SARDAR QAYYUME

سردار عبدالقیوم خان مجاہد اول یا غلامی کا استعارہ تحریر : شمس رحمان

جو پیدا ہوا ہے اس نے مرنا ہے۔ موت کا ذائقہ سب نے چکھنا ہے۔اور زندوں نے اپنی اپنی زندگی کی راہوں پر اپنے اپنے حالات و استطاعت کے مطابق چلتے رہنا ہے ۔ یہی زندگی کا نظام ہے۔ یہی دنیا کی ریت ہے۔پیدائش سے پہلے انسان کہاں تھا ؟ مرنے کے بعد کہاں جائے گا اور اس کے ساتھ کیا ہوگا؟
یہ عقائد اور فلسفے کے سوال ہیں جن پر ازل سے آج تک کروڑوں فلسفیوں، پیغمبروں ، ولیوں اور موت و حیات کے عالموں نے اپنے اپنے زمانے کے حالات اور دستیاب علم و حکمت کی روشنی میں طبع آزمائی کی ہے۔ اور ابد تک کرتے رہیں گے۔
آزاد کشمیر کے سابق صدر اور وزیر اعظم اور آزاد کشمیر مسلم کانفرنس کے سابق صدر اور تاحیات سرپرست اعلیٰ سردار عبدالقیوم کل بروز جمعتہ الوداع اس جہان سے رخصت فرما گئے ۔ انا للہ و انا علیہ راجعون ۔ ہمارے مذہبی اور مذہب سے جُڑے ثقافتی عقائد کے مطابق رمضان کے مہینے میں وفات پانا خوش قسمتی سمجھا جاتا ہے اور جمعے کے روز اور وہ بھی رمضان کے آخری جمعے کو وفات پانے کے لیے تو ہر مسلمان جانے کتنی دعائیں مانگتا ہے۔ یوں سردار قیوم صاحب کو بجا طور پر خوش قسمت قرار دیا جارہا ہے کہ ان کو یہ مبارک اور بابرکت دن ملا۔ ان کی زندگی اور موت کے مذہبی پہلووں پر تو ان کے عقیدت مند ظاہر ہے کہ عقیدت مندانہ جذبات و خیالات کا اظہار کرتے رہیں گے اور کس کو خبر کہ صرف اس وجہ سے ہی ان کے پیروکاروں اور ورثاء کے لیے وہ نئی نعمتوں ، رحمتوں اور برکتوں کا باعث بن جائیں۔ خاص طور سے ایک ایسے سماج میں جہاں اکثریتی سوچ و فکر اب بھی تقدس کے ہالوں میں اور عقیدت کے غلافوں میں لپٹی ہوئی ہے۔
تاہم مجھے یہ تعزیت نامہ لکھنے کی تحریک میری زاتی زندگی پر ان کی سیاست اور انداز سیاست کے اثرات نے دی ہے۔ میری پیدائش و پرورش ایک ایسے گھر میں ہوئی جہاں چھوٹی عمر میں ہی میرا تعارف ایک محترم اور برگزیدہ شخصیت کے طور پر ہوا تھا۔ میرے بچپن کے زمانے میں میرے والد محترم صوفی محمد جان مسلم کانفرنس اور سردار عبدالقیوم کے ساتھ عقیدت کی حد تک وابستگی رکھتے تھے اور خود ان کی اپنی شکل و صورت اور انداز میں مجھے سردار قیوم کی جھلک نظر آتی تھی ۔ والد صاحب خود درویشانہ طبع کے باعث سردار قیوم کی درویشی سے متاثر تھے ۔ ان ہی سے میں نے بھی سردار قیوم ی کی سادگی اور درویشی کے قصے سنے تھے ۔ اب سوچوں تو بچپن میں سردار قیوم میرے لیے میرے والد صاحب کی طرح ہی ایک بارعب باپ Father figure کے روپ میں نظر آتے تھے۔
