mANGLA fORT

منگلا قلعہ کو کھولا جائے

کشمیر کی تاریخ اور جغرافیائی اہمیت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا ۔ مہاراجوں ، مسلمان سلطانوں ، مغلوں اور سکھ مہاراجوں نے یہاں صدیوں حکومت کی ۔ صدیوں کی غلام قوم کوآج تک بیرونی طاقتوں سے نجات نہیں مل سکی ۔ قدرتی معدنیات ، در یاؤں سے مالا مال یہ سر زمین آج تک اپنے لوگوں کو بنیادی سہولیات نہیں دے سکی اور نہ ہی آج تک اپنے اندر موجود خزانوں اور تاریخی مقامات سے اپنے قوم کے حالات نہیں بدل سکی ۔ روبی کے ذخائر سے لے کر پانی کے انمول خزانے ہونے کے باوجود آج بھی اس خطے کی قوم دوسروں کی طرف دیکھتی ہے کہ شاید وہاں سے کوئی امداد آ جائے تو ہمارے حالات سنور جائیں ۔ ہر سال بارشیں ہوتی ہیں لینڈ سلائیڈنگ ہوتی ہے ۔ ہزاروں لوگ بے گھر ہو جاتے ہیں مگر حل کوئی بھی نہیں ۔ ہر سال لوڈ شیڈنگ کا جن ہماری آنے والی نسلوں کی صلاحیتوں کو کھا رہا ہے مگر کچھ نہیں ہوتا ۔ آزاد کشمیر میں بجلی کی کل ضرورت تقریبا390 میگا واٹ ہے مگر 5431میگا واٹ کی صلاحیت رکھنے والی سرزمین 16-20گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ برداشت کرتی ہے ۔ دن بدن جرائم کی بڑھتی شرح بے رو ز گاری ہے۔ حکومت چھوٹی چھوٹی اصلاحات سے روز گار کے مواقع بھی پیدا کر سکتی ہے اور جو چیز مانگنے کو نواز شریف کے پاس گئے تھے اس کا بھی انتظام ہو سکتا ہے ۔
کچھ دن قبل برطانیہ کے ایک قلعہ میں جانے کا اتفاق ہوا ۔ اسے دیکھ کر کچھ بچپن کی یاد تازہ ہو گئی جب ہم لو گ منگلا قلعہ جایا کرتے تھے ۔ گھر سے بس پر بیٹھنا اور منگلا پاور ہاؤس کے سامنے اتر جاتا اور وہاں سے پتھروں سے چڑھ کر قلعہ تک پہنچنا ۔ سارا دن وہاں گزارنا ۔ میوزیم دیکھنا کینٹین سے کھانا کھانا اور شام ہونے سے پہلے گھر آ جانا ۔ ہر عید اور ہر موقع پر وہاں پر کشمیر اور پاکستان بھر سے لوگ آتے تھے ۔ برطانیہ کے قلعہ کو دیکھا تو وہ منگلا قلعہ کا عشر عشیر بھی نہ تھا مگر اس میں موجود سہولیات کو دیکھ کر یہ احساس ہوا کہ ” منگلا قلعہ کا کیا قصور “ہے ۔ آج سے 12 سال قبل اس کو سکیورٹی کے نام پر بند کر دیا گیا تھا۔ قلعہ صرف سرکاری حضرات کی خاص آمد پر کھولا جاتا تھا۔ قلعہ سے تھوڑا پہلے ایک واٹر سپورٹس سنٹر بنایا گیا جس میں غریب آدمی کا داخلی تقریبا نا ممکن ہے ۔ یہ علاقہ بھی فوج کے کنٹرول میں ہے اور وہی یہاں کا کشتی رانی کا سارا نظام سنبھالتے ہیں ۔ مہنگا اور فوج کے پاس ہونے کی وجہ سے غریب آدمی اس طرف کم ہی رخ کرتا ہے وہ بوہڑ کالونی ، جڑی کس ، یا کھاڑک کی طرف جا کر منگلا ڈیم میں کشتی رانی کا شوق پورا کر لیتا ہے ۔
میرا مقصد صرف اتنا ہے کہ حفاظت کے نام پر اپنے تاریخی مقامات سے کشمیری قوم کو دور نہیں ہونا چاہیے ۔ منگلا قلعہ اور رام کوٹ قلعہ کو فوج یا کوئی بڑا ادارہ ریونیو حاصل کرنے کے لیے بھی استعمال کرسکتاہے۔مگر کم نرخوں پر۔ تاکہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ ان جگہوں کا رخ کریں اور ان کو تمام سہولیات میسر ہوں ۔ قلعہ میں لوگوں کے آنے جانے سے کافی بے روز گار لوگوں کو روز گار مل جائے گا ۔ پارکنگ سے لے کر قلعے کے اندر موجود میوزیم اور مختلف بزنسز کو وہاں پرکاروبار کی اجازت بھی دی جا سکتی ہے ۔ صنعتی نمائش جیسے عوامی پروگرام وہاں پر منعقد کیے جا سکتے ہیں ۔ لوگ فنکاروں کے حوصلہ افزائی کے لیے وہاں ایک آرٹ سپیس بھی بنائی جا سکتی ہے ۔ حفاظت اور لوگوں کی سیکورٹی تو ریاست کی ذمہ داری ہے ۔ CCTV کمیرے بھی لگائے جا سکتے ہیں ۔
ڈرون جہازوں کی مہارت تو اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی وہ فٹ پرنٹ تک پڑھ سکتے ہیں تو حساس اداروں سے بھی گزارش ہے کہ اس لوڈ شیڈنگ زدہ، بھوکی ننگی عوام سے قلعے کی سب سے اونچی دیوار پر کھڑے ہو کر تصویر کھینچنے کا حق تو نہ چھنیں ۔ منگلا قلعہ کو عام عوام کے لیے کھولیں تاکہ وہ بھی اپنی تاریخ کے بارے میں جان سکیں کیوں کی بھٹو پارک تو بھٹو صاحب کی طرح امر ہو چکا ۔

Share this:

Related News

Comments are closed

Jobs: career@azadnews.co.uk
News: news@azadnews.co.uk
Enquiries: info@azadnews.co.uk
Tel: +44 7914314670 | 07588333181

Copyright 2015 © AZAD is a part of Indigo Marketing & Media Productions Ltd.
41 West Riding Business Center, BD1 4HR |08657270| England & Wales.