jk

آزاد’ کشمیر ‘ میں آئینی ترامیم اور آزادی پسندوں کے خدشات تحریر : شمس رحمان برطانیہ

‘آزاد’ کشمیر کی آزادی کے بارے میں نہ تو الحاق پاکستان والوں کو کوئی شبہ ہے اور نہ خود مختار کشمیر کے حامیوں کو۔ دونوں اچھی طرح جانتے اور سمجھتے ہیں کہ نام کی حد تک تو ‘ وطن ہمارا آزاد کشمیر’ آزاد ہے لیکن عملی طور ہر یہاں ہاکستان کے حکمرانوں کا اختیار چلتا ہے۔ موجود سیاسی علم و اعمال [ سیاسیات اور سیاست] کے مطالعے اور مشاہدے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی ‘آزاد’ کشمیر یا ریاست کے کسی اور حصے میں موجود صورت حال کو بدلنے کی بات ہوتی ہے تو وہ ریاست کی ‘متنازعہ’ حیثیت سے الگ کر کے نہیں ہوتی۔ یہ کوئی سیاسی بیان نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ ۱۹۴۷ ء میں ریاست کی تقسیم کے بعد سے علیحدگی / تقسیم کی لکیر کی دونوں جانب بھارت اور پاکستان نے ریاست کی خود مختاری کو ختم کر دیا اور دونوں جانب خود مختار کشمیر کی سیاست کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دے دیا۔ لیکن دونوں اطراف ریاست جموں کشمیر کی منفرد حیثیت، باشندہ ریاست اورمنفرد ریاستی کشمیری تشخص کو برقرار رکھا ۔ اس کی بنیادی وجہ جہاں ریاستی باشندوں میں سیاسی شعور تھا وہاں ایک وجہ یہ بھی تھی کہ دونوں ممالک نے اقوام متحدہ میں دنیا بھر کی اقوام اور ممالک کے سامنے اقرار کیا تھا کہ وہ ریاست سے اپنی فوجیں نکالیں گے اور ریاست کے باشندوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیں گے۔ کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ مستقبل کا فیصلہ کرنے کے الفاظ کا استعمال کمشن کی صرف ۱۳ اگست ۱۹۴۸ والی قرارد اد میں ہوا تھا جبکہ ۵ جنوری ۱۹۴۹ والی قرار داد میں اس کی جگہ الحاق کی اصطلاح استعمال کی گئی تھی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں میں کشمیریوں کے سامنے صرف دو آپشن ہیں ۔ اور شاید اسی وجہ سے مقبول بٹ شہید سمیت سینکڑوں کشمیریوں نے ۱۹۷۰ کے عشرے میں اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو مسترد کر دیا تھا اور لاکھوں نوجوان کشمیری آج بھی اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو مسترد کرتے اور کہتے ہیں کہ ہمیں خود مختاری سے کم کوئی حل قبول نہیں ہے ۔ ان سیاسی انتہاوں کے درمیان دیکھیں تو اقوام متحدہ میں کمشن کی قراردادوں ، سیکورٹی کونسل کی قرار دادوں اور اقوام متحدہ کے صدور کے کشمیر پر موقف میں استعمال کی جانے والی اصلاحات میں ریاست جموں کشمیر کے باشندوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق کو ایک سے زیادہ بار تسلیم کیا گیا ہے۔ اس لیے یہ کوئی طے شدہ بات نہیں لگتی کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق اگر کوئی ریفرنڈم یا رائے شماری ہوئی تو ریاستی باشندوں کو خود اختیاری کا حق حاصل نہیں ہو گا بلکہ صرف الحاق کا حق حاصل ہو گا۔ اور نہ ہی اس بحث میں ریاست کے تمام باشندوں کو جو سیاسی، معاشی ، ثقافتی اور سماجی حقوق حاصل ہو سکتے ہیں ان کو یرغمال بنائے رکھنا دانشمندی ہے۔
