dADYAL

ڈڈیال نہیں ضمیر لہولہان

یہ شاید پندرہ برس کی بات ہے وہ سیدھا مجھے ڈڈیال شہر کے نئے بننے والے ہسپتا ل لے گیا سارا دن وہاں گزار اور اس نے ایک ایک کونہ دکھایا اتنا بہترین ہسپتال کے و لائیت کا گمان ہوتا تھا ۔ اس سے پوچھا اتنا اعلی ہسپتال تم نے کیسے بنا لیا کہنے لگا اعلی تو تب ہو گا جب یہاں کوئی آئے گا ۔ تقریبا ۶ ماہ سے بل پھنسا کے بیٹھا ہوں جب تک بل نہیں ملتا چو کیداری بھی خود کرتا ہوں ۔ میں خوش ہوا کہ چلو لوگوں کو علاج معالجہ کی سہولت فراہم ہو گی کہنے لگا یہاں کوئی ڈاکٹر نہیں آئے گا اور پھر وہی ہوا شاید دو گھنٹے کے لیے یا شاید اس سے بھی کم کوئی وہاں ہوتا تھا۔
ڈڈیال کا خوفناک واقعہ پڑھنے کے بعد یہی سمجھ آیا کہ ہم سدھر نہیں سکتے ۔ یہ واقعہ ہو گا اور سب بھول جائیں گے پھر سے وہی چال چلن ہو گا ۔ حالت زار پر کیا رونا ابھی بھی ہر بندہ پاکستان بھیجا جاتا ہے ۔ لکھنے اور چھاپنے والوں کی عقل پر ماتم نہ کروں تو کیا کروں جن ماؤں کے بچے موت کی راہ پر ڈال دیے گےء ان کی تصاویر کے ساتھ لاشوں کا لفظ کیسے لکھ لیتے ہیں ؟ ان کی خون میں لت پت تصاویر کیسے چھاپ لیتے ہیں ؟ یہاں ڈڈیال نہیں ہم لوگوں کے ضمیر لہولہان ہیں ۔ جہاں خبر سنسنی اور موت فوٹو سیشن ہو چکی ہے ۔ ہم بے حس لوگ یہی کچھ کرتے رہیں گے ۔ واحد کاشر سے معذرت کے ساتھ ۔۔۔۔۔

Share this:

Related News

Comments are closed

Jobs: career@azadnews.co.uk
News: news@azadnews.co.uk
Enquiries: info@azadnews.co.uk
Tel: +44 7914314670 | 07588333181

Copyright 2015 © AZAD is a part of Indigo Marketing & Media Productions Ltd.
41 West Riding Business Center, BD1 4HR |08657270| England & Wales.