میں اس دور میں پروان چڑھا جب اکالگڑھ اور درحقیقت حلقہ نمبر دو میں مسلم کانفرنس ہی واحد جماعت تھی جس کو عوامی مقبولیت حاصل تھی ۔ خود مختاری کا نظریہ اور سیاست ابھی میرپور شہر تک محدود تھے ۔ آزاد کشمیر میں سردار قیوم کا نام اور کرسی صدارت ایک دوسرے سے لازم و ملزوم تھے۔ میرے لیے اور شاید دوسرے بے شمار لوگوں کے لیے وہ سردار قیوم نہیں بلکہ ‘ صدر قیوم’ تھے۔ حلقہ نمبر دو میں ستر کی دہائی تک سیاست پر ابھی بینس برادری کا غلبہ تھا ۔ اکالگڑھ میں راجہ محمد نجیب مرحوم اور راجہ محمد فاضل اور صوفی اعظم مسلم کانفرنس کے سینئیر ترین رہنما تھے جن میں اولین دونوں مسلم کانفرنس کے مرکزی عہدوں پر فائز تھے اور صوفی اعظم برطانیہ میں کشمیری سیاست کے اولین رہنماوں میں شمار ہوتے تھے۔ تاہم انتخابی سیاست میں کپتان سرفراز مرحوم ینسوں کے قائد اور حلقہ نمبر دو کے رکن اسمبلی بن کر ابھرےتھے ۔ بینسوں کے سیاست پر غلبے کی صورت حال یہ تھی کہ اس دہائی میں پیپلزپارٹی کے قیام کے بعد مسلم کانفرنس کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کے جو امیدوار سامنے آئے اور کپتان سرفراز سے سخت مقابلے کے بعد ہارے، چوہدری صادق مرحوم، وہ بھی بینس برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ پیپلز پارٹی کے قیام کے بعد میرے دادیال خاندان کی اکثریت چوہدری صادق کی حمایت میں تھی اور ننیال میں میرے نانا چوہدری صادق کے حامی تھے جبکہ باقی کے کزنز وغیرہ کپتان سرفراز کے لیے ہر وقت مرنے مارنے پر تیار رہتے تھے۔ تاہم میرے والد صاحب میں سیاسی رواداری اس ماحول میں بھی انتہا درجے کی تھی اس لیے ہمارے خاندان میں سیاسی بنیادوں پر کسی قسم کی ٹوٹ پھوٹ نہ ہوئی۔ کم از کم میں اس سے آگاہ نہیں تھا اور نہ ہی میرے ذہن میں سیاسی اور خاندانی رشتوں میں کوئی تضاد کبھی محسوس ہوا۔ شاید اس لیے بھی کہ خاندانی رشتے زمین سے اُگے ہوئے تھے اور سیاسی رشتے کہیں دور سے آ رہے تھے۔
سردار قیوم کو پہلی بار میں نے اکالگڑھ کے سکول میں دیکھا ۔ جب وہ صدر کی حیثیت سے سکول کے دورے پر آئے تو انہوں نے ملیشیے کی کالی شلوار قمیض پہن رکھی تھی جو اس وقت ان ہی کے حکم پر سکولوں کی یونیفارم بھی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب میں چچا اسحاق کی کتابوں کی دوکان ‘عتیق بکڈپو’ پر بیٹھ کر نسیم حجازی کے ناولوں کے ذریعے ‘ مجاہدانہ رومان ‘ میں ڈوبا رہتا تھا ۔ کالی داڑھی اور ملیشیے میں وہ مرد مجاہد نظر آتے تھے۔سردار قیوم کی پہلی تقریر شاید اسی دورے میں یا اس سے کچھ عرصہ بعد میں نے چوک کے جنوب مشرقی سرے پر واقع پلاہئی موڑ پر منعقد ہونے والے ایک جلسے میں سنی۔ اب ٹھیک سے یاد نہیں کہ جلسہ میرے والد صاحب کی زمین پر تھا یا اس سے منسلک کسی جگہ پر تاہم وہیں کہیں تھا۔ ہزاروں لوگوں کی موجودگی اور سکول کی اس عمر میں مجھے سمجھ تو کچھ نہ آیا لیکن ایک عجیب احساس تفاخر تھا کہ میرے والد صاحب کا لیڈر تقریر کر رہا ہے اور اتنے لوگ اس کے جلسے میں آئے ہیں ۔
