haider zaman

ظالمو تم نے کس فوج کوللکارا ہے

کورنگی ٹاؤن کراچی کے ایک پولس اسٹیشن پر ایک دوشیزہ کا گینگ ریپ ہوا تھا، غسل کے دوران اُس کی مٹھی سے پولیس شولڈر کراؤن برامد ہوا تو لوگوں کے احتجاج کے چھیر میں پیلی ٹیکسی والے الطاف حسین مہاجر قومی موومنٹ بنا کر الطاف بھائی بن گئے۔ جنہوں نے اس تنظیم کے یونٹ ، سیکٹر انچارج مقرر کرتے ہوئے سیکورٹی ایجنسی اور ڈیتھ اسکواڈ بنائے اور چوریوں ، بھتہ خوری کو زریعہ معاش بنایا ۔ جیک آباد ٹرینگ کیمپ میں نوجوان خوبرو ٹریننگ انسٹریکٹر لڑکیاں اپنے براہنے جسموں کے ساتھ نئے کارکنوں کو ٹریننگ دیتی تھیں ۔ تین دہائیاں قبل MQMنے منیجر کلیم کے اغواء اور اذیت دیکر اُن کے قتل کو اُس وقت کے آرمی چیف جنرل آصف نواز نے سیریس لیا اور اُن کے حکم سے نائن زیر و اپریشن سے جو مواد ضبط کیا گیا اُس کے مطابق پاکستان آرمی کے مقابلے میں وہ مہاجر گرین آرمی تشکیل دینا چاہتے تھے۔ اس کیس میں الطاف حسین کو دو بار عمر قید اور ایک بار سزائے موت کی سزا سنائی گئی تھی تب سے وہ بھاگ کر لندن چلے گئے تھے اور ایک برٹش نیشنل لڑکی سے شادی کے بعد وہ آجکل برٹش ہوتے ہیں۔ ابتدائی آیام سے ہی ( را )نے ایک منظم نیٹ ورک تشکیل دیا اور اس تنظیم کے لوگوں کو ہندوستان میں ٹریننگ اور اسلحے کے ساتھ دوبارہ کراچی لانچ کرتے وقت کروڑوں روپوں کی کرنسی کے بیگ بھی اُن کے ساتھ روانہ کئے جاتے تھے۔ ان ہی لوگوں نے حکیم محمد سعید ، مفتی نظام الدین ، مولانا یوسف لدھیانوی، زہرہ شاہد ، علامہ ترالی کے فرزند ، جامعہ کراچی کے پروفیسر ز ۔ ڈاکٹروں ، تاجروں اور 50ہزار کے لگ بھگ بے گناہ انسانوں کو کس نے قتل کروایا اور بھتہ نہ دینے کے جرم کی پاداش میں فیکٹریوں کو آگ لگا کر محنت کش ہزاروں لوگوں کا قتل اور اپنے مخالفین کے گھروں میں داخل ہو کر سر ے عام اُن کا قتل یہ ان لوگوں کے لئے ایک عام سی بات تھی۔ کراچی کے محصوم بے گناہ مقتولین کے بارے میں اگر تصدیق کرنی ہو تو ملیر ، گورنگی ، کلفٹن ، ناظم آباد ، نائن زیرو ، گورومند ر ، نیو کراچی ، تین تلوار ، کیماڑی اپکسیریس ، صدر ، حیدری مارکیٹ ۔ لیاری اور سبزی منڈی کے عوام سے پوچھ لیں لیکن وہاں کا ہر شخص خوف و ہراس کی فضاء میں دبے لفظوں الطاف حسین کو قاتل قرار دے گا لیکن اپنی جان کے خوف سے کوئی بھی کھل کر اس کا ا ظہار نہیں کرے گا۔ ہندوستان کی کسی بھی حکومت نے آج تک پاکستان کو کھلے دل سے تسلیم نہیں کیا ہے اور اسی لئے اس کے خاتمے کے لئے ملک کے ایک حصے کو بنگلہ دیش بنایا اور اب کراچی کو مہاجرستان کی ایک الگ ریاست کے قیام کے لئے را کی قیادت میں اور اپنی بغل بچہ تنظیم کے زریعے نہایت جانفشانی سے سرگرم عمل ہے ۔ روزانہ کی بنیاد پر الطاف حسین ہوش و عقل سے بیگانہ ہو کر جو دھمکی آمیزہ خطا بات حکومت پاکستان ، پاکستان آرمی ، ملکی سیاست دانوں کے علاوہ گورنر سندھ کو دیتے ہیں جبکہ خمار اُترنے کے بعد وہ اور اُن کے کراچی کے MQMکے قائدین اُن بیانات کی تاویلیں پیش کر رہے ہوتے ہیں اور اب لوگ اس بات کے عادی ہو چکے ہیں کہ وہ الطافی بیانوں کو زرا بھی اہمیت نہیں دیتے ۔ کراچی کے کسی بھی گراؤنڈ میں زبردستی بیٹھا ئے گئے مرد و زن کے اجتماع سے اُن کے تھانے داری خطابات کو پاکستان کے تمام پرائیویٹ TV چینلز فرض عین سمجھ کر Live اس طرح ٹیلی کاسٹ کرتے ہیں کہ جیسے وہ پاکستان کی بہت بڑی خدمت کر رہے ہیں اور حکومت بھی بھنگ پی کر سوئی ہوئی ہے کہ اُس نے اس طرح کے باغیانہ خطا بات کو نشر کرنے کی اُن کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے جس پر نظر رکھتے ہوئے اُن پر پا بندی لگانے کی ضرورت ہے ۔ ایک نہایت غور طلب بات کہ جو لوگ الطاف حسین کے حکم سے قتل و غارت گری کرتے ہیں وہ بھائی کہلواتے ہیں اور جو لوگ گرفتار ہو جائیں تو اُن کو یہ تنظیم پہچا ننے سے انکار کر دیتی ہے اور وہ لوگ جو MQMکو چھوڑ دیتے ہیں اُن کے لئے ڈیتھ اسکوارڈ حرکت میں آ جاتا ہے ۔ اب تازہ ترین واقعات کوہی اگر لیا جائے تو قائد کے حکم سے بے شمار خون کرنے والے صولت مرزا کو جب پھانسی کی صو رت میں موت نظر آئی تو تحریک کے اس سربراہ نے اُس کو پہچاننے سے انکار کر دیا تب حکومت کی طرف سے ڈیتھ سیل کے اندر اُس کا ریکارڑ کیا گیا بیان اُن کے پاس محفوظ ہے ۔ وار داتوں کے بعد قاتل گو رنر ہاوس میں عشرت العباد کی پناہ میں چلے جاتے تو وہ بہت اچھے تھے لیکن اب جیسے ہی اُنہوں نے ان دہشت گر دوں کو مزید پناہ دینے سے انکار کیا تو بھائی محترم نے فوری طور پر اُن کو اسطیفٰے دینے کا مطا لبہ کر دیا اور یہ کہا کہ اگر تم MQMکے ان جرائم پیشہ لوگوں کو مزید تحفظ نہیں دے سکتے تو اُن کو MQMکے صدا بہاری کوٹے سے ملنے والی گو رنری کرنے کا اب کوئی حق نہیں اور اسی وجہ سے جان بچانے کے خو ف سے وہ بے چارے بھیگی بلی بنے بیٹھے ہیں کہ نہ جانے اگر اُنہوں نے گورنری چھوڑی تو متحدہ کے ڈیتھ سیل کی طرف سے کب اُن کے لئے موت کا پروانہ آن پہنچے ۔ الطاف حسین کے گھر سے پانچ لاکھ پونڈز کے نوٹوں کی برامدگی پر سکاٹ لینڈ یارڈز نے انوسٹی گیشن ٹیم کی جانب سے حا لیہ گرفتار کئے گئے بنگالی طارق میر کے اعترافی بیان جس میں اُس نے بتایا ہے کہ وہ MQM لندن کے مالی اُمور کا انچارج ہے اور ہندوستان خفیہ ایجنسی ( را ) ہر ماہ باقاعدگی سے دبئی کے بینکو ں کی وساطت سے 8 لاکھ پونڈز آ تے ہیں اور اسی رقم کی برامدگی میں منی لانڈرنگ کیس چل رہا ہے ۔ ڈاکٹر عمران فا روق کے قاتلوں محسن علی سید ا ور خالد شمیم کو کراچی سے ا سلام آباد منتقل کیا گیا ہے جبکہ معظم علی پہلے سے ہی یہاں موجود ہے ۔ سکاڈش تفتیشی ٹیم تیسر ی بار ان ملزموں کے بیانات لیکر جا چکی ہے جبکہ لندن میڑو پولٹین پولیس اس کیس کے سلسلے میں 4ہزار سے بھی زائد لوگوں کے بیانات لے چکی ہے ۔ الطاف حسین کے خلاف گھیرا تنگ ہو چکا ہے جبکہ اُس کی جنوبی افریقہ فرار کوشش کو ناکام بناتے ہوئے لندن پولیس نے اُن کو لندن میں رہنے کے لئے پابند کیا ہوا ہے ۔ کالے چشمے والے خود ساختہ لیڈر نے اپنی سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے پاکستانی مسلح افواج کے چیف آف آرمی سٹاف کو للکارا ہے لیکن اس بار اُس کو معلوم ہو گیا ہے کہ سابقہ سندھ کی حکومیوں کی طرف سے ہجڑا بنائی گئی رینجر ز اب اپنے سپہ سالار کی مکمل اشیر باد اور تمام اختیارات کے ساتھ صف آرا ہو چکی ہے ۔ پاکستان کی غیرت مند فوج نے 1956. 1971 اور کارگل وار میں سیسہ پلائی دیوار بن کر اور اپنی جانوں کے نذ رانے دیکر وطن کا دفاع کیا اور مشکل کے ہر وقت چاہے وہ سیلاب ہو ، زلزلہ ہو یا کوئی اور آفات سماوی ہوں ہر وقت سیو یلین کے کام آئی ہے ۔ پاکستان کی مسلح افواج کے بہت سارے سربراہوں نے جہرت اور شجاعت کی داستانیں رقم کی ہیں جبکہ چند افراد نے اپنے اقتدار کی خاطر مارشل لاء کی چھتری کے نیچے بہت سارے گند اپنے کھاتے میں ڈالے ہیں جبکہ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ MQMکے پیدا ہونے پر اور خود مہاجر ہونے کے ناطے جنرل ضیاء الحق نے مکمل طور پر اس لسانی تنظیم کی مکمل آبیاری کرتے ہوئے اس کو پروان چڑھا یا تھا جو آج تک مستقل طور پر پاکستان کے لئے درد سر بنی ہوئی ہے ۔ موجودہ صورت کے پیش نظر قائد تحریک (بے تھویاں ) مار رہے ہیں ۔ ہر روز کسی نہ کسی کے خلاف بیان دیکر اور خمار اُترنے کے بعد روزانہ کی بنیاد پر معافیاں مانگ کر جگ ہنسا ئی کروا رہے ہیں لیکن اس بار وہ بھائی کچیاں اکھیاں مارے گئے ہیں جبکہ ان بھائی لوگوں کے خلاف جو کٹے کھلے ہیں وہ بھاندھتے ہوئے نظر نہیں آتے ہیں۔ MQMکی نئی قیادت لائی جانے کی بھی اطلاعات مل رہی ہیں لیکن اب ایک بات طے ہے کہ ہزاروں بے گناہوں کے رائیگا ں خون کی اللہ کی بار گاہ میں قبولیت کے بعد MQM اور الطاف حسین کے مکافات کا عمل شروع ہو چکا ہے ۔ اس حادثاتی لیڈر نے اس بار اُس شیر کی انکھوں میں آنکھیں ڈ ال کر للکارا ہے کہ جس کے خاندان نے پاکستان مسلح افو اج کے دس نشان حیدرز سے دو نشان حیدر لئے ہیں جبکہ ایک بیٹا اور ایک بھانجا ہونے کے ناطے پاکستان کے اس سپُو ت نے اپنے آپ کو میجر عزیز بھٹی نشان حیدر کا جانشین ثابت کیا ہے ۔ ضرب عزب سے لیکر کراچی میں امن قائم کرنے تک پاکستان کے اس غیر ت مند جرنیل نے موجودہ حکومت اور ہر طرح کے دہشت گردوں کو سوُتر کر دیا ہے ۔ اس بار الطاف کو لگ پتہ گیا ہے کہ اس نے بہترین مانجا لگی ڈور والے کے ساتھ پیچہ ڈال دیا ہے اس لئے بو کاٹا کی جعلی آوازوں کے ساتھ وہ ڈور پر دوڑ دیئے جا رہا ہے ۔ الطاف حسین اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں ۔ خو د قتل و غارت گری کا فر مان جاری کر کے شام کو live خطاب میں اُن مقتولین کے خون کا قصاص مانگ رہا ہوتا ہے ۔ پورے پاکستا ن نے تمہا رے یہ ڈرامے بہت دیکھ لئے ہیں اب کی بار فوج نے تم پر بہت سارے حاصل شدہ ثبوتوں کے بعد پکا ہاتھ ڈالا ہے جبکہ ڈمی رینجر ز کی جگہ بہت سارے اختیارات رکھنے والی رینجرز سے اب تمہا را سامنا ہے اور ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی طرح لندن کے تمہا رے فلیٹ میں تم کو مارنا اُن کے لئے مشکل کام نہیں اس لئے میری تم کو چتاونی ہے کہ ( مشتری ہوشیار باش)****ْ

Share this:

Related News

Comments are closed

Jobs: career@azadnews.co.uk
News: news@azadnews.co.uk
Enquiries: info@azadnews.co.uk
Tel: +44 7914314670 | 07588333181

Copyright 2015 © AZAD is a part of Indigo Marketing & Media Productions Ltd.
41 West Riding Business Center, BD1 4HR |08657270| England & Wales.