Kalbag dam

کالا باغ ڈیم حیدر ذمان راٹھور

دنیا کے ہر ملک کو سب سے اہم ضرورت ، بجلی کے پروجیکٹس کو لانچ کر کے اور صنعتی پیدا وار سے اپنے ملک کی معشیت کو مضبوط کرنا ہوتا ہے ۔ قیام پاکستان کے بعد گورنر جنرل کی حیثیت سے قائد اعظم نے میانوالی میں دریائے سندھ کو دیکھ کر انہوں نے وہاں میانوالی ہائیڈل پراجیکٹ بنانے کا فوری حکم دیا تھا لیکن ان کی رحلت کے بعد یہ منصوبہ پایا تکمیل تک نہ پہنچ سکا ۔ آج پاکستان کی 20کروڑ عوام کے لئے 20ہزار کلو واٹ بجلی کی ضرورت ہے جس سے گھر یلو صارفین کے علاوہ پاکستانی انڈسٹریز نے چل کر ملکی پیداوار کے ساتھ ملک کی ریڑ ھ کی ہڈی کو مضبوط کرنا ہوتا ہے ۔ پاکستانی عوام کو ایک وقت میں ایٹمی پروگرام لانچ کرنے اور یورینیم کو استعمال میں لا کر بہت ہی سستی بجلی کی پیدوار کا پاکستانی عوام کو لالی پاپ دیا گیا لیکن امریکی دباؤ پر پاکستان کی ہر حکومت نے ایٹمی بجلی کی پیداوار کی بندش کو اپنا فرض عین سمجھا جس کی وجہ سے آج تک پاکستان بجلی کی خستہ خالی کا شکار ہے۔ گذشتہ تین دھائیوں سے پاکستان کی کسی بھی حکومت نے سوائے لوٹ مار کرنے کے علاہ کسی بھی بجلی کے منصوبے کی پلاننگ نہیں کی جس کی وجہ سے پاکستان میں بڑھتی ہوئی بجلی کی مانگ کی وجہ سے ہمارا ملک دائمی گرمیوں اور سردیوں کی لوڈ شیڈنگ کی زد میں ہمیشہ رہتا ہے جبکہ پاکستانی انڈسٹری کے زوال پزیر ہونے پر دن بدن اور قرضوں کی جال میں پھنستے ہوئے عالمی بنیوں کے شکنجے میں کستا چلا جا رہا ہے ۔ عالمی سطح پر پاکستان میں ایٹمی نجلی کی تیاری پر پابندی لگنے اور فرنس آئیل کی دن بدن بڑھتی قیمتوں کے باعث پاکستان میں دو بڑے تربیلا اور منگلا بند مٹی زیادہ بھر جانے کی باعث زیادہ بجلی کی پیداوار کے سلسلے میں بانجھ ہو چکے ہیں جبکہ پاکستان کے چند چھوٹے ڈیمز بھی بجلی کی پیداوار میں ملک کا ساتھ دینے سے قاصر ہیں تو ایسی صورت حال میں بجلی کی طلب اور رسد کے نظام کے باعث پاکستان اور آزاد کشمیر کی عوام سارا سال خستہ حالی کا شکار رہتی ہیں جس کے لئے نئے بجلی کے منصوبوں کی اشد ضرورت رہی ہے لیکن ہر حکومت لسی پی کر چین کی نیند سو ئی رہتی ہے ۔ 1953 میں ضرورت کے پیش نظر حکومتی سطح پر کالا باغ ڈیم کا منصوبہ بنایا گیا تھا جو شروع دن سے وڈھیروں اور سیاسی کھڑپینچوں کی وجہ سے مصلحتوں کا شکار چلا آ رہا ہے ۔ چند پاکستانی حکومتوں کے دور اقتدار میں اس کی تعمیر کے لئے کچھ کوششیں ضرور ہوئی لیکن سندھ کے 13 ، کے پی کے 5 ، ایسے خاندان جو پاکستان کے دوشمن ممالک سے ڈالرز لیکر ہر بار اس ڈیم کی تعمیر میں رکاوٹ بنتے ہیں ۔ جس کی بنا پر یہ منصوبہ آج تک کھٹائی میں پڑا ہوا ہے ۔ مئی 2000 میں اُس وقت کے طاقتور حکمران جنرل پرویز مشرف کے اس منصوبے پر کام شروع کرنے کی اعلان کے بعد MQM کے الطاف حسین کی ایک ٹیلی فون کال پر وہ ڈھیر ہو گئے تھے جبکہ ہر دور میں ANP کے خان غفار خان ، ولی خان کے بعد کالا باغ ڈیم کی مخالفت کا بیڑا اب اسفند یار ولی نے اٹھایا ہوا ہے ۔ 1985میں گورنری سے معزول ہونے کے بعد اور امریکہ کی طرف سے پاکستانی سفیر کی حیثیت سے قبول نہ ہونے اور سرحد کی چیف منسٹر شپ کے حصول میں ناکامی کے بعد اس صوبے کے شیر شاہ سوری کہلوانے والے جنرل ریٹائیرڈ فضل الحق نے اپنے دو ساتھیوں میر نواز مروت اور گوہر رحمن سے قومی اسمبلی میں صوبہ سرحد کے ڈوبنے کا نعرہ لگوا کر کالا باغ ڈیم کی تعمیر میں رکاوٹ ڈالنے میں ایک اہم کردار آدا کیا تھا۔ پاکستان کے ازلی دوشمن بھارت کی اس ڈیم کی مخالفت کسی طور پر بھی ڈھکی چھپی نہیں جس کا اظہار بھارتی جرنیل SBM پدوانا بھون نے یہ کہتے ہوئے کیا تھا کہ پاکستان 1985تک کلیپس ہو جائے گا اور جس پر آج بھی ہندوستانی سرکار پورا زور لگا رہی ہے کہ اس ڈیم کے نہ بننے سے پاکستان ہمیشہ تاریکیوں میں ڈوبا رہے ۔ سچ پوچھیں تو قدرت نے چاروں اطراف سے گھیرے ہوئے پیالے کی صورت میں یہ ڈیم ایک نعمت خدا وندی کے طور پر ہمیں دیا ہوا ہے جس کو دنیا کی 9 بڑی کمپنیو ں نے بنا بنایا ڈیم قرار دیا ہوا ہے لیکن یہ مطلب پرست لوگ اس کی تعمیر میں رکاوٹ ڈال کر ملک کا بیڑہ غرق کرتے ہوئے جگ ہنسائی کروا رہے ہیں۔ نہایت غور طلب بات یہ ہے کہ جس کا ان مخالفت برائے مخالفت کرنے والوں کو اندازہ نہیں کہ یہ ڈیم ہر سال 10جولائی سے 10 ستمبر تک دو ماہ کی مون سون کی طوفانی بارشوں سے لبالب بھر جایا کرے گا اور اس ڈیم کا ٹھا ٹھیں مارتا پانی سندھ سے پنجاب ، کے پی کے اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں کو پورا سال سیراب کرتا رہے گا۔ اس وقت سارے پاکستان میں 3 کروڑ 50 لاکھ رقبہ کاشت ہوتا ہے جو کالا باغ ڈیم تعمیر ہونے پر 7 کروڑ ایکڑ رقبے کو سیراب کرے گا اور اس ڈیم سے پیدا ہونے والی 5000 میگا واٹ سستی بجلی پاکستان کو ایک روپیہ دو پیسے فی یونٹ پڑے گئی ۔ موجودہ صور حال میں پاکستان کو ا سوقت گیس سے 5 روپے 41 پیسے ، فرانس آئیل سے 12روپے 4 پیسے ، نیوکلیئر توانائی سے 5ر وپے 20 پیسے یونٹ بجلی تیار ہونے کے بعد ملتی ہے جس کو پاکستان کا پالتو ( واپڈا ) 18 سے 22 روپے فی یونٹ بجلی صارفین کو مہیا کر رہا ہے جبکہ ڈیم کی آبپاشی سے سب سے زیادہ فائدہ سندھ کو ہو گا اور اپر سندھ کے دونوں کناروں کی 13 لاکھ آراضی سیراب ہو سکے گئی اور اس طرح لوئر سندھ ، کچے کا علاوہ ، ٹھٹھہ ، بدین اور سندھ کے تھر کا علاقہ اس کے پانی سے سیراب ہو سکے گا۔ اس کے علاوہ پنجاب کا چولستان کا علاقہ اور بلوچستان کا کچی کا علاقہ اس ڈیم کے پانیوں سے سر سبز و شاداب ہو گا جبکہ خیبر پختونخواہ کا 7 لاکھ ایکٹر جو رقبہ سیراب ہو گا اس سے اس صوبے کے شہر ہنگو ، کرک ، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک ، بنوں اور بہت سارے علاقوں کو پانی ملنے سے ان علاقوں میں بھی خشحالی آئے گئی ۔ ماہرین کے ایک اندازے کے مطابق اس ڈیم کے تعمیر نہ ہونے کی وجہ سے حکومت پاکستان سالانہ 32 ارب روپوں کا نقصان کر رہی ہے جس کے لئے وہ زرہ بھی شرمندہ نہیں اور اسی وجہ سے ہی 2010 کے سیلاب میں نوشہرہ شہر 2 بار پانی میں ڈوبا تھا۔ پاکستان کے تمام صوبوں کے ابن الوقت سیاست دانوں کی طرف سے لگائے گئے الزامات کا جواب پاکستانی ماہرین کچھ یوں دیتے ہیں کہ اعتراض (1)پر ان کا کہنا ہے کہ تاریخ میں یہاں سب سے بڑا سیلاب 1929 میں آیا تھا اور یہ جھیل بھر جانے کے باوجود پانی نوشہرہ سے 10 میل نیچے تھا اس لئے یہ ڈیم بننے کے بعد بھی نوشہرہ کو ڈوبنے کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ اعتراض (2) پر ان کا کہنا ہے کہ صوابی ، مردان اور نو شہرہ کی زمینیں اس لئے سیم زدہ نہ ہوں گی کہ ا س جھیل کا پانی سطح سمندر سے 97 فٹ بلند ہو گا جبکہ پبی کا علاقہ سطح سمند ر سے 962 فٹ اور صوابی 100 فٹ بلند ہے اور اس طرح پانی کی سطح اس علاقے سے 50 تا 100 فٹ نیچے ہو گئی ۔ جس کی وجہ سے ان علاقوں کی زمین کو سیم و تھور کا کوئی خطرہ نہیں ۔ اعتراض (3) پر ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیم میں پانی کی سطح 915 فٹ بلند ہو گئی جس کی وجہ سے ایک لاکھ 35 ہزار ایکٹر اراضی زیر آب آ ئے گی لیکن ایک لاکھ 27 ہزار 500 ایکڑ زمین مستقل طور پر متاثر ہو گی جس میں 24 ہزار 500 ایکڑ پنجاب جبکہ صرف 13000 ایکڑ زمین صوبہ پختونخوا ہ کی متاثر ہو گئی ۔ اعتراض (4) پر ماہرین یہ کہتے ہیں کہ ڈیم میں جو پانی جمع ہو گا اور اس سے پیدا ہونے والی بجلی کو تمام صوبوں میں یکساں تقسیم کیا جائے گا۔ اعتراض (5) ماہرین سندھ کے ا س اعتراز کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس طرح سندھ کی تہذیب پرانی ہے ا سی طرح وہاں (سیلابہ) کے زریعے آبپاشی کا طریقہ بھی پرانا ہے لہذا اس صوبے کے ان علاقوں کو ٹیوب ویلوں کے زریعے سیراب کرنے سے ان علاقوں کی پیداوار بڑھنے سے کسی کو پریشانی کی ضرورت در پیش نہیں آئے گی ۔ اعتراض (6)سندھ کی تمام زمین اس ڈیم کے بننے سے خشک ہو جائے گئی اس پر ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیم میں وہی پانی جمع ہو گا جو موسم گرما کی بارشوں اور پہاڑوں کی برف پگھلنے سے حاصل ہو گا اس لئے سندھ کی زرعی معشیت کا واویلا صرف اعتراض برائے اعتراض کے سوا کچھ نہیں جو بلا جواز ہے ۔ اعتراض (7) ڈیم کی تعمیر کے بعد پختونخواہ اور پنجاب کے لئے نکالی جانے والی نہروں پر سندھ کی جانب سے شکایت پر اس منصوبے سے خارج کر کے پہلے ہی سندھ کو تخفظ دیا جا چکا ہے جس پر ان کو مزید دباؤ بڑھانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے ۔ اعتراض (8) ا س آخری اعتراز پر ڈیم کی جھیل کے بھرنے کے باوجود بھی تمام صوبوں کو وافر مقدار میں پانی میسر نہ ہو گا ، پر ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ انہوں نے 70سالوں کے دوران ان علاقوں کے بہنے والے دریاؤں کے پانی کا تخمینہ لگایا جبکہ بین الصوبائی منصوبے کے تحت سندھ کے 20 لاکھ ایکڑ پانی کے استعمال کے بعد بھی 90 لاکھ ایکڑ پانی سمندر میں جا کر ضائع ہو جاتا ہے ، تو اس ضائع ہونے والے پانی کو اگر کوئی دوسرا صوبہ استعمال کر لے تو اس کی صحت پر کوئی اثر نہ پڑے گا اور قطع نظر اس بات کے ، کہ کوٹری بیراج سے بہنے والے 90 لاکھ ایکڑ فٹ میں سے صرف 60 لاکھ ایکڑ فٹ پانی مصرف میں لانے کے بعد 30 لاکھ ایکڑ فٹ پانی جو سمندر میں جا کر ضائع ہو رہا ہے ا س کو بھی اگر استعمال میں لایا جائے تو اس کے ساتھ ملکی پیداوار میں اضافے کے ساتھ ملک خشخالی کی طرف گامزن ہو سکتا ہے ۔ ماضی میں ڈیم کی تعمیر کی تختی کا پتھر نصب ہو چکا تھا، لیبارٹریاں قائم ہو چکی تھیں ، ڈیم سائیٹ کے 2کلو میٹر دور لیبر کالونیاں کی تعمیر شروع ہو چکی تھی۔ دریائے سندھ کے جنوبی کنارے سے شمالی کنارے تک سامان کی ترسیل کے لئے کیبل وے تعمیر ہو چکا تھا اور میانوالی شہر میں ڈیم پراجیکٹ ڈائریکٹر اور ایکس ای این کے دفاتر نے کام شروع کر رکھا تھا کہ سیاسی وڈیروں کے مفادات کو مد نظر رکھ کر حکم شاہی کے باعث اس ڈیم کی تعمیر کا کام رکنے کے باعث وہاں پر پڑھی ہوئی مشینری زنگ آلودہ ہو چکی ہے جو لوہے کے بھاؤ فروخت کرنے کے قابل ہے ۔ کالا باغ ڈیم کی کہانی مری زبانی کے تحت اگر یہ ڈیم تعمیر ہو جائے تو اس سے پیدا ہونے والی 5ہزار میگا وارٹ بجلی سے ہی ملک میں جاری لوڈ شیڈنگ ختم ہو سکتی ہے اور تمام صوبوں کو وافر پانی ملنے سے ملک کی پیداوار میں اضافے کے باعث خشخالی لائی جا سکتی ہے ۔ اپنی ذاتی انا کے خول میں بند پاکستانی سیاستدان اور وڈیرے اگر اپنے ذاتی مفادات کو چھوڑ کر ملک کے بارے میں سوچیں تو اس ڈیم کی بجلی کی پیداوار سے ملک میں ساری لوڈ شیڈنگ ختم ہونے سے ایک طرف ملک کے لوگوں کی مشکلات ختم ہوں گی جبکہ دوسری طرف انڈسٹری کے چلنے سے غیر ملکی برامدات سے ملک کی ریڑھ کی ہڈی بھی مضبوط ہو گئی ۔ لیکن ان درندوں کو پاکستان کی نہیں بلکہ اپنے ذاتی مفادات کی سوچ کو ختم کرتے ہوئے اب ملک کی اجتماعی سوچ کو مد و نظر رکھ کر کالا باغ ڈیم کی مخالفت کو چھوڑ نا ہو گا تا کہ پاکستان خشخالی کی طرف گامز ن ہو سکے ۔*****

Share this:

Related News

Comments are closed

Jobs: career@azadnews.co.uk
News: news@azadnews.co.uk
Enquiries: info@azadnews.co.uk
Tel: +44 7914314670 | 07588333181

Copyright 2015 © AZAD is a part of Indigo Marketing & Media Productions Ltd.
41 West Riding Business Center, BD1 4HR |08657270| England & Wales.