1560540_10202132648670793_671725174_n

“آزاد” کشمیر کی سیاست میں بکرے کی واپسی. شمس رحمان

گذشتہ دنوں آزاد کشمیر کے ایک ضلعے بھمبر میں مسلم لیگ نون کے کارکنان کے کنونشن میں کشمیر سے متعلقہ امور کے پاکستانی وزیر چوہدری محمد برجیس طاہر صاحب نے اپنی تقریر میں آزاد کشمیر کے موجودہ وزیر اعظم چوہدری عبدالمجید کے بارے کہا کہ وہ ایک پہاڑی بکرا ہے جس کو ذبح ہونے کے لیے تیار ہو جانا چاہیے۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ آئندہ الیکشن میں چوہدری مجید کو ہرا دیا جائے گا۔ پاکستانی وزیروں کی طرف سے آزاد کشمیری سیاستدانوں کو ہرانے اور ہٹانے کی دھمکیاں اور عملی اظہار کوئی ایسی نئی بات نہیں ۔ تاہم آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کو بکرا کہنا اور پھر اسے ذبح ہونے کے لیے تیار رہنے کی دھمکی دینا نئی بات ہے ۔
ہمارے کلچر میں بندے کو بکرے سے تشبیہ دینے کی روایت میری معلومات کے مطابق ایک لوک کہانی میں ملتی ہے ۔ اس کہانی کے مطابق بکروالوں کے ایک کنبے نے کسی گاوں کے نزدیک پراو ڈالا تو کنبے کے ایک بزرگ جمعے کی نماز پڑھنے گاوں کی مسجد میں گئے اور وہاں مولوی صاحب کے واعظ سے خاصے متاثر ہوئے۔ جب کسی نے پوچھا کہ مولوی صاحب کی کون سی ادا آپ کو اچھی لگی ہے تو معصومیت سے بولے کے جب مولوی واعظ کرو ہے تو اس کی داڑھی یوں ہلو ہے جیسے میرے بوچو بکرو کی ہلو ہے۔ اس لوک کہانی میں بکروال قبیلے کی ہتک مقصود نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں اکثر مولوی اور اب سیاسی لیڈروں کی تقریریں جب سنتے ہیں تو ان کے مندرجات نہیں بلکہ انداز پر توجہ دیتے ہیں اور اسی بنیاد پر پسند نا پسند کرتے ہیں۔ اور جس معصومیت سے بکروال بزرگ نے مولوی صاحب کے انداز کو سراہنے کے لیے اپنے بکرے کی مثال دی وہ بھی کوئی نہیں بات نہیں بلکہ اس حوالے سے ایک قدیم تاریخی حکایت بھی سینہ بسینہ سُننے کو ملتی ہے کہ ایک بار حضرت موسیٰ کا کسی جنگل سے گذر ہوا تو وہاں درختوں کی گھنی اور ٹھنڈی چھاوں میں آرام کرنے کے لیے ایک گڈریے کے پاس بیٹھ گئے۔ لیکن پیغمبر خدا ہونے کے ناطے ظاہر ہے وہ کبھی بھی تبلیغ سے غافل نہیں رہتے تھے لہذا باتوں باتوں میں گڈریے سے پوچھا کہ تمھیں معلوم ہے کہ یہ خوبصورت گھنے درخت، یہ ٹھنڈی ہوا اور یہ رم جھم کرتے ٹھنڈے میٹھے چشمے یہ چہکتے پرندے ، تمھاری یہ بھیڑ بکریاں اور خود تمھیں کس نے تخلیق کیا ہے۔ گڈریے جس کا باہر کی دنیا سے شاید کوئی رشتہ و رابطہ نہیں تھا نے جواب دیا کہ نہیں مجھے نہیں معلوم۔ حضرت موسیٰ نے اس کو بتایا کہ یہ سب کچھ خدا نے بنایا ہے۔
گڈریا بے حد خوش ہوا اور بولا اگر خدا میرے پاس آئے تو میں اس کی جویں نکالوں گا۔ حضرت موسیٰ نے قدرے خفا ہوتے ہوئے کہا خدا کے بارے میں ایسا نہیں کہتے ۔ اسی وقت خدا کی طرف سے پیغام آیا موسیٰ اس پر خفا نہ ہو اس کے لفظوں پر نہ جاو ان لفظوں کے اندر موجزن جذبے کو پہچانوں۔ اس گڈریے کے پاس پیار اور شکر کا اظہار کرنے کے لیے یہی الفاظ ہیں۔ اس کو جو بھیڑ بکری پیاری لگتی ہے یہ اس کی جویں نکالتا ہے۔ حضرت موسیٰ نے اس کو اظہار تشکر کے لیے توریت کی کچھ آیات بتائیں اور خدا کی تسبیح کرتے ہوئے اپنے سفر پر آگے نکل گئے۔
