلز پارٹی بھی کر رہی ہے ۔
دو دن قبل تحریک انصاف آزاد کشمیر نے اپنے عہدے داران کا اعلان کیا اس میں بہت کم تعدا د ان لوگوں کی تھی جو ایک عرصے سے تحریک انصاف سے منسلک تھے ان میں سے اکثریت ان لوگوں کی تھی جو نہ تو روایتی سیاست پر یقین رکھتے تھے اور نہ ہی وراثتی عہدوں کے قائل تھے ۔ پڑھے لکھے لوگ کسی بھی پارٹی کا اثاثہ ہوتے ہیں ۔مگر موجودہ پارٹی قیادت نے ان تمام کو اس موڑ پر لا کر کھڑا کر دیا ہے جہاں وہ اپنے لیے نئے راستے تلاش کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں ۔ ڈاکٹر لطف الرحمن کی جگہ لینے والے چودھری ظفر انور سے وابستہ امیدوں نے بھی دم توڑ دیا ہے ۔ ان کارکنوں کا غصہ غلط ضرور ہو سکتا ہے مگر پارٹی قیادت کو ان کی بات سننی چاہیے ۔ اگر ابھی بھی عمران خان یا قیادت کے لوگ ان لوگوں کو نظر انداز کریں گے تو اگلا دھرنا تحریک انصاف آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی پر دے گی یا اس سے پہلے آپ کے اپنے نظریاتی کارکن آپ کے خلاف دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے ۔ پہلے بھی لکھا تھا کہ بیرسٹر سلطان کا پارٹی میں آنا غلط نہیں جس طریقہ کار کے تحت وہ پارٹی میں داخل ہوئے وہ غلط ہے ۔ مگر جس عوام اکثریت کے وہ حامل ہیں وہ بھی ڈھکی چھپی نہیں ۔ مگر اس کا فیصلہ پارٹی قیادت کو کرنا ہے ۔ آج بات اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ جو لوگ کچھ عرصہ قبل ان کی قیادت میں کام کرنے کو تیار تھے وہ بھی انکاری ہو چکے ۔ تحریک انصاف کے اندر موجود نظریاتی لوگوں کا سب سے بڑ ا مسئلہ وہ وجوش و جنون ہے جس کی امید انہیں عمران خان نے دکھائی تھی ۔ سبز پتے جھڑنا شروع ہو چکے روزانہ ایک کارکن دل برداشتہ ہو کر کچھ نہ کچھ بول اٹھتا ہے ۔ بیرسٹر صاحب سے پہلے بھی گزارش کی تھی اب بھی کروں گا ۔ استحصال کسی کا نہ کیجیے پرانے اور نئے اراکین میں انصاف کیجیے آپ کا اپنا ہی فائدہ ہے ۔ کوشش کریں رویے بدلیں نہ کہ چہرے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان نظریاتی کارکنوں کو دو ہی رنگ نظر آتے ہیں یا کالا یا سفید ، یہ آف وائٹ پر یقین نہیں رکھتے ۔

پاکستان میں جماعت کے اندر ہونے والی ٹوٹ پھوٹ تو اگلے ۳ سال میں کسی نہج پر پہنچ جائے گی مگر آپ کے پاس صرف ایک سال ہی بچا ہے جماعت کو منظم کرنے کا

Share this:

Related News

Comments are closed

Jobs: career@azadnews.co.uk
News: news@azadnews.co.uk
Enquiries: info@azadnews.co.uk
Tel: +44 7914314670 | 07588333181

Copyright 2015 © AZAD is a part of Indigo Marketing & Media Productions Ltd.
41 West Riding Business Center, BD1 4HR |08657270| England & Wales.