galloway

الیکشن بریڈ فورڈ سکندر اعظم یا رضیہ سلطانہ

بریڈ فورڈ () برطانیہ بھر میں آج انتخابات کا دن ہے ۔برطانیہ بھر میں ووٹنگ کا سلسلہ صبح ۷ بجے سے لے کر رات ۱۰ بجے تک ہو گا ۔ مسلم اکثریتی شہر بریڈ فورڈمیں پارلیمانی الیکشن میں کل رجسٹرد ووٹروں کی تعداد 3,32,495 اور لوکل الیکشن میں تعداد 3,40,009 ہو گی ۔ برطانوی پارلیمان کے لیے بریڈ فورڈ کونسل سے پانچ امیدوارمنتخب کیے جائیں گے جن میں سے بریڈ فورڈ ایسٹ ، ویسٹ، ساؤتھ، شپلے اور کیتھلے کے حلقے شامل ہوں گے۔ بریڈ فورڈ کے لوکل الیکشن 30وارڈز پر مشتمل ہیں ہر وارڈ میں سے 3 کونسلرز کا انتخاب کیا جائے گا۔
دوسرے شہروں کی طرح بریڈ فورڈ بھی لیبر، کنزرویٹو اور لبرل ڈیمو کریٹ ہی مد مقابل ہوں گے ۔ 2011 الیکشن کے بعد لیبر پارٹی دن بدن کمزورہوتی گئی جس کا فائد ہ 2012کے ضمنی انتخابات میں ریسپکٹ پارٹی کے صدر جارج گیلوے کو ہوا ۔جنہوں نے 10,000کی لیڈ سے لیبر کے امیدوار عمران حسین کو شکت دی ۔ جو کہ ایک انہونی بات لگتی تھی کیو نکہ مارشا سنگھ کے بعد ویسٹ کی سیٹ کو لبیر کی مستقل سیٹ سمجھا جانے لگا تھا۔جارج گیلوے کی جیت ان کی پارٹی سے زیادہ ان کی شخصیت کے گرد گھومتی ہے ۔ ان کی جیت کی بڑی مسئلہ فلسطین کو برطانوی پارلیمنٹ میں اجاگر کرنا تھا۔ بریڈ فورڈ کی نوجوان نسل کو ان کا یہ کردار پسند آیا او ر انھوں نے “برادری”کی سیاست سے نکل کر اپنی مرضی سے ووٹ ڈالا۔ اس مرتبہ صورت حال یکسر مختلف ہے ۔ لوگوں کی کافی بڑی تعداد اب بھی گیلوے کے ساتھ ہے مگر 2012کے مقابلے میں ان کی کمپین کا زور قدرے کم ہے۔ اگر وہ جیت بھی جاتے ہیں تو انتہائی سخت مقابلہ کے بعدہی یہ ممکن ہو گا ۔ جارج گیلوے نے انتخابات میں چھ نکات پیش کیے جن کا تعلق براہ راست مسلم کمیونٹی سے ہے۔ بریڈ فورڈ میں موجود کشمیری کمیونٹی کی بڑی تعداد جارج گیلوے سے مسئلہ کشمیر کے بارے میں جاننے کی بھی خواہش مند ہے جن کے ووٹ کے وہ امیدوار ہیں ۔ عمران حسین اس دفعہ بریڈ فورڈ ایسٹ سے لبرل ڈیمو کریٹ ڈیوڈ وارڈ کے مقابلے میں امیدوار ہیں۔
جارج گیلوے کے مقابل لیبر پارٹی کی امیدوار ناز شاہ ہیں ۔ ناز شاہ ایک چیریٹی کوچلاتی ہیں ۔ اس سے پہلے وہ جارج گیلوے کی پارٹی کی رکن رہی ہیں ۔ ناز شاہ کا انتخاب لیبر پارٹی نے عجلت میں کیا یا سوچ سمجھ کہ اس کا جواب وقت ہی دے گا ۔ لیبر پارٹی کے بریڈ فورڈ ویسٹ سیٹ کو صرف خواتین کے لیے کرنے سے بہت سے” مرد امیدواروں” کے دل ٹوٹے ۔اس کی بڑی وجہ لیبر پارٹی کا وہنقطہ نظر تھا جس کی بنیاد پر انہیں لیبر پارٹی ایک ” برادری “کی جاگیر بنتی دکھائی دے رہی تھی ۔ اس بات کو لے کر لیبر کے پرانے لوگوں کو بے شمار تحفظات تھے۔ اگر انتخابات میں شکت ہو تی ہے تو ناز شاہ کی ذاتی زندگی سے زیادہ اس کی وجہ لیبر پارٹی کا Women Only کا فیصلہ اور لیبر پارٹی کے ناراض اراکین ہوں گے ۔ اگر ناز شاہ جیت جاتی ہیں تو بھی اس کا کریڈٹ ملک بھر میں چلنے والی لیبر پارٹی کی لہر کو جاتا ہے ۔ کیوں کہ ناز شاہ کو لوکل کمیونٹی کی طرف سے ان کی ذاتی زندگی پر کافی ٹف ٹائم مل رہا ہے اور ان کی کافی کردار کشی کی جا رہی ہے ۔جس کا ذکر سعیدہ وارثی نے بھی کچھ دن قبل کیا جو کہ ہمارے کلچر کا حصہ ہے ۔ لیبر پارٹی مسئلہ کشمیر پر حق خودارادیت کا کھل کے اظہار کرتی ہے ۔ مگر اس بات کو واضع کرنے سے قاصر ہے کہ وہ آزاد ریاست کے قیام کی حامی ہے یا الحاق پاکستان کی۔ 7 مئی کی رات بتائے گی میدان رضیہ سلطانہ نے مارا یا سکندر اعظم نے ۔
برطانیہ بھر میں لیبر، کنزریٹو اور لبرل ڈیمو کریٹس میں کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے ۔ کسی ایک پارٹی کی اکثریت کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا ۔الیکشن کی جیت کا انحصار ان ووٹروں پر ہو گا جنہوں نے ابھی تک ووٹ دینے کا فیصلہ نہیں کیا ۔ اپنی اپنی جگہ ڈیوڈ کمیرون اور ملی بینڈ 10 ڈاؤننگ سٹریٹ جانے کی بھرپور تیاری کر چکے ہیں ۔

Share this:

Related News

Comments are closed

Jobs: career@azadnews.co.uk
News: news@azadnews.co.uk
Enquiries: info@azadnews.co.uk
Tel: +44 7914314670 | 07588333181

Copyright 2015 © AZAD is a part of Indigo Marketing & Media Productions Ltd.
41 West Riding Business Center, BD1 4HR |08657270| England & Wales.