ان دونوں حکایات میں معصومیت سے پیار کا اظہار کرنے کے لیے بکرے کو استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن کشمیر میں بکرے کے ہتک آمیز استعمال کی تاریخ بھی موجود ہے۔ اس کی اولین مثال جدید عوامی سیاست کے ابتدائی آیام میں ملتی ہے جب وادی کشمیر میں مسلم کانفرنس کے کارکنان نے اپنے لیڈر شیخ عبداللہ کو شیر اور شیخ عبداللہ کے مخالف مولوی محمد یوسف کے حامیوں کو بکرا قرار دے دیا اور پھر شیر اور بکرے کی اصلاحات سیاست میں عام ہو گئیں۔
آزاد کشمیر میں بکرے کے ہتک آمیز استعمال کی روایت غالباًستر کی دھائی میں خود مختار کشمیر کے حامی کارکنان نے شروع کی اور سردار عبدالقیوم جن کو خود مختار کشمیر کا سخت مخالف اور مولوی محمد یوسف کی مسلم کانفرنسی فکر کا پرچارک سمجھا جاتا تھا کو ہتک آمیز انداز میں بکرا کہنا شروع کر دیا اور اس مناسبت سے بکرا بکرا ٹھاہ بکرا کا نعرہ کالجوں میں گونجنے لگا اور در و دیوار پر نظر آنے لگا۔
لیکن اب جو پاکستان کے وزیر برجیس طاہر جن کو خود مختار کشمیر والے برطانوی کالونیل نظام کی مناسبت سے واسرائے بھی کہتے ہیں کی طرف سے آزاد کشمیر کے وزیر اعظم چوہدری عبدالمجید کے بارے میں جو زبان استعمال کی گئی ہے اس کا تناظر مذکورہ بالا معصومیت اور ہتک کے تناظر سے الگ اور قدرے شدید بھی ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم آزاد کشمیر کی نہ صرف ہتک کی بلکہ انہیں ذبح ہونے کے لیے تیار رہنے کی دھمکی بھی دی ہے۔ اس میں ایک اور فرق یہ ہے کہ اب بکرے کا ہتک اور دھمکی آمیز استعمال پاکستانی وزیر نے آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کے خلاف کیا ہے۔ دوسرے یہ کہ برجیس طاہر پاکستان کی سیاسی جماعت نون لیگ کے ہیں اور چوہدری مجید کا تعلق پاکستانی جماعت پیپلز پارٹی سے ہے۔ یوں اگرچہ دونوں پاکستانی جماعتیں ہیں لیکن ان کی آزاد کشمیری شاخوں میں منفرد کشمیریت اور آزاد کشمیری انفرادیت کا عنصر واضح طور پرموجود ہے یوں آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کو بکرا کہہ کر انہوں نے کم از کم وزیر اعظم کے منصب کی توہین کا ارتکاب کیا ہے۔
جمہوری سیاست جیسی بھی ہو اس میں مخالفین پر شدید سے شدید تنقید تو سب کا جمہوری حق ہوتا ہے لیکن مخالفین کی ہتک کرنا اور وزیر اعظم کے منصب کو ہتک اور خون آمیز دھمکی دینا کسی بھی طرح سے جمہوری حق کے زمرے میں نہیں آتا ۔
برجیس طاہر نے جو زبان استعمال کی ہے اگر اسے حضرت موسیٰ کو خدا کی طرف سے ملنے والی ہدایت کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس کی ایک توضیح تو یہ ہو سکتی ہے کہ ان کے علمی خزانے میں اپنی سیاسی بصیرت کے اظہار کے لیے شاید یہی الفاظ ہیں لیکن اس میں موجزن جذبات کو پہچانا جائے تو اس میں کوئی معصومانہ جذبہ نظر نہیں آتا بلکہ ہتک ، نفرت ، احساس برتری، آمریت اور غاصبانہ سوچ و فکر کے جذبات موجزن نظر آتے ہیں۔
