Dulha

راجہ بھوج

ہمارے ہاں ماہ اپریل ، مئی شادیوں کا مہینہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس ماہ میں ایسے ایسے لوگوں کی شادی بھی ہو جاتی ہے جن سے عموما کوئی شادی نہیں کرتا! جن میں راقم خود بھی شامل ہے ! خیریہ سب تو قدرت کی طرف سے ہوتا ہے ۔ مگر ہمارے ہاں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن میں قدرت کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا مگر رشتہ داروں کا اتنا عمل دخل ہوتا ہے کہ بعض اوقات وہ غیر ضروری چیزیں قدرت کی بتائی ہوئی چیزوں سے زیادہ اہمیت اختیار کر لیتی ہیں ۔ اس غیر ضروری اہمیت کا نقصان کسی ایک فرد کو نہیں بلکہ میری نظر میں معاشرہ اور آنے والی کئی نسلوں کو اٹھانا پڑتا ہے ۔
نام “راجہ بھوج” ، قد 6فٹ، عمر ۲۲ سال (ماں کی نظر میں ) مگر شناختی کارڈ پر 43 سال ، سر کا ایک چوتھائی حصہ بالوں سے عاری ، روزگار مل جائے تو شکر نہ ملے تو بہت زیادہ شکر کیا کرتے ، کسی کو تنک نہ کرتے کیوں کہ سار ا دن سو کر گزر جاتا تھا، ہاں کبھی کبھار عین کھانے کے وقت اچانک کوئی جگا دیتاتو غصے سے بڑبڑاتے ہوئے کھانا کھا نے سیدھے کچن میں پہنچ جاتے کھانا کھاتے اور پھر سو جاتے، تازہ ہوا کھانے کا دل کرتا تو نیم سفید بنیا ن، دانتوں کا سکڑا ان کے ہمراہ ہوتا ۔ ایک دن ایسا ہوا اپنی طائرانہ سوچ میں غرق بیٹھے ہوئے جناب کو اس بات کا ادراک ہو گیا کہ وہ عمر کا بہت سا حصہ کنوارے کی حیثیت سے گزار چکے ہیں لہذا کیوں نہ رہی سہی زندگی کسی دوشیزہ کی زلفوں کی قید میں گزار دی جائے۔ اس سوچ کی دلیل ان کے پاس یہ تھی کہ شادی کرنے سے انسان ذمہ دار ہو جاتا ہے اور اب وقت آن پہنچا ہے ذمہ داری اٹھانے کا ، نجانے کس بناء پر انہوں نے اپنے آپ کو اس عظیم سانحہ سے دو چار کرنے کا فیصلہ کر لیا؟ چند دنوں کی سوچ بچاراور اپنے جیسے چند مفکروں سے مشورہ کے بعد انہوں نے اپنے اس تاریخی فیصلہ سے گھر والوں کا آ گاہ کیا ۔ گھر میں تو جیسے کہرام مچ گیا چونکہ ان کی وجہ سے خالص پھوپھی کی بیٹی ا بھی تک کنواری بیٹھی ہوئی تھی اور عمر کی آخری حدوں کو چھو رہی تھی۔ ان کے اس فیصلے کو سب نے سراہا اور اسے عملی جامہ پہنانے کی طرف پیش قدمی شروع کر دی گئی۔ اتنے عرصے بعد گھر میں کوئی شادی ہونی تھی چہل پہل شروع ہو گئی ، مذاکرات معاملات طے ہونا شروع ہو گئے ہر کسی کے منہ پر صرف شادی کا ذکر تھا۔ 43سال بعد راجہ بھوج کو پہلی بار احساس ہوا کہ اس کے گھر والے اس سے واقعتا محبت کرتے ہیں ۔ معمولی تو وہ کبھی بھی نہ تھے مگر اب تو ان کی شادی ہونے والی تھی اور وہ ذمہ دار زندگی گزارنے والے تھے ۔ اس دوران کبھی لڑکی والوں سے مذاکرات ہوتے تو کبھی شادی میں آنے والے لوگوں کی لسٹ کے بارے میں غور و فکر کے لیے ان سے رائے لی جاتی ۔مشورہ والی باتوں سے تو جناب بہت خوش تھے مگر جب کبھی خرچہ کرنے کی بات آتی تو راجہ بھوج یا تو ناراض ہو جاتے یا اپنے کمرے کی جانب روانہ ہو جاتے۔ ان کی اس حالت کو دیکھ کر ان کے بہن بھائی انہیں دلاسا تو ضرور دیتے مگر پیسے دینے کے وقت کہتے اللہ پہ یقین رکھو کچھ نہ کچھ ہو جائے گا۔
اسی طرح ایک رات راجہ بھوج کی اپنے ابا جا ن کے ساتھ جہیز لینے کے معاملے پربحث چھڑ گئی ۔کیوں کہ ابا کی بہن جہیزکم دے رہی تھی مگر راجہ بھوج اپنی قائدانہ صلاحیتوں کی بنیاد پہ گاڑی اور مکان کے خواہشمند تھے ۔ابا نے کھر ی کھری سنائی اور کہا تم ہو کیا اور اپنی حرکتیں دیکھو! بات ہاتھا پائی تک جا پہنچی ۔ ماں نے بیچ بچاؤ کرا کر اپنے ہونہار بیٹے کو اس یقین کے ساتھ کمرے میں بھیجا کہ تمھاری تمام خواہشات پر عمل ہو گاِ۔ اگلی صبح متوقع دولہا کو جگانے کی خاطر جب ان کی چھوٹی ہمشیرہ کمرے کی جانب بڑھی تو کمرے کو اندر سے مفقل پایا اور شور مچا دیا امی امی بھائی دروازہ نہیں کھول رہا ۔ ابا اماں دوڑتے ہوئے کمرے کی جانب لپکے ماں کو تو یقین ہو گیا کہ جونہی دروازہ کھلے گا ان کا ہونہار بیٹا پنکھے کے ساتھ لٹکا ہو ا ہو گا اور باپ کو کوسنے لگی کہ سب تمہار ی وجہ سے ہوا ہے اگر میرے بیٹے کو کچھ ہوا تو میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔ ابا نے آن ہی آن دروازہ توڑ ڈالا ۔ بستر خالی دیکھ کر ماں کی جان میں جان آئی ۔ انہیں ایک خط ملا جس میں راجہ بھوج اپنے 43سالہ کیرئیر کے سب سے پہلے فیصلے سے مستعفی ہو کر پچھلی کھڑکی سے فرار ہونے میں کامیاب ہو چکے تھے۔
ہائے ہائے کیا کرے اماں اور کیا کرے ابا ! شادی میں چند دن اور راجہ صاحب غائب ؟ ابا جان کو یقین تھا کہ ان کا لخت جگر تین گلیوں سے آگے کبھی نہیں جاتا چونکہ وہاں سے آگے اس کو کوئی نہیں جانتا ۔ ایک دن ڈھونڈنے کے بعد پتہ چلا کہ نکڑ پہ دہی کی دکان کے اوپر کے کمرہ میں سوئے پڑے ہیں ۔ ان کی موجودگی کی اطلاع بھی دہی والے نے دی کیونکہ گزشتہ رات دہی والے کو ان کی وجہ سے زمین پر سونا پڑا تھا ۔ خیر اماں ابا اپنا مزاج بنا کر اچانک اس کمرے میں پہنچے اور موصوف کو جگایا پہلےتو انہوں نے بھاگنے کی خوب کوشش کی مگر دہی والے اور ابا جان کی مضبوط پکڑ نے انہیں روکے رکھا ۔ بڑی مشکل سے ابا جان نے جہیز سے متعلق تما م مطالبات مان لیےخیر بارات کا دن آن پہنچا ! راجہ بھوج نے ہمیں بھی ایک دوست کے توسط سے اس شرط پہ شادی میں شرکت کی اجازت دی کہ ہم اپنے ہمراہ ایک سرکاری گاڑی بھی لے کر آ ئیں گے جس سے بارات کا وزن زیادہ لگے ۔
