loadsheeding

کب جاگو گے اٹھو دیر ہو چکی

(Old Article but after 5 years Still same Situation)

آفتاب صاحب نے بہت دلچسپ بات کی ! موصوف فرماتے ہیں ” بزرگ بڑے فخر سے کہتے تھے بیٹا ہم نے بجلی آتے دیکھی ! مگر ہم لوگ بجلی کو جاتے ہوئے دیکھیں گے ” بات تو مذاق تھی مگر میں یہ سوچنے لگا کیا واقع ہی ہم اس جانب گامزن ہیں جہاں ہم اپنے آنے والی نسلوں کو اندھیرے کے سوا کچھ نہ دے سکیں گے ؟
حضور اکرم ﷺ کے زمانے کی بات ہے کہ کوئی شخص حضورﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ میرے پاس کوئی روزگار نہیں ۔ حضور اکرمﷺ نے اسے ایک کلہاڑا اور رسی دی اور کہا جاؤ لکڑیاں کاٹو اور بیچو اور اپنی گزر بسر کرو ! کتنے قرینے سے ہمارے نبی ﷺ نے اس شخص کو ایک معقول ذریعہ معاش فراہم کیا تاکہ وہ شخص کسی کا محتاج نہ ہو ! اور ایک ہم ہیں ! وسائل کا شمار ہی نہیںِ مگر استعمال کہیں نہیں !
آزاد کشمیر جس کا کل رقبہ 5134مربع میل ہے بیش بہا وسائل کا مالک! مگر ان وسائل کا صیح طور پر اور صیح جگہ پر استعمال دیرینہ مسئلہ ہے۔ ہمارے ہاں وسائل کی تقسیم کا نظام ہی شاہانہ ہے ۔ وسائل کی تقسیم علاقے کی ضروریات کو نہیں بلکہ اس علاقے کے سیاسی قد کاٹھ کو مد نظر رکھ کر کی جاتی ہے۔ یہ روایت آج کی نہیں بہت پرانی ہے۔ معرض وجود میں آتے ہی اس ملک کو چند خاندانوں کے سپرد کر دیا گیا جو گذشتہ کئی دہائیوں سے اس خطہ کے وسائل پر اپنے پنجے گاڑھے ہوئے ہیں اور موجود وسائل انہی کے من پسند لوگوں پر نچھاور کر دیے جاتے ہیں اور جنہیں ان کی ضرورت ہے وہ ان سے محروم !
آزاد کشمیر خطہ جنت نظیر بے بہا نعمتوں اور دولت سے مالا مال خطہ ! یہ میں نہیں کہتا موجودہ حکومت کے افسران اپنی 2006-2007کی ایک رپورٹ بعنوان (Investment Opportunities in AJK)میں فرماتے ہیں ۔ایک طرف بلند و بانگ دعوں سے بھری ہوئی اور دوسری طرف ایسے سہانے خواب دکھا رہی ہے ۔ جو موجودہ ملکی صورت حال میں کبھی بھی پورے ہوتے نظر نہیں آ رہے۔ رپورٹ کا سہار ا اس لیے لیا کیونکہ ہماری عوام حکمرانوں اور افسران کی بات کو زیادہ غور سے سنتی ہے اور ویسے بھی میرے جیسے آدمی کی اوقات ہی کہاں جو ایسی بات کہہ سکے۔اس رپورٹ کے مندرجات کو پڑھتے ہوئے چند انکشافات ہوئے ۔ آزاد کشمیر کو بجلی کی مد میں صرف-300 250میگا واٹ کی ضرورت ہے اور منگلا ڈیم کی 1000میگا واٹ بجلی شامل کر کے آزاد کشمیر میں بجلی کی متوقع پیداوار 6329 میگا واٹ ہے جو کہ مختلف علاقوں میں ہائیڈل پاور سٹیشنز لگا کر پوری کی جا سکتی ہے۔ (صحفہ نمبر ۲۱) ۔ اور ہائیڈل پاور پروجیکٹ کے تعارفی بروشر میں صرف 77.92میگا واٹ کے پروجیکٹس پر کام ہو رہا ہے۔ جن میں سے کیل کے مقام پر صرف ایکسٹنشن کا ایک پراجیکٹ مکمل ہے۔ باقی تمام کے تمام پروجیکٹ ابھی تک مختلف سرکاری معاملات کی نظر ہیں ۔ کوئی کسی جگہ رکا ہو ا ہے تو تو کوئی کسی جگہ! مزید یہ کہ ان رپورٹس کو دیکھ کر عوام سمجھنے سے قاصر ہے کہ ابھی تک 5329میگا واٹ کا دعوی کرنے والے ادارے کیوں صرف 1.44 فیصد بجلی پیدا کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ بجلی کا موجودہ بحران آج کا نہیں ہے بلکہ ہماری 60سالہ حکومتی کوتاہیوں کا خمیازہ ہے۔ اگر کشمیر کے حکمرانوں نے اپنے ریاستی اداروں کو تشکیل دیا ہوتااور موجودہ ادراوں کو مضبوط کیا ہوتا تو آج ہم واپڈا جیسے سفید ہاتھی کے پیروں تلے نہ روندے نہ جاتے ۔ جس نے وعدہ وفا نہ کرنے کی قسم کھائی ہوئی ہے۔سرخ فیتے ، فیسیبلٹی رپورٹس،تحت ضابطہ کاروائیاں! مگر تکمیل کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ 2006 کی رپورٹ کے بعد ابھی تک کسی نے بھی حکومت نے ان پراجیکٹس کی تازہ ترین رپورٹ پیش نہیں کی اگر کی بھی ہے تو منظر عام پر نہیں آئی ۔ اس پر ظلم دیکھیے کہ ایک دفعہ واپڈا کے ہاتھوں لٹنے کا باوجود دوبارہ پراجیکٹس پر کام واپڈا کو ہی دیا جا رہا ہے اور آزاد کشمیر کا کوئی ادارہ اس میں شامل نہیں ہے۔ مزید گزارش یہ ہے کہ ان پراجیکٹس کو مکمل کرنے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا انتظار کرنے کی بجائے مقامی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کی جائے جو ملکی ترقی میں غیر ملکیوں کے مقابلے زیادہ مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کو موجودحالات میں صرف 14000میگا واٹ بجلی درکار ہے، جو 2030ئمیں 1,00000میگا واٹ تک جا پہنچے گی۔ دن بدن بڑھتی آبادی کا تقاضا یہی ہے کی بجلی کی پیداوار میں بھی اسی طرح سے اضافہ ہو ۔ (Indian Express)کی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ 15سالوں میں بھارت نے 54000میگا واٹ بجلی پیدا کی ۔ بھار ت میں 59% بجلی کوئلہ جبکہ ہمارے ہاں صرف 0.10%بجلی کوئلہ سے پیدا کی جاتی ہے جبکہ ہمارے ہاں(850 TrillionCubic Feet)کے ذخائر صرف اس لیے رکھ گئے ہیں تاکہ قوم اپنی آنکھوں میں کاجل لگائے تا کہ مستقبل کی تاریک راتوں میں دیکھنے کو عوام کی آنکھیں تیز ہوں ۔