اس کو ایک اور پہلو سے دیکھیں تو بکرا ایک حلال پالتو جانور ہے جو بے چارہ پیدا ہی ذبح ہونے کے لیے ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے مجید صاحب کی طرف سے کسی قسم کے احتجاج اور بغاوت کی توقع شاید کسی کو بھی نہیں ہو گی کیونکہ ان سے بہتر یہ فن کس کو آتا ہے کہ طاقت کے سرچشمے کے سامنے ماتھا ٹیک دینے اور نذر ونیاز کرنے سے ہی اقتدار کی دیوی مہربان ہوکر فیض یاب کرتی ہے۔
لیکن بکرے کو ذبح کرنے والے کو قصائی کہا جاتا ہے اور قصائی اگرچہ دیگر پیشوں ہی کی طرح ایک پیشہ ہے لیکن بڑا ہی خون آشام پیشہ ہے۔ بے شک دولت کے لیے طاقت حاصل کرنے کی سیاست بھی ایک خون آشام پیشہ ہے اور دنیا بھر میں اس پیشے میں روز کتنے ہی ذبحیے ہوتے ہیں لیکن ایک بات جو آزاد کشمیر کے تمام سیاسی لیڈروں اور سیاست میں دلچسپی رکھنے اور اس میں سرگرم تمام جماعتوں کے کارکنان کو خوب یاد رکھنی چاہیے کہ قصائی صرف بکرے ہی ذبح نہیں کرتے وہ امن کے زمانے میں سب حلال جانوروں کو ذبح کرتے ہیں اور کسی بحرانی صورت حال میں جب حلال جانور کم پڑ جائیں تو مکروہ اور حرام میں بھی تمیز نہیں کرتے۔ آج اگرپہاڑی بکرا ذبح ہوا تو کل پہاڑی دُنبے ، لیلے ، گائیاں و بھینسیں اور اگر خدانخواستہ کوئی ہنگامی یا بحرانی صورت حال پیدا ہوئی تو گھوڑے اور گدھے بھی نہیں بچیں گے۔ اس لیے ابھی وقت ہے کہ ایک دوسرے کی مخالفت اور کمشنوں اور اقتدار کی ہوس میں اپنی اپنی جماعتوں کے پاکستانی وزیروں کے دماغوں میں یہ تاثر مت بھرو کہ وہ ‘آزاد’ کشمیر کے وائسرائے، مہاراجے، نواب اور نظام ہیں کیونکہ کل جب ان کی گرفت مضبوط ہو جائے گی تو پھر وہ آپ کو کمشن بھی نہیں دیں گے۔ سٹیٹ سبجیکٹ ختم کر کے وہ خود ہی مالک و مختار بن جائیں گے اور آپ اگر آج اپنے اس خطے کے عوام کو شہری کے درجے پر نہیں اٹھنے دو گے تو کل آپ بھی رعایا کے درجوں پر آجاو گے۔ ابھی وقت ہے پاکستان سے اپنے رشتے کو بادشاہت ، آمریت اور جاگیردارانہ تسلط کی اندھی راہوں سے موڑ کر جمہوری راستوں پر ڈال لو۔
اس وقت تک صرف سردار عتیق صاحب یہ بات سمجھ سکے ہیں جنہوں نے پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف صاحب جن کے اباواجداد اسی پہاڑی سلسلے اور وادیوں سے اٹھ کر گئے ہیں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے وزراء کو کم از کم بات کرنے اور منتخب نمائندوں کے منصب کا احترام کرنے کی تمیز تو سکھائیں۔
میرے خیال میں آزاد کشمیر کے دیگر سیاستدانوں بشمول نون لیگ کی قیادت کو ایک زبان ہو کر اس ہتک اور دھمکی آمیز زبان کے استعمال پر برجیس طاہر کی کھلے عام مذمت کرنی چاہیے اور درحقیقت ان کے استعفے کا مطالبہ کرنا چاہیے ۔ لیکن میں یہ بھی سوچ رہا ہوں کہ شاید سب ہی سیاستدانوں کے زخیرے میں مہذب الفاظ ہی نہیں یا شاید وہ سمجھتے ہیں کہ آزاد کشمیر کے ان پہاڑیوں کو جذباتی کرنے کے لیے اسطرح کی زبان ہی موثر رہتی ہے؟ اور ان الفاظ سے شاید کسی کو ہتک محسوس ہی نہیں ہوئی؟

Share this:

Related News

Comments are closed

Jobs: career@azadnews.co.uk
News: news@azadnews.co.uk
Enquiries: info@azadnews.co.uk
Tel: +44 7914314670 | 07588333181

Copyright 2015 © AZAD is a part of Indigo Marketing & Media Productions Ltd.
41 West Riding Business Center, BD1 4HR |08657270| England & Wales.