اکال گڑھ میں میرے قریب ترین دوستوں میں بہت کم مسلم کانفرنس سے تعلق رکھتے تھے ۔ زیادہ تر پیپلز پارٹی کے حمایتی تھے ۔ میرپور کالج جا کر بھی یہی صورت حال رہی۔ اس وقت تک میرے والد صاحب مسلم کانفرنس چھوڑکر جماعت اسلامی میں جا چکے تھے اور ان ہی کے زیر اثر میں بھی اسلامی جمعیت کا حمایتی تھا۔
اگرچہ میں طلباء سیاست میں کسی بھی حوالے سے سرگرم نہیں تھا لیکن کالج جاکر پہلی بار معلوم ہوا کہ نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن المعروف این ایس ایف کے طلباء سردار قیوم سے نہ صرف سخت نفرت کرتے ہیں بلکہ سر عام انتہائی جارحانہ انداز میں اس کا اظہار بھی کرتے ہیں ۔ جب” بکرہ بکرہ ٹھا بکرہ” کے نعرے لگتے تو مجھے تکلیف ہوتی تھی۔ میرپور میں ، میں اپنے چچا عبدالرحمان کے پاس رہتا تھا جو اس وقت کیپٹن ڈاکٹر کی حیثیت سے میرپور کے سی ایم ایچ میں تعینات تھے [ اب کرنل ریٹائرڈ / ریڈیالوجسٹ ] ۔ اگرچہ ان کو سیاست میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی لیکن ان کے ساتھ رہنے سے معلوم ہوا کہ ان کو بھی سردار قیوم کی سیاست سے شدید اختلافات تھے۔ وہ کہتے تھے سیاست دان ہاتھی ہوتے ہیں جن کے کھانے کے دانت اور ہوتے ہیں کھانے کے اور ۔ تاہم چونکہ سیاست میری زندگی کا ایک بہت معمولی سا حصہ تھا اس لیے یہ کوئی ایسی ناقابل برداشت صورت حال نہیں تھی۔
پھر میں کراچی چلا گیا ۔ یونیورسٹی میں پہلے دوسال میں ذہنی طور پر اگرچہ اسلامی جمعیت طلباء کا حامی رہا لیکن سیاست میں دلچسپی بتدریج بہت ہی معمولی سی رہی۔ تاہم انداز فکر جو کچھ تھا وہ اسلامی سیاست جس کو آج کل ” سیاسی اسلام” Political Islamیا ” اسلامیت ” Islamism کہا جاتا ہے کہ سانچے میں ہی ڈھلا ہوا تھا۔ گیارہ فروری ۱۹۸۴ کو میری کایا پلٹ گئی۔ سب کچھ اتھل پتھل ہو گیا۔ کہانی بہت طویل ہے –یہاں اس کا تعلق صرف اتنا بنتا ہے کہ گیارہ فروری ۱۹۸۴ کو میں محض حادثاتی طور پر مقبول بٹ کی پھانسی کے خلاف کشمیری طلباء کے مظاہرے میں شریک ہو گیا۔ لیکن اس مظاہرے کے دوران پاکستانی پولیس کے وحشیانہ تشدد اور ہتک و تذلیل کے بعد زندگی میں پہلی بار میرے ذہن میں سیاست ، خاص طور سے کشمیر کی سیاست کے بارے میں والد صاحب کے رعب و اثر میں پڑھے اور پالے ہوئے اسباق ان گنت سوالوں کی ذد میں آگئے۔ پہلے تو میں نے خود مختار کشمیر کے حامی کشمیری طلباء سے مقبول بٹ کے بارے میں پوچھا کہ یہ کہانی کیا ہے۔ مقبول بٹ شہید اور خود مختار کشمیر کے نظریے اور تحریک کے بارے میں میرے اولین استادوں میں راجہ افتخار مرحوم ، ایاز میر ، خالق صاحب، عباس احمد آزاد اور شوکت کشمیری شامل تھے ۔