قوام متحدہ کی قرار دادوں کے تحت پاکستان اور بھارت کو ریاست کے مستقبل کا فیصلہ ہونے تک ان کے مقبوضہ علاقوں میں دفاع/ کرنسی اور خارجہ امور کا اختیار دیا گیا تھا ۔ دیگر تمام امور میں ‘آزاد’ کشمیر اور ‘مقبوضہ’ کشمیر کی خود مختاری کی ضمانت دینا بھارت و پاکستان کی ذمہ داریوں میں شامل تھا۔ اس وقت ظاہر ہے کہ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ فوجیں نکال کر رائے شماری کروائیں گے ۔ انہوں نے فوجیں نہیں نکالیں اور رائے شماری نہیں کروائی جو کہ ظاہر ہے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی خلاف ورزی ہے لیکن چونکہ ان قرار دادوں میں ان پر عمل درآمد کروانے کے حوالے سے اقوام متحدہ کے پاس اختیارات نہیں ہیں اس لیے اقوام متحدہ کی طرف سے ہمیشہ یہی کہا جاتا ہے کہ بھارت و پاکستان کشمیر کا مسئلہ رضاکارانہ وطور پر حل کریں ۔ یہ کبھی نہیں کہا جاتا کہ حل نہ کیا [ جو انہوں سڑسٹھ سال گذرنے کے بعد بھی نہیں کیا] تو کیا کریں گے۔ تاہم اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی وجہ سے ریاست کا کوئی حصہ بھی پاکستان یا بھارت کا آئینی اور قانونی حصہ نہیں بن سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں قابض ممالک نے اس کو اپنا آئینی حصہ نہیں بنایا۔ بھارت نے اپنے آئین میں دفعہ ۳۷۰ کے مطابق ریاست جموں کشمیر کو خصوصی حثیت دے رکھی ہے جو بھارت کی کسی اور ریاست کو حاصل نہیں ہے۔ پاکستان نے بھی اپنے آئین میں صاف لکھا ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں ہیں۔
اس صورت حال کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ دونوں جانب ریاست کی منفرد حیثیت اور تشخص قائم رہا ہے۔ اور یہ ایک ایسا پہلو ہے جس پر ریاست کی الحاق پسند اور آزادی پسند جماعتوں کی اکثریت متفق چلی آرہی ہے کہ مستقبل میں جو فیصلہ بھی ہو ریاست کی منفرد حیثیت برقرار رکھی جائے گی ۔ لیکن اس کا نقصان یہ ہوا ہے کہ ریاست کے حصوں اور قابض ملک کے درمیان آئینی اور قانونی تعلق واضح نہیں ہو سکا۔ غور کریں تو یہ صورت حال بھارتی مقبوضہ کشمیر کے مقابلے میں پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں زیادہ مبہم اور اس خطے کے لیے نقصان دہ چلی آرہی ہے۔
۱۹۶۰ تک تو آزاد کشمیر کا یہ خطہ مہاراجہ نظام کے خلاف ۱۹۳۰ میں چلنے والی تحریک کے زمانے سے بھی پیچھے چلا گیا۔ اور پہلا الیکشن جس میں معمولی سی جمہوری رمق دیکھی جا سکتی تھی وہ ۱۹۶۰ میں منعقد ہوا ۔ پہلی آئین نما چیز ۱۹۷۰ میں اپنائی گئی اور پھر سن چوہتر میں یہ عبوری آئین پیپلز پارٹی کے سیاستکاروں نے بھٹو کی سربراہی میں آزاد کشمیر اسمبلی پر تھوپ دیا ۔ آئین کیا ہے جیسے کسی ملک کے کچھ اہلکاروں کی جاب ڈسکرپشن [ ملازمانہ ذمہ داریاں] ہو۔ اور چند صفحات پلٹنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ اس آئین میں کوئی اور بھی ہے۔ کشمیر کونسل ۔ اگرچہ آئین میں اس کے دائر کار کی وضاحت نہیں لیکن یہ حقیقت کہ یہ ادارہ ‘آزاد’ کشمیر اسمبلی پر بھاری ہو گا اس ان دفعات سے واضح ہو جاتی ہے کہ اس کا سر پرست پاکستان حکومت کا سربراہ ہو گا ، جو اپنی کابینہ اور اسمبلی سے پانچ ارکان اس میں نامزد کرے گا ، وزارت امور کشمیر کا وزیر اس کا بلحاظ عہدہ رکن ہو گا اور آزاد کشمیر کا صدر اس کا وائس چئیر اور آزاد کشمیر اسمبلی کونسل کے چھ ارکان منتخب کرے گی۔ جب اس کے دائرہ کار اور دائرہ کار کی تفصیلات سامنے آئں تو واضح ہو گیا کہ آزاد کشمیر اسمبلی برائے نام ہی ہے۔ اور ایسا ہی تھا۔
آزاد کشمیر اسمبلی کی بے اختیاری سے کوئی بھی ایسا فرد جس کو اس موضوع سے دلچسپی تھی اور ہے آگاہ ہے ۔ یورپی یونین اور برطانیہ میں مختلف سیاستدانوں اور اداروں میں بھی اس پر کئی بار تنقید کی گئی اور پاکستانی اور آزاد کشمیر کے حکمرانوں کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ خود مختار کشمیر کے حامی کشمیری اس آئین کو سر عام دستاویز غلامی کہتے ہیں کیونکہ اس میں الحاق پاکستان کے نظریے کے خلاف کوئی فرد یا جماعت انتخابات میں حصہ لے سکتا ہے نہ کسی فرد کو الحاق سے وفادارکا حلف اٹھائے بغیر ملازمت ملتی ہے۔ خود مختار کشمیر والوں نے بارہا انتخابات میں حصہ لینے کے کاغذات نامزدگی حمع کروائے مگر الحاق سے وفاداری کا اقرار کیے بغیر تو ان کے کاغذات مسترد کر دیے گے۔
جس طرح سے عبوری آئین نے آزاد کشمیر کو ایک بے اختیار حکومت بنا کے رکھا ہوا تھا اس کے تناظر میں ‘آزاد’ کشمیر اسمبلی کی طرف سے جو سفارشات پاکستان کی وزارت قانون کی منظوری کے لیے ارسال کی گئی ہیں ان کو دیکھتے ہوئے اس بات سے شاید ہی کسی کو اختلاف ہو گا کہ یہ آزاد کشمیر حکومت کے اختیارات میں اضافے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ کیونکہ بائیس ۲۲سفارشات پیش کی گئی ہیں ان میں کشمیر کونسل کے اختیارات اسمبلی کو منتقل کرنے اور لینٹ افسران کے لیے ڈیپوٹیشن پالیسی متعارف کروانے کا مطالبہ بھی شامل ہے جس سے توقع کی جاتی ہے کہ آزاد کشمیر اسمبلی اور حکومتی عہدیداروں کی محتاجی میں کمی واقع ہو گی ۔
تاہم ظاہر ہے کہ یہ آئین اور ترامیم اور پورا سیٹ اپ جو آزاد کشمیر میں موجود ہے وہ بنیادی طورپر کسی خود مختار ملک کا نہیں ہے بلکہ انتطامی لحاظ سے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام ہے۔ اس لیے اس سے ‘آزاد’ کشمیر کو مکمل طور پر خود مختار کرنے کی ترامیم کی توقع تو ظاہر ہے نہیں رکھی جا سکتی لیکن اس کو جمہوری بنانے اور خود مختار کشمیر کے حامیوں میں انہیں انتخابات میں حصہ لینے کی آجازت نہ ہونے کے خلاف مسلسل فروغ پذیر بیزاری اور اکتاہٹ کو کم کرنے کے لیے اس غیر جمہوری اور جابرانہ پابندی کو برقرار رکھنے کے باعث آزادکشمیر کے آزادی پسند حلقوں کے لیے یہ ترامیم غیر متعلق ہی رہیں گی۔ ان ترامیم کے لیے مسلسل جدوجہد کرنے والوں میں جمہوریت کے فروغ کے لیے قائم ایک این جی او اور اس کے ایک رہنما ارشاد محمود صاحب بھی شامل ہیں ۔ ان سے جب میں نے پوچھا کہ خود مختاری کے حامیوں پر پابندی کے باب میں کوئی سفارش شامل کی گئی ہے تو انہوں نے فرمایا کہ میرے پاس موجود مسودے کے مطابق اس حصے کو نہیں چھیڑا گیا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آزادی پسندوں کی طرف سے اس مسئلے کو شد ومد کے ساتھ اٹھایا نہیں گیا اور الحاق نواز جماعتوں کا ظاہر ہے کہ یہ مسئلہ نہیں ہے۔ تاہم میرے خیال میں ان کا یہ دعویٰ صرف اسی صورت میں درست ہو سکتا ہے اگر ہم شدومد سے مراد پرتشدد اور توڑ پھوڑ سے بھرپور تحریک لیں ورنہ کم ازکم ۱۹۹۲ سے تو میں آگاہ ہوں کہ مختلف آزادی پسندوں نے اس شق کے خلاف احتجاج جاری رکھا ہوا ہے اور ہر ایک انتخابات میں ان کے کاغذات نامزدگی الحاق پاکستان کی شرط کو کاٹ دینے باعث مسترد ہوتے ہیں ، اخبارات میں بھی مسلسل لکھا گیا اور جب موجودہ تجاویز پیش کرنے کو کہا گیا تو بھی برطانیہ اور آزاد کشمیر میں آزادی پسندوں نے تجاویز پیش کیں۔ برطانیہ میں مختلف آزادی پسند جماعتوں نے مل کر اس پر غور کیا اور تجاویز پیش کیں جن کو بعد ازاں جموں کشمیر رائٹرز فورم کے شفقت راجہ نے ایک کتابچے کی شکل میں مرتب کر کے عوامی نیشنل پارٹی کے صدر صادق صبحانی صاحب کے ساتھ آزاد کشمیر حکومت کے وزراء کی خدمت میں پیش کیا تھا۔
نتیجہ اس ساری گفتگو کا یہ ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی اسمبلیوں اور حکومتوں کے اختیارات میں اضافہ ، ان کے وقار اور توقیر میں اضافے کے لیے ضروری ہے جس سے ان خطوں کی منفرد حیثیت اور تشخص کو بھی فروغ حاصل ہو گا ۔ لیکن اگر کسی وجہ سے ان خطوں کو با اختیار بنا کر پھر ان اختیارات کے ذریعے ان خطوں کی منفرد حثیت اور تشخص کے خلاف فیصلے کروانے کے خدشات پورے ہوئے تو ظاہر ہے کہ اس سے حالات کوئی بھی شکل اختیار کر سکتے ہیں ۔
دوسری بات یہ کہ جب تک اس آئین میں خود مختار کشمیر کے حامیوں پر عائد پابندیاں ختم نہیں کی جاتیں اور ریاستی وسائل بشمول بینکوں میں رکھے سرمائے، زر مبادلہ اور عالمی سطح پر ملنے والے مالی امداد سے مناسب حصہ آزاد کشمیر کی حکومت اور متعلقہ اداروں کے حوالے نہیں کیا جاتا مجوزہ آئینی ترامیم سے محدود حد تک شخصی اور علاقائی ، اداراتی بہتریاں تو پیدا ہو سکتی ہیں لیکن مجموعی طور پر آزاد کشمیر کی محتاجی میں خاطر خواہ کمی کے امکانات کمزور ہی رہیں گے۔

Share this:

Related News

Comments are closed

Jobs: career@azadnews.co.uk
News: news@azadnews.co.uk
Enquiries: info@azadnews.co.uk
Tel: +44 7914314670 | 07588333181

Copyright 2015 © AZAD is a part of Indigo Marketing & Media Productions Ltd.
41 West Riding Business Center, BD1 4HR |08657270| England & Wales.