ہال میں پہنچے ابھی چند وقت ہی گزرا تھا بیٹھے ہوئے کہ ایک آواز سنائی دی “کھانا کھل گیا ہے” اور ساتھ ہی پراتوں کے زمین کے گرنے کی آ وازیں آنا شروع ہو گئیں ۔ ہمارے ارد گرد طوفان سا برپا تھا۔ کوئی ادھر کو کوئی ادھر کو بھاگا جا رہا تھا لگتا تھا جیسے پہلی دفعہ کھانا روئے زمین پر اترا ہے اور تو اور راجہ بھوج کھانے کی آواز سنتے ساتھ سٹیج پر اچھل پڑے تو کسی نے مشورہ دیا آ پ پریشان مت ہوں آپ کو کھانا یہاں ہی دیا جائے گا ۔ میں اور میرا دوست کافی دیر تک اس صورتحال کو دیکھتے رہے اور فیصلہ کیا کہ ہمیں بھی اس میدان میں کودنا پڑے گا وگرنہ آج بھی دال روٹی ہمارا نصیب ہو گی ! جب بوتلوں کی باری آئی تو کہرام مچ گیا کیوں کہ جو کچھ کھایا تھا اس کو ہضم کرنے کے لیے بوتل فرائض میں شامل تھی۔لوگوں نے اس فرض کو بھی بخوبی ادا کیا ! رخصتی کا لمحہ تو تاریخی تھا کیوں کہ راجہ بھوج کو آج لڑکی کے ساتھ ساتھ ایک گاڑی بھی ملنی تھی ! جونہی رخصتی کا وقت آیا راجہ بھوج کو ان کی نئی ملنے والی گاڑی کے پاس کھڑا کیا گیا ان کے سسر نے انہیں گاڑی کی چابی پکڑائی اور اس تاریخی لمحہ کو فلمایا بھی گیا تا کہ سند رہے۔۔۔۔۔۔۔۔ آج راجہ بھوج چند عدد بچوں کے باپ ہیں اور کسی حد تک ذمہ دار بھیبظاہر عام سی باتیں ہیں مگر سوچیے ہم لوگ شادی جیسے پاکیزہ اور مقدس رشتہ کی تکمیل میں کن فضول رسومات کے ہاتھوں یرغمال بن جاتے ہیں ۔ یہ نہیں سوچتے کہ جتنا پیسہ ہم نے ان رسومات (کھانا ، جہیز) پر لگایا ہم کسی غریب یتیم بچی کی شادی کروا دیتے؟ کھانا صرف ایک وقت کا ہوتا ہے مگر ڈشز آٹھ رکھنے پر اصرار کرتے ہیں ۔ اتنا کھانا ضائع کرتے کبھی نہیں سوچتے کہ ہمارے ملک میں نجانے کتنے لوگ فٹ پاتھوں پر روزانہ بھوکے سوتے ہیں؟ جہیز لیتے وقت یہ بھی نہیں سوچتے کہ لڑکی کے ماں باپ نے اپنا سب سے پیارا اثاثہ ہمارے حوالے کیا پھر بھی اس کے ساتھ گاڑی اور مکان کی خواہش کرتے ہیں ۔ ہیومن رائٹس آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ہر سال 300لڑکیاں جہیز نہ لانے کی وجہ سے یا تو زندہ جلا دی جاتیں ہیں یاتنگ آ کر خود کشی کر لیتی ہیں، کیا ہم ان تین سو لڑکیوں کے لیے کچھ نہیں کر سکتے؟ کیا ان رسومات کو معاشرتی برائیاں قرار نہیں دیا جا سکتا جن سے ان کروڑوں لوگوں کا استحصال نہیں ہوتا ہے جو یہ سب کچھ کرنے کی سکت نہیں رکھتے ۔

Share this:

Related News

Comments are closed

Jobs: career@azadnews.co.uk
News: news@azadnews.co.uk
Enquiries: info@azadnews.co.uk
Tel: +44 7914314670 | 07588333181

Copyright 2015 © AZAD is a part of Indigo Marketing & Media Productions Ltd.
41 West Riding Business Center, BD1 4HR |08657270| England & Wales.