نصابی کتابوں میں تو مجھے سکول کے زمانے سے ہی بس امتحان پاس کرنے کی حد تک دلچسپی تھی لیکن غیر نصابی مطالعہ بچپن سے میری روزمرہ زندگی کا ایک باقاعدہ حصہ تھا۔ پہلے چچا اور والد صاحب کی طرف سے بچوں کی غیر نصابی کتب ، پھر چچا اسحاق کی دوکان پر نسیم حجازی اور پھر بازار سے کرائے پر سماجی رومانوی اردو ادب ،یہ سب کچھ میں نے خوب پڑھ رکھا تھا ۔ اب میں کشمیر سے متعلقہ سیاسی مواد کی تلاش میں نکل پڑا۔ جب جسمانی چوٹوں کا درد کچھ تھما تو میں اردو بازار میں جا کر جو کچھ کشمیر کے بارے میں ملا لے آیا۔ ان میں ایک رسالہ ” مسلمان ” بھی تھا۔ ایڈیٹر کا پورا نام تو یاد نہیں دوسرا نام سعود تھا ۔ساغر یا ساحر سعود یا کچھ اسطرح کر کے۔ اس میں سردار عبدالقیوم صاحب مرحوم و مغفور کا ایک انٹرویو تھا جس میں سے ایک سرخی یہ نکالی گئی تھی کہ ‘ اب مقبول بٹ کی لاش کا ڈرامہ ہو گا”؟ ایک دوسری سرخی جس کے الفاظ تو مجھے ہوبہو یاد نہیں لیکن معنی یہ تھے کہ مقبول بٹ ایک قاتل تھا اور قاتل کو پھانسی ہو گئی تو احتجاج کیسا۔ یاد رہے کہ مقبول بٹ کی پھانسی کے ردعمل میں آزاد کشمیر کے نوجوانوں نے خطے کےطول و عرض میں زبردست مظاہرے کیے اور صرف ہندوستان نہیں بلکہ پاکستان کے حکمرانوں کے خلاف بھی نعرے لگائے تھے۔
ان سرخیوں سے میرے دل و دماغ میں سردار عبدالقیوم کی شخصیت جو اس وقت تک میرے دماغ میں میرے والد صاحب کی شخصیت کے ساتھ گڈ مڈ تھی اور جو رعب و تقدس سے بُنے ہوئے احترام و وقار کے ہالے میں لپٹی تھی ایک دم سے جیسے ننگی ہوگئی ۔ اس ایک پل میں سردار صاحب میرے شعور کی سادہ سی دنیا میں تقدیس و رہنمائی کے چبوترے سے گر کر مجھے ملیشیے میں ملبوس اس پنجابی پولیس والے کے ساتھ کھڑے نظر آئے جس نے مظاہرے سے گرفتار کر کے پولیس کی گاڑی میں مجھ پر وحشیانہ تشدد کیا تھا اور مجھ سے کہتا تھا کہ ‘ کشمیر بنے گا پاکستان ‘ کا نعرہ لگاو۔ میں تو حقیقی طور پر کشمیر کے پاکستان سے الحاق کا حامی تھا لہذا بلا جھجک میں نے نعرہ لگایا تو اس نے ایک اور زوردار گھونسہ رسید کیا اور موٹی موٹی گالیوں کے ساتھ کہا کہ ‘تُسی کشمیر ہے ہی غدار قوم ہو’۔
میں تو مقبول بٹ کے بارے میں یہ بات اس وقت بھی نہیں کہہ سکتا تھا جب میں بھی یہی سمجھتا تھا کہ وہ کشمیر کو پاکستان سے الگ کرنا چاہتا ہے اور اس لیے پاکستان کا بھی اور اسلام کا بھی مخالف ہے ۔ لیکن اب تو مجھے مقبول بٹ اور خود مختار کشمیر کے نظریے کے بارے میں کافی کچھ معلوم ہو چکا تھا ۔ اور میرے خیال میں وہ کشمیر کی آزادی کے لیے سولی پر چڑھا تھا نہ کہ کسی سازش کا حصہ تھا ۔ لیکن سردار قیوم صاحب کی اس زبان اور لہجے نے مجھے چچو کی وہ بات بھی یاد دلا دی کہ سیاستدانوں کے کھانے کے دانت اور ہوتے ہیں اور دکھانے کے۔
