Kashif rasheed

ماں مجھے ڈر لگتا ہے کاشف رشید

ایک مدت سے میری ماں سوئی نہیں۔میں نے ایک بارکہاتھا مجھے ڈر لگتا ہے۔
ماں دنیا کا سب سے قیمتی رشتہ
تحریر کاشف رشید
کائنات میں اللہ تعالیٰ کی تخلیقات میں سے سب سے خوبصورت اور حسین ترین تخلیق ماں ہے،ماں جیسی نعمت خوش نصیب لوگوں کو ملتی ہے،ماں کی محبت لازوال ہے،ماں ٹھنڈی چھاؤں کا احساس ہے،ماں کی محبت اپنی اولاد سے ایسی ہے کہ لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے،ماں جیسا رشتہ اس کائنات میں اور کوئی نہیں ہے،دنیا کے تمام رشتوں کا نعم البدل ہے لیکن ماں کا نہیں ہے، قارئین کرام میرے دوست جبار منہاس ایڈووکیٹ کی و الدہ محترمہ چند ماہ قبل وفات پا گئی تھی ،میں اُنکے گھر فاتحہ خوانی کے لیے گیا تو میرے ساتھ سینئر صحافی راجہ حبیب اللہ خان بھی تھے، ہم جب اُنکے گھر نیوسٹی پہنچے تو پہلے ہی دو بزرگ بیٹھے ہوئے تھے وہ بھی اظہار افسوس کے لیے آئے تھے ہم نے اُن سے سلام لیا اور کرسی پر بیٹھ گئے دعا مانگنے کے بعد جبار منہاس ایڈووکیٹ نے کہا کہ یہ جو دو بزرگ بیٹھے ہوئے ہیں کیا آپ ان کو جانتے ہیں،میں نے لاعلمی کا اظہار کیا تو اُنہوں نے ایک بزرگ جنہوں نے شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی کی طرف اشارو کرتے ہوئے کہا کہ یہ انگریز ہیں اور اب یہ مسلمان ہو چکے ہیں،میں تھوڑا سا حیران ہوا زیادہ مجھے خوشی ہوئی لیکن میری طرح کوئی بھی ہوتا تو وہ کبھی بھی نہ پہچان پاتا کہ یہ کوئی پاکستانی کشمیری ہے یا کہ انگریز،
قارئین کرام جبار منہاس نے بتایا کہ برطانیہ کے شہر (ویک فیلڈ) میں یہ انگریز جس کا نام سٹیفن(stephon) تھا وہ اپنی ماں کی بہت خدمت کرتا تھا،برطانیہ جانے اور وہاں کے رہنے والوں کو بخوبی علم ہو گا کہ برطانیہ کی زندگی بہت زیادہ فاسٹ ہے،وہاں انگریزوں کے بچے جب بڑے ہوتے ہیں وہ اپنے والدین سے الگ ہو جاتے ہیں اوراپنی آزاد زندگی گذارنا پسند کرتے ہیں،برطانیہ بنیادی طور پر ویلفیئر اسٹیٹ ہے حکومت بیروزگاروں کو خرچہ اور جن کے پاس گھر نہیں ہوتا اُنکو گھر بھی دیتی ہے،جن کے پاس نیشنلٹی ہے حکومت اُنکو تمام بنیادی سہولتیں دینا اپنافرض سمجھتی بھی ہے اور وہاں کے عوام کو سہولتیں دیتی بھی ہے،قارئین کرام سٹیفن(stephon) کے اور بھی بہن بھائی تھے لیکن جیسے جیسے وہ بڑے ہوتے گئے وہ الگ ہوتے گئے،ایک دن سٹیفن کی ماں جو خود بھی ایک انگریز عورت تھی اس وقت اس کی عمر 40 کے قریب تھی نے اپنے بیٹے سٹیفن کو اپنے پاس بلایا اور کہا کہ بیٹا تمہارے دوسرے بہن بھائی گھر چھوڑ کر چلے گئے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ایک دن تم بھی مجھے چھوڑ جاؤ گئے لیکن کبھی تم نے سوچا ہے کہ جب میں بوڑھی ہو جاؤنگی تو اُس وقت میرا سہارا کون بنے گا،بڑھاپے میں میں کیسے زندگی گذاروں گی،سٹیفن بھی اُس وقت جوان تھا،اُس نے اپنی ماں سے کہا کہ وہ نہ تو گھر چھوڑ کر جائے گا اور نہ ہی شادی کرئے گا،قارئین کرام سٹیفن نے ایسا ہی کیا،اور اُس نے اپنی ساری زندگی اپنی ماں کی خدمت میں گزار دی ایک دن سٹیفن کی ماں کافی بیمار ہوئی اور اُس کو احساس ہوگیا کہ اب وہ نہیں بچے گی اُس وقت اُس خاتون کی عمر 96 برس تھی، اُس نے اپنے بیٹے سٹیفن کو اپنے پاس بلایا اور کہا کہ تم نے میری بہت خدمت کی ہے تم نے میری خاطر شادی بھی نہیں کی،تمہارے دوسرے بہن بھائی مجھے چھوڑ گئے تھے تم بھی چھوڑ سکتے تھے لیکن تم نے میری بہت خدمت کی ہے میں تمہارے لیے دعا کرتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمہاری زندگی اور آخرت اچھی کرے،سٹیفن کی ماں دعادیتے ہوئے فوت ہوگئی،سٹیفن بہت رویا اُس کو اپنی ماں سے بہت پیار تھا،لیکن موت اٹل ہے، قارئین کرام ہم بھی اپنے والدین کے ساتھ بہت محبت کے دعوے کرتے ہیں،کیا ہم ایسا کرسکتے ہیں کہ ہم بھی اپنے ماں باپ کی خدمت ایسی ہی کریں جیسے سٹیفن نے کی،قارئین کرام جو بات میں کہنے جا رہا ہوں اُس پر غور کرنے کی ضرورت ہے سٹیفن نے اپنی ماں کی 56 سال تک مسلسل خدمت کی،اور جب اُس کی ماں نے دعا دی بے شک اُس کی ماں غیر مسلم انگریز خاتون تھی لیکن ماں تھی اور کہتے ہیں کہ ماں کی دعا جنت کی ہوا،اور ایک حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ جس انسان کے ساتھ نیکی کرنا چاہتے ہیں اُسکو دین کی سمجھ دے دیتے ہیں سٹیفن کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا اُس کی ماں نے مرتے وقت اُس کو دعا دی اور سٹیفن جو پہلے نیک ضرور تھا لیکن مسلمان نہیں تھا،اُسکی ماں کی دعا کا اثر ایسا ہوا کہ سٹیفن کو ہمارے میرپور کے حاجی جمعہ خان جو برطانیہ میں سٹیفن کے پڑوس میں ہی رہتے تھے،کے ساتھ دوستی ہوگئی اور حاجی جمعہ خان بھی نیک سیرت انسان تھے،اُنکے اخلاق و کردار سے متاثر ہو کر سٹیفن نے اسلام قبول کر لیا اور مسلمان ہو گیا،اُس کا اسلامی نام عبدللہ رکھا گیا،قارئین کرام یہ ماں کی دعا کا نتیجہ ہے اور اس بات کا بھی اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ جو کچھ بھی ہے وہ ماں باپ کی خدمت اور فرمانبرداری میں ہے، عبداللہ نے اپنی ماں کی بہت خدمت کی لیکن مسلمان نہ ہوتا تو آخرت میں کچھ نہیں ملنا تھا،یہ اُسکی خدمت کے صلے میں میرے رب نے اُس کو ہدایت دے دی اور وہ مسلمان ہو گیا،حاجی جمعہ خان نے بتایا کہ عبداللہ مسلمان ہونے سے پہلے بھی نیک اور ہمدرد انسان تھا،میں جب بھی اس کے پاس جاتا تھا تو یہ ہماری کمیونٹی کے تمام کام بہت شوق اور محبت سے کرتا تھا،اس کو مسلمانوں سے بہت پیار تھا،اُنہوں نے کہا کہ میں بھی اس کو اسلامی کتابیں دیتا تھا اور یہ اُن کتابوں کا مطالعہ کرتا اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے دل میں دین کی سمجھ دے دی اور یہ مسلمان ہوگیا اُنہوں نے کہا اس کے مسلمان ہونے میں اس کی ماں کی دعاوں کا عمل دخل ہے،حاجی جمعہ خان نے بتایا کہ عبداللہ کو مسلمان ہوئے 13 سال ہوگئے ہیں اور یہ میرے ساتھ ہر سال پاکستان آتا ہے اور ہم گلہار شریف(کوٹلی) حاضری دیتے ہیں اُنہوں نے بتایا کہ کوٹلی پیروں نے ہی عبداللہ کو مسلمان کیا تھا،قارئین کرام یہ سچا واقعہ ہے اور ہم سب جانتے بھی ہیں کہ ماں باپ کی کیا عظمت ہے،ماں کے بغیر دنیا ویران ہو جاتی ہے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کی ماں زندہ ہے،ابھی بھی وقت ہے اپنی ماں کو راضی کر لو وقت گذر گیا تو پھر ہاتھ نہیں آئے گا،دنیا اور آخرت میں بادشاہی چاہتے ہو تو اپنی ماں کے پیروں میں سر رکھ دو،اُدھر سے سب کچھ ملے گا،میں آج بھی اپنی ماں کو یاد کرتا ہوں،لیکن میری ماں اس دنیا میں نہیں ہے،کاش کبھی کسی کی ماں جدا نہ ہو۔

Share this:

Related News

Comments are closed

Jobs: career@azadnews.co.uk
News: news@azadnews.co.uk
Enquiries: info@azadnews.co.uk
Tel: +44 7914314670 | 07588333181

Copyright 2015 © AZAD is a part of Indigo Marketing & Media Productions Ltd.
41 West Riding Business Center, BD1 4HR |08657270| England & Wales.