کہتے ہیں کہ اگر سعودی عرب اور ایران کے تیل کے ذخائر کو جمع کر لیا جائے جو کہ(375 Billion Barrels) ہیں، تب بھی پاکستان کے کوئلے کے ذخائر، ان سے کہیں زیادہ ہیں ۔ نہ صرف پاکستان بلکہ 9 Million Ton) ( کوئلہ تو ٓزاد کشمیر میں اور بہت سا دریافت ہی نہیں ہوا۔۔ مگر اس کا کوئی والی وار ث نہیں ۔آزاد کشمیر کے ضلع کوٹلی میں بھی ذخائر دریافت ہوئے مگر ان سے صرف اینٹیں بنانے کا کام لیا جا رہا ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے حکومت آزاد کشمیر نے جس طرح ہائیڈل پاور پراجیکٹس کے لیے ادارہ قائم کیا اسی طرح کوئلے کے لیے ایک آزاد ادارہ قائم کر دیں جو آزاد کشمیر کے اپنے تسلط میں ہو کم ازکم آزاد کشمیر بجلی میں تو خود کفیل ہو جائے۔ کہنے کو آزادی کا بیس کیمپ لیکن واپڈا کے ہاتھوں یرغمال!
المیہ! اتنا سب کچھ پتہ ہونے کے باوجود ہمارے حکمران ابھی بھی آپس کی لڑائی میں مصروف ہیں ۔ بیانات ، دھمکیاں ، جوڑ توڑ کہ علاوہ آزاد کشمیر میں کیا رہ گیا ہے ۔ حکمران وقت کو زندہ چیزیں بزرگ بچے سڑکوں پر ننگے پیر دوڑتے، پولیس کے ہاتھوں لاٹھیاں ، کھا تے، بجلی کے بغیر تڑپتے بچے تو نظر نہیں آتے، پہاڑوں ، دریاؤں اور ہواؤں میں چھپے وسائل کہاں سے نظر آئیں گے ۔ اللہ ان کا حامی و ناصر ہو! اتنی زیاتیوں کے بعد بھی کشمیری عوام اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے اور یک زبان ہو کر کہتی ہے ۔
یزید وقت سے کہہ دو تیرے ارمان تھوڑے ہیں
مجاہدکچھ زیادہ ہیں تیرے زندان تھوڑے ہیں
یہ بندوقیں ، یہ آنسو گیس لاٹھی چارج تیرا
ہمیں ختم کرنے کے تیرے ارمان تھوڑے ہیں

Share this:

Related News

Comments are closed

Jobs: career@azadnews.co.uk
News: news@azadnews.co.uk
Enquiries: info@azadnews.co.uk
Tel: +44 7914314670 | 07588333181

Copyright 2015 © AZAD is a part of Indigo Marketing & Media Productions Ltd.
41 West Riding Business Center, BD1 4HR |08657270| England & Wales.