میں نے کراچی اور برطانیہ میں کشمیر ی تاریخ و سیاست کے مختلف پہلووں کے بارے میں جاننے کا سفر جاری رکھا اور اس دوران سردار عبدالقیوم کا ‘مقدمہ کشمیر’ اور ‘ کشمیر بنے گا پاکستان’ بھی پڑھیں ۔ ان کی زندگی کے بارے میں جو کچھ مل سکا پڑھا۔ اور ان کی سیاست کے بارے میں بھی ان کے مخالفین اور حامیوں سے جو کچھ جانا اور سیکھا اس کا نچوڑ یہ ہے کہ ذاتی طور پر مرحوم مہاراجہ گلاب سنگھ کی طرح ایک معمولی فرد کی حیثیت سے اس وقت سیاست میں وارد ہوئے جب پاکستان کے قیام کے فوری بعد پونچھ میں سردار ابراہیم کی قیادت میں پاکستانی سیاستدانوں اور جرنیلوں کی رہنمائی اور پشت پنائی میں علاقے کے عوام نے مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف بغاوت کا آغاز کیا۔ موصوف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے پہلی گولی چلا کر اس بغاوت کا آغاز کیا تھا اور اس حوالے سے ان کو مجاہد اول کہہ کر بھی پکارا جاتا ہے اور سیاسی طور پر ان کی جماعت اور ان کے حامیوں نے اس کو خوب استعمال کیا ہے۔ تاہم ۲۸ ستمبر ۲۰۰۵ کو ہندوستان سے واپسی پر انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ میں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ کشمیری جہاد کے لیے پہلی گولی میں نے چلائی اور میں ہی مجاہد اول ہوں۔
ان کی ابتدائی سیاسی زندگی کو دیکھیں تو انہوں نے پونچھ میں سردار ابراہیم کو للکار کر سدھن قبیلے کی اوپرلی پرت کے مقابلے میں عام لوگوں کی مدد سے ابراہیم خاندان کی آجارہ داری کو ختم کر کے سیاسی گنجائش کو وسعت دی- تاہم پچپن کی دہائی میں سردار ابراہیم خان کو صدارت سے برخاست کرنے پر پاکستان کے خلاف جو پونچھ کی دوسری بغاوت ہوئی اس میں سردار قیوم نے بھی پاکستانی مداخلت پر شدید احتجاج کیا۔ اس کے بعد سردار عبدالقیوم مرحوم نے کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ دے کر اگرچہ اپنی حیثیت کو پاکستانی ارباب اختیار کی نظروں میں سردار ابراہیم کے مقابلے میں مضبوط بنا لیا مگر ‘آزاد’ کشمیر کی منفرد سیاسی حیثیت کو کمزور کیا ۔ تاہم انہوں نے کشمیر کے منفرد تشخص کوقائم رکھا ۔ لیکن جب ۱۹۶۰ کی دہائی میں نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن اور محاز رائے شماری کی طرف سے خود مختار کشمیر اور سیکولر و سوشلسٹ نظریات کا سرعام پرچار کیا جانے لگا تو سردار قیوم نے سیاسی وسعت کی بجائے تنگ نظری اور جارحانہ حکمت عملی کا مظاہرہ کیا۔ اس ابتدائی سیاسی چیلنج کے خلاف انہوں نے جس زبان کا استعمال کیا اس سے ان کی آمرانہ اور مہاراجائی سیاست بھی بے نقاب ہو گئی جس کا بد ترین مظاہرہ انہوں نے اکالگڑھ اور ڈڈیال میں خود مختار کشمیر کے حامی نواجوانوں کو ‘ جھاڑیوں کی پیدائش ‘ کہہ کر کیا۔
