Mirpur

’’میرپوراورمالیاتی ادارے‘‘ یاسرممتاز

میرپورآزادکشمیر کاایک تاریخی،ثقافتی اوربڑاتجارتی ومالیاتی مرکز ہے۔میرپور کی سرزمین پرجہاں پاکستان کابڑاآبی ذخیرہ جوسستی بجلی پیداکرنے کابڑامرکز جس کو’’منگلاڈیم‘‘کے نام سے جاناجاتاہے،جہاں پانی کابڑاذخیرہ پاکستان کی لاکھوں ایکٹرزمین کوسیراب کرکے سرسبزوشاداب کرتاہے وہاں پاکستان کی صنعتوں کوروشن بھی کرتاہے۔منگلاڈیم جوکشمیری قوم کاقومی اثاثہ ہے جس کی سالانہ رائلٹی تقریباً55سے56کروڑ بنتی ہے۔منگلاڈیم کاپروجیکٹ جوبظاہرہرخاص وعام کونظرآتاہے لیکن میرپورکے اندر بے شمارایسے ادارے ہیں جوبظاہراُس طرح نظرنہیں آتے مگرملکی معیشت میں وہ ریڑھ کی حیثیت رکھتے ہیں جن میں پاکستان کے مالیاتی ادارے،بینک،قومی بچت،پوسٹ آفس،اسٹیٹ لائف ودیگرانشورنس کمپنیاں اوران کے ساتھ پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن(PIA)اورپاکستان کی مواصلاتی کمپنیاں اورساتھ ہی بیرون ملک سے کثیرتعدادمیں زرمبادلہ کاآنا اورحکومتی سطح پرمحکمہ اوقاف،جس کی صرف ضلع میرپور کی سالانہ آمدن تقریباً15سے16کروڑ روپے ہے،ایک محتاط تحقیق کے مطابق ان تمام مالیاتی اداروں میں میرپوروالوں کے تقریباً پونے5کھرب روپے بنتے ہیں۔اب یہ ساری بات یہ ثابت کرنے کیلئے نہیں کہ میرپوریوں کے پاس بہت روپیہ پیسہ ہے،مقصدیہ بتانے یاسمجھانے کاہے کہ آخرجوعلاقہ یاخطہ اتنی آمدن فراہم کرتاہے اس کے بدلے میں اس خطے یاعلاقے کو کیاملتاہے؟جب ہم دنیاکے اندر مختلف ممالک کے اصول وضوابط دیکھتے ہیں توپتہ چلتاہے کہ جہاں بھی مالیاتی ادارے ایک بڑی تعدادمیں ریوینیوپیداکرتے ہیں وہاں پرسماجی بہبود کیلئے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں غریب اورمتوسط طبقہ کے معیارِ زندگی کوبہتربنانے کیلئے تقریباً33سے25فیصدانہی علاقوں میں خرچ کیاجاتاہے اورجن ممالک میں ہائیڈرل پاورپلانٹ لگائے جاتے ہیں وہاں بھی ایک مخصوص تناسب کے ذریعے بجلی،پانی اورآمدن سے مقامی لوگوں کومستفید کیاجاتاہے اگردیکھاجائے توہمارے ہمسایہ ملک انڈیامیں لگائے جانے والے ہائیڈرل پراجیکٹ جہاں اُس علاقے کوتقریباً12فیصدمفت بجلی اورکل آمدن کا50فیصدانہی علاقوں کی فلاح وبہبود اورسہولیات پرخرچ کیاجاتاہے۔اسی طرح اگردیگرممالک کودیکھاجائے توآپ کوکہیں مثالیں ملتی ہیں اُس میں تناسب میں توفرق ہوسکتاہے مگر یہ ممکن نہیں کہ مقامی لوگ جومتاثرہوتے ہیں انہیں اس کاحصہ نہ دیاجائے۔جب ہم باقی ممالک اوراپنے ممالک کے مالیاتی اداروں کے اُصول وضوابط کاموازنہ کرتے ہیں تو ہمیں ہمارے مالیاتی ادارے اپنے اثاثے بنانے کے علاوہ مقامی وہ علاقے جہاں سے وہ ایک بڑی آمدن حاصل کرتے ہیں میں فلاحی کاموں میں ان کاکردارنہ ہونے کے برابرملتاہے۔اگردنیاکے دیگرممالک کے تناسب کی طرح ہمارے مالیاتی ادارے دیگرممالک کے مالیاتی اداروں کے تناسب سے نصف بھی مقامی علاقوں پرخرچ کریں تومیں وثوق سے کہتاہوں کہ میرپورکے اندرمعیار تعلیم،صحت اوربنیادی انفاسٹرکچر اورلوگوں کامعیارِ زندگی بلندہی نہیں ہوگا بلکہ وہ کچھ سالوں میں میرپورکے علاوہ پورے آزادکشمیر کویہ تمام سہولیات فراہم کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔بہرحال میراکام جوسُناوہ بولا،جوپڑھاوہ لکھا،جوتحقیق کی وہ تحریرکی،اب فیصلہ ہمارے حکمرانوں،سیاسی ،مذہبی،سماجی،کاروباری زعماء اوراہل علم طبقہ پرمنحصرہے کہ وہ اس حوالے سے اپناکیاکرداراداکرتے ہیں۔
یہ علم،یہ حکمت،یہ تدبر،یہ حکومتیں
پیتی ہیں لہو،دیتی ہیں تعلیم مساوات

Share this:

Related News

Comments are closed

Jobs: career@azadnews.co.uk
News: news@azadnews.co.uk
Enquiries: info@azadnews.co.uk
Tel: +44 7914314670 | 07588333181

Copyright 2015 © AZAD is a part of Indigo Marketing & Media Productions Ltd.
41 West Riding Business Center, BD1 4HR |08657270| England & Wales.