لیکن ستر کی دہائی میں جب پاکستان میں جمہوریت اور عوامی سیاست کی علامت زوالفقار علی بھٹو نے بدترین آمریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آزاد کشمیر کو صوبہ بنانے کی کوشش کی تو اسی این ایس ایف ، محاز رائے شماری اور دیگر آزادی پسندوں کے ساتھ ساتھ سردار قیوم نے بھی بھر پور مزاحمت کا مظاہرہ کیا۔
چند سال قبل جب کے بی سی ٹیلی ویژن کے پروگرام ڈائریکٹر کی حیثیت سے میں نے مقبول بٹ شہید کی برسی کے موقع پر پروگرام ترتیب دیے تو اس میں آزاد کشمیر کے سیاستدانوں کی طرف سے اس موقع پر خصوصی پیغامات ریکارڈ کرنا بھی شامل تھا۔ میں نے اس کے لےمتعلقہ عملے کو بطور خاص ہدایت دی کہ سردار قیوم صاحب کا پیغام بھی ریکارڈ کریں لیکن بوجہ ان کا پیغام تو ریکارڈ نہ ہوا تاہم ان کے بیٹے اور جانشین سردار عتیق احمد خان نے مقبول بٹ شہید کو کشمیری قوم کا ہیرو قرار دے کر میرے اندر اس چبن کو ختم دیا جو گیارہ فروری کے بعد سردار عبدالقیوم مرحوم کے اس جملے نے پیدا کی تھی کہ اب مقبول بٹ کی لاش کا ڈرامہ ہو گا ۔
۲۰۱۰ میں جب میں ایک ڈرامے کے مصنف کی حیثیت سے ‘آزاد’ کشمیر گیا تو اس پروجیکٹ کے سرپرست اعلیٰ خرم عدنان نے کہا کہ اس دورے کے دوران ‘آزاد’ کشمیر کے چیدہ چیدہ سیاستدانوں کے انٹریوز بھی ریکارڈ کرنے ہیں ۔ ہم راولپنڈی میں ٹھہرے ہوئے تھے کہ اس نے سردار عبدالقیوم صاحب کا انٹریو کرنے کی تجویز پیش کی تو میں نے کہا کہ چونکہ وہ سیاست میں اب سرگرم نہیں اس لیے ان کے اس انٹرویو میں ان کی زندگی کا احاطہ کیا جانا چاہیے۔ ہم متعلقہ انتظامات کے بعد انٹرویو کے لیے پہنچے تو سردار قیوم صاحب انتظار کر رہے تھے ۔ یہ میری مرحوم سے پہلی اور آخری ملاقات تھی۔ ان کے چہرے پر اور آنکھوں میں ان کی بھرپور اور سرگرم زندگی کے کئی باب پرت در پرت تمام تر تلخیوں اور کرختگیوں کے ساتھ دیکھے جا سکتے تھے ۔سردار صاحب نے برہمی چھپاتے ہوئے ہمیں دیر سے آنے پر ہلکی سی سرزنش کی ۔ اس میں وہ بالکل بجا تھے ۔ ہم نے معذرت کی۔ ۔ عدنان میرپور کے معروف مسلم کانفرنسی رہنما ظفر یعقوب مرحوم کا دوہتا بھی ہے اور اس حوالے سے بھی اس نے اپنا تعارف کروایا-
خیر انٹرویو کی نوعیت ، مقصد اور موضوعات و سٹرکچر کے بارے میں وضاحت کرنے کے بعد میں نے ان کا انٹرویو شروع کیا اور ہم سردار صاحب کے بچپن میں چلے گئے ۔ مجھے یہ جان کر بے حد خوشی ہوئی کہ وہ بالکل اسی انداز میں کھل کر اور گہری دلچسپی کے ساتھ بات کر رہے تھے جو کہ میں چاہتا تھا۔ کوئی گھنٹہ بھر کی گفتگو کے بعد وہ تھک گئے تو کل پھر آنے کے وعدے پر ہم رخصت ہوئے۔ لیکن دوسرے دن ہمارے محترم سرپرست اعلیٰ صاحب نے آدھ گھنٹے کی بجائے ایک گھنٹے کی تاخیر کر دی ۔ میں نے آنے سے انکار کر دیا کہ دیر سے پہنچنے پر سردار صاحب کا جو کل ردعمل تھا اس کے پیش نظر میرا خیال ہے کہ اول تو وہ ہم سے ملنے سے ہی انکار کر دیں گے یا کم ازکم انٹرویو تو بالکل نہیں دیں گے ۔ شاید ممکنہ اور متوقع شرمساری کا سامنا کرنے کی بھی مجھ میں ہمت نہیں تھی ۔ ہم نہیں گئے ۔ اور جو انٹرویو ریکارڈ کیا تھا وہ بھی جانے کس جہان میں کھو گیا ہے ۔
بہرحال نچوڑ اس ساری بات کا یہ ہے کہ سردار عبدالقیوم جیسی شخصیات کے کئی پہلو ہوتے ہیں اور کوئی بھی سیاسی شخصیت غیر منتازعہ نہیں ہوتی ۔ قبضے اور تصادم کا شکار خطوں میں سیاست ہنگامہ خیز اور سیاستدان مختلف انتہاوں پر کھڑے اور دائروں میں گھرے ہوتے ہیں ۔ جہاں ان پر عقیدت کے پھول نچھاور کرنے والے ہوتے ہیں تو وئیں ان پر لعن طعن کے سنگ برسانے والے بھی ہوتے ہیں۔ محبت و نفرت کے اس ماحول میں سیاستدانوں کی کامیابی کا مقبول عام پیمانہ یہ ہوتا ہے کہ کیا وہ گول پوسٹ تک پہنچے اور گول کرنے میں کامیابی حاصل کی؟ اس حوالے سے سردار قیوم ‘آزاد کشمیر کے کامیاب ترین سیاستدان تھے جنہوں نے نہ صرف بار بار اقتدار کے گول پوسٹ پر پہنچ کر گول کیے بلکہ ‘آزاد’ کشمیر کے میدان سے باہر پاکستان ، برصغیر اور وسیع تر مسلم ‘ اُمہ ‘ کے سیاسی صحرا میں بھی اپنے نقوش چھوڑے ۔ اور صرف سیاسی و علمی ورثہ ہی نہیں چھوڑا بلکہ اقتدار کا ورثہ اپنے بیٹے اور پوتے تک منتقل کیا جو ہمارے ہاں اقتداری سیاست اور سیاسی تجارت میں بڑی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔
تاہم کیا سردار قیوم نے کشمیری قوم بشمول آزاد کشمیر کے گرد لپٹی غلامی کی سیاسی ، سماجی ، معاشی اور ثقافتی و انتظامی زنجیروں کو کمزور کرنے میں کامیابی حاصل کی؟ اس سوال کا جواب نہیں میں ہے۔ درحقیقت انہوں نے اس حوالے سے عدم برداشت اور نفرت کی سیاست کو پروان چڑھایا اور پاکستانی حکمرانوں کی پشت پناہی اور سرپرستی حاصل کرنے کے لیے خود مختار کشمیر کے خلاف نفرت انگیز اور حد درجہ عامیانہ زبان اور حکمت عملی استعمال کی جس کی وجہ سے خود مختار کشمیر سے جذباتی اور رومانوی طور پر وابستہ نوجوانوں میں جن کی ایک بہت بڑی تعداد آزاد کشمیر میں پائی جاتی ہے ، سردار عبدالقیوم کے خلاف نفرت کے جذبات پائے جاتے ہیں ۔ ان کی نظروں میں وہ غلامی کا استعارہ تھے۔

Share this:

Related News

Comments are closed

Jobs: career@azadnews.co.uk
News: news@azadnews.co.uk
Enquiries: info@azadnews.co.uk
Tel: +44 7914314670 | 07588333181

Copyright 2015 © AZAD is a part of Indigo Marketing & Media Productions Ltd.
41 West Riding Business Center, BD1 4HR |08657270| England & Wales.